آزادکشمیرحسین مقام موہلی آبشار کی ان کہی داستان

تاریخ اور حسن کا خوبصورت ملاپ ہیں جہاں صدیوں پرانے قلعے اور منادر بھی ہیں اور ذیلی وادیوں میں چشمے، آبشاریں، جھرنے، دریا اور سر سبز چراگاہیں بھی ہیں۔کہتے ہیں پیار کے بغیر تو زندگی ممکن ہے،

پر پانی کے بغیر نہیں اور ایک بار جبران خلیل جبران نے کہا تھا کہ پانی کے ایک ایک قطرے میں بحر بیکراں پوشیدہ ہوتا ہے اور پانی تو کشمیر کی رگ رگ میں بہتا ہے، ہر موڑ پر کوئی چشمہ ہے جو آپ کو دعوت نظارہ دے رہا ہے۔ تھوڑی ہمت جمع کیجئے اور اتر جائیں۔

وادی کشمیر کے دس اضلاع میں سے ایک کوٹلی ہے جو کئی ایک ذیلی وادیوں کا کوہستانی گلدستہ ہے، ہے تو یہ زیریں کشمیر اور بہت زیادہ بلندی پر بھی نہیں پر کھوئی رٹہ کے چیڑ کے جنگل ایک خوش کن احساس ہے کہ آپ چیڑ اور پائن کے ماحول میں رچے بسے جا رہے ہیں۔ ہوائیں مدھر سُر بکھیرتی ہیں اور پکھیروں تال ملاتے ہیں، کوٹلی تاریخ اور حسن کا خوبصورت ملاپ ہیں جہاں صدیوں پرانے قلعے اور منادر بھی ہیں اور ذیلی وادیوں میں چشمے، آبشاریں، جھرنے، دریا اور سر سبز چراگاہیں بھی ہیں۔

اگر پنجاب سے کشمیر کی جانب سفر کریں تو کوٹلی کے گل پور قصبے کے جنوب میں (کوٹلی میر پور روڈ پر) واقع موہلی آبشار ایک مثالی جگہ ہے جو سیاحوں خوش آمدید کہتی ہے۔ گل پور صدیوں سے ایک پہاڑی خوابیدہ قصبہ تھا اب دیوہیکل مشنیری اس کو مسلسل جگائے رکھتی ہے کہ 2014 گل پور ہائیڈرو پراجیکٹ ساتھ لایا جو 2018 میں تکمیل کے ساتھ 100 میگا واٹ کی توانائی کا منبع ہوگا- قصبے سے تین چار کلو میٹر کی مسافت پر موہلی پل آتا ہے بس اسی سے نیچے اتر جائیں۔

اگر تو ذاتی سواری ساتھ ہے تو پل کے آس پاس اسکو پارک کرنا پڑے گا کہ یہ یاترا پیروں کو تھوڑا سا زحمت دیتی ہے اور آپ جیسے ہی سڑک سے نیچے اترتے ہیں تو خود کو ایک سر سبز منظر کا حصہ بنا دیکھتے ہیں- اگر تو آپ ساون بھادوں میں موہلی آبشار کی راہداریوں میں اترتے ہیں تو آپ دھنی ہیں کیونکہ موہلی نالہ ایک چراگاہ کا منظر پیش کرتا ہے


اور آپ ننھے ننھے سفید، گلابی، پیلے اور جامنی پھولوں کو تکتے آبشار کا سفر کرتے ہیں جو سڑک سے ایک کلومیٹر سے زیادہ ہرگز نہیں۔ آبشار جہاں بہتی ہے وہاں نہ صرف لینڈ اسکیپ وسیع ہوتی ہے بلکہ آپ کی خوشیوں کا کینوس بھی وسعت انگیز ہوجاتا ہے اور آپ ایک کائناتی خاموشی کے ساتھ آبشار کے دھارے اور کنارے بیٹھ کر اسکی جلترنگ سنتے ہیں-

یوگی بابا کہہ گئے تھے کہ آوارہ گرد کبھی آبشار کنارے باتیں نہیں کرتا بس آبشار کو سنتا ہے اور آبشار کو ان کہی سے سناتا ہے اور اپنے بڑھاپے اور اکلاپے کی یادیں اکھٹی کرتا ہے۔ جہاں آپ بیٹھے ہیں، زرا غور سے دیکھئے کہ ہر طرف جو پتھر آپ کو نظر آ رہے ہیں وہ پانی کی دھار سے کیسے ملائم ہوچکے ہیں، شاید ہی کوئی کاریگر پتھروں کو ایسا ملائم کرسکے۔

موہلی آبشار بھی دو آبشاروں کا ایک جوڑا ہے کہ پہلی آبشار ایک تالاب بناتی ہے اور تھوڑا آگے تالاب ایک اور آبشار کو جنم دیتا ہے، اور پھر یہ دو آبشاروں اور دو تالابوں کے سوہنی ماہیوال اپنا آپ پونچھ دریا میں بہا دیتے ہیں۔

پونچھ دریا برفیلے ہمالیہ کے پیر پنجال حصے سے اٹھان لیتا ہے، یہ دریا سیاسی یا انتظامی تقسیم سے نابلد ہے اسی لئے کسی شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا ویزا کی پرواہ کئے بغیر بھارتی مقبوضہ کشمیر سے اپنے پورے شوروغل کے ساتھ پاکستانی کشمیر میں داخل ہوتا ہے اور اپنا آپ منگلا ڈیم کی جھیل میں خالی کرکے بے انت پھیل جاتا ہے۔

اب جب سامنے ایسا حسین، ٹھنڈا آبشاروں کا پانی ہو تو نہانے کا دل کس کا نہیں کرتا، بس احتیاظ لازم ہے کہ ان پتھروں پر سنبھلنا مشکل اور پھسلنا آسان ہے۔