Syed Zahid Hussain Naeemi

اجالا/سید زاہد حسین نعیمی

شام پر امریکی حملہ

بالآخر وہ دن آ گیا جس کا امریکا کو بڑی بیتابی سے انکار تھا، یعنی وہ دن جب امریکا شام پر حملہ کرکے اپنی حسرت پوری کرے گا۔ چند دن پہلے شام کے علاقہ دوما جو باغیوں کے زیرکنٹرول ہے، پر کلورین گیس کا حملہ ہوا تھا۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ حملہ شام فوج نے کیا ہے۔

پوری مغربی میڈیا اسے شامی حکومت کی کارستانی قرار دیتا ہے، جبکہ اس سے پہلے بھی علاقوں جن پر شدت پسند تنظیم داعش کا قبضہ سے کیمیائی گیس کا استعمال ہوا تھا، امریکا اور اُس کے اتحادیوں نے اُس وقت بھی دعویٰ کیا تھا کہ یہ حملہ شامی فورسز نے کیا ہے، بلکہ اس حملے کو شامی حکومت نے رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کارستانی امریکا کی ہے۔ اُس کی حمایت یافتہ تنظیمیں فورسز ایسے حملے کرکے شامی حکومت کے کھاتے میں ڈال رہی ہیں۔ ابھی جو دوما میں حملہ ہوا ہے، اس سے بھی شامی حکومت انکاری ہے۔ جبکہ روسن بھی کہہ چکا ہے کہ شامی فوج نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ یہ کیمیائی گیس کا حملہ شامی حکومت نے کیا یا نہیں کیا یہ تو تحقیق کے بعد ہی معلوم ہو تا کہ اس کے پیچھے کون ہے؟ امریکا یا کوئی اور؟ لیکن یہی وہ حملہ ہے جو امریکا نے جواز بنا کر شام پر حملہ کر دیا ہے۔

ابھی چند دن پہلے امریکا نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے شام کو سبق سکھانے کی منصوبہ بندی کی تھی، لیکن روس نے امریکا کی طرف سے پیش کردہ شام کے خلاف اس قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا، جس کے بعد امریکا نے فرانس اور برطانیہ کو ساتھ لے کر شام پر حملہ کو آخری شکل دے دی تھی۔ امریکا بحری بیڑا 2002ء کے بعد پہلی بار حرکت میں تو آیا، یہ امکان قوی ہو گا کہ اب امریکا شام پر حملہ کرے گا، چنانچہ اس جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کو شام پر حملہ کر دیا ہے

امریکی حکومت کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم اس حملے میں شام کے کیمیائی اسلحہ کے ٹھکانوں اور دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ فرانس اور برطانیہ امریکا کے ساتھ ہیں۔ ہر ایک کا اپنا ایجنڈا ہے۔ کوئی کیمیائی ہتھیاریوں کے استعمال کے خلاف ہے تو کوئی شامی حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ جب تک داعش کا خاتمہ نہیں کر دیا جاتا، امریکی فوج شام میںرہے۔ اس وقت شام بھی تین حصوں میں تقسیم ہے۔ شامی حکومت ایران اور روس کی مدد سے شام کے زیادہ حصے پر قابض ہے اور اپنی رٹ بحال کر چکی ہے، جبکہ کرد علاقوں میں کردوں کی امریکا پشت پناہی کر رہا ہے۔ امریکا کے دو ہزار فوجی کردوں کی مدد کر رہے ہیں، لیکن کرد شامی حکومت کے بجائے ترکی کو زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔ ترکی ایک طرف شامی حکومت کے خلاف ہے تو دوسری طرف کردوں اور شدت پسند تنظیموں داعش وغیرہ کو بھی خطرہ سمجھتا ہے۔

عملی طور پر شامی حکومت امریکی حمایت یافتہ کرد اور مذہبی شدت پسند داعش وغیرہ تین حصوں میں شام تقسیم ہو چکا ہے اور اس کی تقسیم کی صورت حال عراق سے کچھ مختلف نہیں۔ امریکا، فرانس اور برطانیہ جن کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے، وہ روس اور ایران کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کچھ بھی کر سکتے ہیں، ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ چنانچہ کیمیائی اسلحہ کا بہانہ بنا کر امریکا نے پوری دنیا کو بیوقوف بنایا اور عراق پر حملہ کر دیا، پھر یہی بہانہ بنا کر اُس نے لیبیا پر حملہ کیا اور اب پھر کیمیائی اسلحہ کا بہنا بنا کر اُس نے شام پر بھی حملہ کرکے اپنی درینہ خواہش پوری کی ہے۔

شام بحران میں پانچ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ابھی چند دن پہلے سینکڑوں افراد مع بچے اور عورتیں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک چھوڑ کر لوگ ہجرت پر مجبور ہیں۔ تاریخی عمارات کوتباہ کر دیا گیا ہے۔ امریکا، اسرائیل، کرد، ترکی، داعش خود شامی حکومت کے ہاتھوں صرف اور صرف شامی عوام موت کی آغوش میں جا رہی ہے۔ ایران اور روس بھی اس تباہی میں برابر کا شریک ہے۔ خطے کی صورت حال انتہائی مایوس کن ہے۔

خود روس بھی امریکا کے سامنے کھڑا ہونے سے قاصر ہے۔ امریکا کو لگام دینے والا کوئی نہیں، شامی حکومت کا سیاسی کردار بھی کوئی مثبت نہیں رہا۔ اسرائیل کا شام کیا خود عرب لیگ کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ اسرائیل ایک طرف شامی، دوسری طرف مصر اور تیسری طرف اردن اور چوتھی طرف لبنان اور فلسطین کو بھی اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنا رہا ہے۔ اسرائیل اب مسلسل شام پر حملے کر رہا ہے، اُسے بھی برائہ راست شام پر حملے کرنے کی شہ ملی ہے۔ حالانکہ شامی حکومت کافی حد تک اسرائیل کے مفاد میں ہی تھی، عرب ممالک کا اپنا کوئی حال نہیں۔ سعودی عرب خود اسرائیل کے لئے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ وہ امریکا کا بغل بچہ ہے اور خود شام کے خلاف ہے۔ وہ خطے میں ایران کے اثرورسوخ سے خائف ہے۔ عراق، لیبیا، افغانستان، امریکا کے پہلے نشانہ بن چکے ہیں۔ امریکا کوتسلیم بھی کیا ہے کہ عراق اور لیبیا میں کیمیائی اسلحہ کا بہانہ بنایا گیا تھا، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔

افغانستان کی جنگ بھی امریکا کو بہت منگی پڑی ہے۔ وہ اب طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتا ہے، عراق اور لیبیا کے برعکس شام میںصورت حال مختلف ہے۔ اگرچہ امریکا شام پر حملے کے لئے بیتاب تھا۔ اُس کی یہ خواہش پوری ہوئی، لیکن یہاں امریکی مفادات کو سخت دھچکا لگے گا، یہ وقت بتائے گا کہ کہ اسرائیل کسی صورت یہ نہیں چاہتا کہ اس کے دائیں، بائیں جو پڑوسی ہیں وہ کسی بھی لحاظ سے اُس کے لئے دردِسر بنیں۔ لہٰذا وہ ان عرب ملکوں میں ایسے کمزور حکمرانوں کا خواہشمند ہے جو صرف اپنی دال روٹی کے لئے بھی اسرائیل کے مرہون منت ہوں۔

داعش اور القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کی بالادستی ان کے لئے چیلنج بن سکتی ہے۔ اس لئے شام کو ڈرا دھمکا کر روس، ایران، ترکی کو پیغام دینا مقصود ہے کہ وہ اپنے کام سے کام رکھیں۔ ابھی چند عرصہ پہلے روس، ترکی، پاکستان اور چین ایک بلاک کی سوچ رہے تھے۔ معاشی و اقتصادی طور پر ان ممالک کا آپس میں مربوط ہونا ضروری تھا، امریکا کبھی بھی نہیں چاہتا کہ اُس کے مقابلے میں کوئی اور سامنے آئے۔ لہٰذا روس اور چین کو بھی پیغام ہے کہ وہ ایسے خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔

بہرحال آئندہ چند دنوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی کہ امریکا کے جواب میں روس کیا کرتا ہے؟ اگر روس کوئی کردار ادا کر سکتا ہے تو امریکا کی بالادستی کو کچھ لگام مل سکتی ہے۔ ورنہ تباہی مسلمانوں ہی کی ہو گی۔ اس وقت امریکا کو لگام دینا بہت ضروری ہو چکا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے عالم اسلام میں دور دور تک کوئی نظر نہیں آتا جو اس بتاہی سے بچائے۔ مسلمان حکمران صرف اپنی خیر منانے کی دُعائیں کر رہے ہیں اور افغانستان، عراق، لیبیا کے بعد اب شام کی تباہی اور بربادی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔ اس حملے کا عملی نمونہ بنے ہوئے ہیں۔ ’’آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا‘‘