نقطہ نظر/صائقہ خان

توہین عدالت یا توہین انسانیت

مجھے ن لیگ سے سیاسی اختلاف ہے اور مجھ سمیت میری فیملی میں آج تک کسی نے ن لیگ کو ووٹ نہیں دیا۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنے مخالف جس کو جائز یا ناجائز جیسے بھی اللہ نے عزت دی ہے

اس کی توہین کروں اللہ پاک قران پاک میں فرماتے ہیں کہ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی ہےآدم علیہ السلام کی اولاد کا ہر شخص چاہے وہ نیک ہو یا بد عزت کے قابل ہے بھلے وہ ہمارا کتنا بڑا مخالف ہو ہم پر لازم ہے کہ ہم اس کی عزت کریںدو دن قبل لاہور میں عدلیہ نے جس طرح ن لیگی منسٹر کو عدالت میں بلا کر زلیل کیا ہے۔

اس رویہ کی حمایت وہ لوگ کر رہے ہیں جن کے اپنے رویے غیر جمہوری ہیں جب منصف کے مزاج میں گھمنڈ اور لہجے میں خدا بولنا شروع ہو جاے تو انصاف کی توقع نہیں رکھنی چاہیےجب منصف کی آواز فریادی کی آواز سے اونچی ہو جاے تو انصاف نہیں ہوتا۔

یہ وہ ملک ہے جس میں لاکھوں بے گناہ افراد کو شہید کیا جاتا ہے اور دہشتگرد تنظیمیں زمہ داری بھی قبول کرتی ہیں لیکن منصف کو کبھی جرات نہ ہوئی کہ پوچھیں یہ کالعدم تنظیمیں ملک میں کس طرح کام کرتی ہیں اور ان کی پشت پناہی کون کرتا ہے۔

اس ملک میں دادا کا مقدمہ پوتوں تک پہنچ جاتا ہے لیکن انصاف نہیں ملتا ۔فیصلوں کے انتظار میں کئی ملزم جیل میں ہی مر جاتے ہیں ۔مجھے یہ شکایت نہیں کہ آپ نواز لیگ کے کسی منسٹر کو زلیل کر رہے ہیں ۔

مجھے یہ شکایت ہے کہ آپ انسانیت کی تذلیل کر رہے ہیں جج صاحب چاہے وہ تذلیل جیل میں انتظار کرتے ملزم کی ہو لاکھوں بے گناہ افراد کے خون کی ہو یا کسی “ٹارگٹ” کی گئی جماعت کے وزیر کی ہو یہ تذلیل انسانیت کی تذلیل ہے جو بحثیت ایک منصف آپ کو نہیں کرنی چاہیے ۔

آپ کو انگریزوں کا بنایا قانون “توہین عدالت ” تو یاد ہے لیکن میرے اللہ کا حکم یاد نہیں اس لیے “توہین انسانیت” پر کمربستہ ہیں اپنی اداؤں پر بھی غور کیجیے