درزنداں/امجد شریف

ویلڈن سٹیٹ ویوز 

 سید اقبال قادری لکھتے ہیں کہ ’’صحافت ایک ہنر ہے ایک فن ہے یہ ایسا فن ہے جس میں تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال ہوتا ہے۔‘‘کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ صحافت اور ادب دو الگ الگ شعبے ہیں لیکن اس طالب علم کے نزدیک صحافت ادب کا ہی ایک حصہ ہے۔

ادب اور صحافت کے درمیان ایک واضح خط ہوتے ہوئے بھی کئی ایک امور میں دونوں  مشترک ہیں۔مگر افسوس سے اب یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ میرے جیسا نالائق بندہ کہ جس کا صحافت سے کوئی دور دور کا واسطہ نہیں وہ بھی صحافت کے اس گرتے معیار کو محسوس کر رہا ہے۔میں نے کئی پڑھا تھا کہ آزادی صحافت اور آزادی نسواں میں کوئی فرق نہیں ان دونوں کے ساتھ لفظ ’’آزادی‘‘ لگا کر انہیں بے لباس کردیا گیا ہے۔ صحافت کا مقصد ریاست اور اس کے اداروں اور حکومت کو عوام کے ساتھ جوڑنا ہے۔

حقائق پر مبنی خبر کو عوام تک پہنچانا صحافت کا اہم اصول ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ صحافت میں جدت آتی گئی اور ٹیکنالوجی نے جب دنیا کو سمیٹ کر رکھ دیا تو صحافت کی دنیا میں بھی انقلاب آئے لیکن ہمارے ہاں اس میں کسی حد تک جدت تو آئی لیکن اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے لگا،ذاتی حملے ہونا شروع ہوئے طبقاتی جنگ نے جلتی پر تیل کا کام کیا،خبر اور اخبار کا معیار ایسا بدلہ کہ ظلم وہی تصور کیا جانے لگا جو آپ کے ساتھ ہو آپ کے سامنے دو سو لاشیں گری کیونکہ وہ آپ کے پیاروں کی نہیں اس لیے یہ دکھ بھی آپ کا نہیں…

پیسٹر مارٹن (Pastor Martin)نے جنگ عظیم دوم کے لیے کہاتھا کہ پہلے وہ کمیونسٹ کیلئے آئے،میں چپ رہا،اس لیے کہ میں کمیونسٹ نہیں تھا۔پھر وہ سوشلسٹ کیلئے آئےمیں چپ رہا،اس لئے کہ میراتعلق سوشلسٹ سے نہیں تھا۔اس کے بعدوہ ٹریڈیونینسٹ کیلئے آئے،میں چپ رہا ،اس لئے کہ میراتعلق ٹریڈنیسٹ سے نہیں تھا۔پھروہ یہودیوں کے لیے آئے، میں تب بھی خاموش رہا،کیوں کہ میں تویہودی بھی نہ تھا۔پھروہ میرے لیے آئے، اوراب وہاں میرے حق میں بولنے والاکوئی نہ بچاتھا۔”

 میڈیا مالکان کی اپنی کچھ مجبوریاں ہوں گی لیکن سدا کی خاموشی اوریہ مسئلہ ہمارا نہیں، یہ جنگ میری نہیں، یہ دکھ بھی تو ہمارے ساتھ والے کا ہےہمارا نہیں کے رویئے نے بہت سے شک وشبہات کو جنم دیااور ملک کے سنجیدہ طبقے کو ایک عجیب وغریب قسم کی بے چینی واضطراب کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ملک میں کسی درجہ جو میڈیا ہاوس بغیر کسی دباؤ کیساتھ کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کسی خاص فکر اور نظریہ کی ترجمانی سے آزاد ہوکر کام کر رہے ہیں ان کیلئے راہیں تنگ ہوتی چلی جا رہی ہیں، اس سب کے باوجود مایوسی اور نہ امیدی نہیں کیوں کہ جہاں خوف ہوتا ہے وہاں۔امید بھی ہوتی ہے۔

بے حسی کی اس فضاء میں چھوٹی سطح سے شروع ہونیوالا سٹیٹ ویوز کے نام جدید میڈیا ڈیجیٹل نیٹ ورک جوابھی  ابتدائی مراحل سے گزررہا ہے اور ادارہ اس سے وابستہ افراد کے کام کو دیکھ کر کچھ حوصلہ مل رہا ہے،کوئی امید جاگ رہی ہے،کہ دورِ حاضر میں ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے باعث ہونے والی معاشرتی تبدیلیوں نے میڈیا کی اہمیت میں جو اہم ترین کردار ادا کیا ہے اس کوسٹیٹ ویوز کے ذمہ دار محسوس کر رہے ہیں۔

مجھے سب سے تو تعارف نہیں لیکن سید خالد گردیزی،کاشف میر اور شہزاد خان کے کام اور ان کی غیر جانبداری اور عزم وحوصلے پر کوئی تبصرہ کم ازکم یہ طالبعلم نہیں کر سکتا، لیکن یہ سوال اپنی جگہ ابھی بھی موجود ہے کہ جب تک معاشرے کا ہر فرد اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرتا اس وقت تک میڈیا بھی آپ کا معاون نہیں بن سکتا، معاشرے کے ہرطبقے کیلئے ضروری ہو چکا ہے کہ وہ اپنے پیغام اور نظریات سے آگاہی اور ان کے فروغ کیلئے ذرائع ابلاغ کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لائے۔

یہ حقیقت ہے کہ آج کے دور میں صرف وہی اقوام اور نظریات عالمی منظر نامے پر حاوی نظر آتی ہیں جو میڈیا کے میدان میں بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔ اگر ہم نے دور جدید کے تقاضوں کو محسوس نہ کیا تو پھرآزادی تو دور کی بات ہم غلامی کی کسی بدترین صورت میں بھی زندہ نہ رہ پائیں گے۔