پیش رفت/عمر منہاس

تخت مظفرآباد خطرے میں!

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر جس طرز حکمرانی کے خلاف تھے اپنے اردگرد بڑے ’کاریگروں‘ اور دعوئوں کے برعکس اسی کو اختیار کرنے پر مجبور ہوئے اور بے بسی کی تصویر بن گئے۔ستمبر 2016ء کی بات ہے جب راجہ فاروق حیدر وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعدپہلی بار اپنے آبائی سب ڈویژن چکار تشریف لائے اور ایک جلسہ عام کے دوران جوش خطابت میں یہ کہہ بیٹھے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے آزاد کشمیر کابینہ میں توسیع نہیں کروں گا، 12 وزراء کے ساتھ ہی حکومت چلائوں گااور جس دن بھی 12سے زائد وزیر ہوئے گھر چلا جائوں گا، کسی سے بلیک میل نہیں ہو ں گاکیونکہ زیادہ وزیرقومی خزانے پر بوجھ ہیں اور میں عوام پر یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔

اگر ہم نے بھی چوہدری عبدالمجید اور سردار یعقوب خان والی سیاست اورحکومت کی توہمارا حشر ان سے بھی برا ہوگا۔ ۔۔تاہم14 اپریل 2018ء کو وزراء کی تعدا د 20 ہو گئی اور ’بلیک میل نہیں ہوںگا گھر چلا جائوں گا‘ کے دعویدار وزیراعظم اپنے ہی دعوئوں سے نہ صرف منحرف ہوئے بلکہ چوہدری عبدالمجید اور سردار یعقوب خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، خزانے پر مزید بوجھ ڈالتے ہوئے اور اپنی کرسی بچانے کے لیے بلیک میل بھی ہوئے۔اب اگلے مرحلے میں فلیگ ہولڈر مشیر بھی بنائے جائیں گے ۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین چوہدری محمد اسحاق اور معائنہ کمیشن کے چیئرمین کرنل (ر) وقار نورکے وزیر بننے سے خالی ہونے والے عہدے پر ہونے کے بعد آزاد کشمیر میں فلیگ ہولڈرز کی تعداد 31 تک پہنچ سکتی ہے اور یوں نئے وزراء کی کابینہ میں شمولیت سے ریاستی خزانے پر تقریباً2ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گالیکن 10مسلم لیگی ممبران اسمبلی کی وزراء کی تقریب حلف برداری میں عدم شرکت سے ایسے محسوس ہو رہا ہے کہ خطرہ اب بھی باقی ہے اور کابینہ میں توسیع کا کارڈ بھی راجہ فاروق حیدر کے کسی کام نہیں آنے والا۔

مزید یہ کہ راجہ فاروق حیدر جوچوہدری عبدالمجید پر رکشوں سے زیادہ مشیر رکھنے کا کہہ کر مذاق اڑاتے تھے آج خود اسی جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں۔ میں نے پہلے بھی ایک بار لکھا تھا کہ یہاں پر صرف چہرے Replaceہوئے ہیں اور جناب زرداری اور بلال بھٹو کی تصویریں تبدیل ہوئی ہیں باقی تو سب ویسے ہی چل رہا ہے۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے جب اس بار حکومت سنبھالی تھی توکابینہ کے پہلے اجلاس میں تحریک آزادی کشمیر کو اولین ترجیح، آزاد کشمیر کو سوشل و ویلفیئر سٹیٹ بنانے ، مالیاتی و انتظامی ڈسپلن پر سختی سے عملد درآمد ، ریاستی وسائل میں اضافے اور انتظامی اخراجات کو انتہائی کم سطح پر لانے ، قانون ، آئین اور میرٹ کی بالادستی ،تعلیم، صحت، ذرائع رسل و رسائل کے شعبوں کی ترقی ، آزاد کشمیر میں سرکاری، مالیاتی اور انتظامی کرپشن کے خلاف بڑا کریک ڈائون کرنے سمیت قانون اور میرٹ سے ہٹ کر کی گئی تقرریوں کی چھان بین کے بعد منسوخی اور ذمہ داران کے خلاف تادیبی کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا تاہم وہ نظام نہ بد ل سکا۔

کرپشن، اقرباء پروری اور من پسند تعیناتیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ تاہم تعلیم کے علاوہ کسی اور شعبے میں کوئی بھی بہتری نہیں ہو سکی ہے اور اب تو بہتری کی کوئی صورت اور امکان بھی نظر نہیں آ رہا کیونکہ کہ رشوت، سفارش اور اقربا پروری جیسی بڑی بیماریاں آزاد کشمیر کے سسٹم کو لاحق ہیں۔ ان بڑی بیماریوں نے آزاد کشمیر میں میرٹ، انصاف اور ٹیلنٹ کا خون چوس لیا ہے۔ یہاں عدل و انصاف کے پیمانے ہی بدل کر رہ گئے ہیں۔ سفارش ، برادری اور رشوت یہاں تین رائج الوقت سکے ہیں۔ جس کی جیب میں یہ سکے ہیں وہ بازارحکومت سے کامیابی کا کوئی بھی پھول خرید کر اپنی کلغی میں سجا سکتا ہے۔ جب کہ ان سکوں سے محروم شخص کتنا ہی باصلاحیت اور ذہین کیوں نہ ہو دھکے ہی اس کا مقدر ٹھہرتے ہیں۔ابتداء میں جب فاروق حیدر میرٹ کی بات کرتے تھے تو لوگوں کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ واقعی کوئی وزیر اعظم اس طرح کی باتیں کر سکتا ہے۔

بھلا جن لوگوں نے الیکشن میں کروڑوں روپے اس آس پر خرچ کیے ہوں کہ حکومت میں آنے کے بعد وزیر بنیں گے ، نوکریوں، تقرریوں، تبادلوں کی لوٹ سیل لگائیں گے ان کے نزدیک میرٹ کی کیا اہمیت ہے۔وزیر اعظم صاحب! ان لوگوں کو تو اپنے من کی مراد مل گئی ہے اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کی حکومت محفوظ ہو گئی ہے تو یہ محض خام خیالی ہے۔ ماضی کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں جب ممبران اسمبلی رات کو کسی کا ساتھ دینے کا حلف اٹھاتے تھے تو صبح اٹھ کر کسی اور کے ساتھ ہوا کرتے تھے۔ جن لوگوں نے اب وزارت کا حلف اٹھایا ہے ان میں سے اکثر یہ کہتے تھے کہ ڈوبتی ہوئی نائو میں کوئی سوار نہیں ہوتا۔

ماضی میں پیپلز پارٹی کی پوری پالیمانی پارٹی کو کابینہ میں شامل کیا گیا تھالیکن اس کے باوجود اس وقت کے وزیر اعظم چوہدری عبدالمجید کے خلاف اپنی ہی پارلیمانی پارٹی نے عدم اعتماد پیش کر دی تھی۔ سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کابینہ میں توسیع سے وزیرا عظم ممکنہ عدم اعتماد کا راستہ نہیں رو ک سکتے اور پاکستان میں نگران سیٹ اپ کے وجود میں آتے ہی راجہ فاروق حیدر کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔ اس سلسلے میں عدم اعتماد کے لیے ہونے والے ٹیسٹ انٹرویوز مکمل ہو چکے ہیں اور صرف نئے قائد ایوان کے انتخاب پر ڈیڈ لاک ہے۔

آزاد کشمیر کی ماضی کی سیاسی تاریخ بھی گواہ ہے کہ اسلام آباد میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی آزاد کشمیر میں حکومتیں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ مسلم کانفرنس کے گزشتہ دور حکومت میں پانچ سالوں کے دوران چار وزیر اعظم تبدیل ہوئے ۔۔۔یوں موجودہ صورتحال بھی اچھی معلوم نہیں ہوتی کیونکہ 47کے ایوان میں سے اگر فلیگ ہولڈرز 31تک ہوں تو اپوزیشن اور دیگر لیگی ممبران اسمبلی بھی اچھے اور سہانے مستقبل کا نہ صرف خواب دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ وہ بازی الٹنے کی پوزیشن بھی محفوظ رکھتے ہیں۔۔۔!