پنجاب حکومت کی پیشکش مسترد، چیف جسٹس کا ججز کی مزید سکیورٹی لینے سے انکار

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس اعجاز الاحسن سمیت تمام ججز کی سیکیورٹی بڑھانے کی پیشکش مسترد کر دی۔ سیکیورٹی بڑھانے کی پیشکش پنجاب حکومت نے کی تھی۔جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے معاملے میں پنجاب حکومت کی ججز کے لیے سیکیورٹی بڑھانے کی پیشکش کو چیف جسٹس پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کا مشورہ دیا ہے۔

پنجاب حکومت نے کہا کہ واقعے کے بعد جسٹس اعجازالاحسن کی رہائشگاہ سمیت تمام ججز کی سیکیورٹی بڑھانا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ججز کو اضافی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں، ججز کیلئے معمول کے سیکیورٹی انتظامات کافی ہیں۔ حکومت عام آدمی کے مفاد کیلئے مجموعی طور پر سیکیورٹی صورتحال بہتر بنائے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج ،جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے معاملے کے حوالے سے سپریم کورٹ انتظامیہ کا وزیراعلیٰ پنجاب کے پرسنل سٹاف آفیسر کی جسٹس اعجازالاحسن سے ملاقات کرانے سے انکار کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھی ججز کی سکیورٹی بڑھانے سے متعلق پنجاب حکومت کی درخواست مسترد کر دی۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جسٹس اعجازالاحسن کے گھر فائرنگ کے معاملے کے حوالے سے عدالت عظمیٰ میں پنجاب حکومت کی ججز کی سیکیورٹی بڑھانے کی خواہش پوری نہ ہو ئی ہے ، چیف جسٹس میاں ثاقب نثارنے پنجاب حکومت کی ججوں کومزید سیکورٹی لینے سے انکارکردیا جبکہ چیف جسٹس نے ججوں کی سکیورٹی بڑھانے سے متعلق پنجاب حکومت کی درخواست بھی مسترد کر دی۔

سپریم کورٹ سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ججوں کو اضافی یا روٹین سے ہٹ کر مزید سکیورٹی کی ضرورت نہیں،عام لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے مجموعی سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنایا جائے