تاکہ سندرہے/ڈاکٹرشجاعت بخاری

جموں عصمت دری پر سیاست

آصفہ معاملے پر جموں میں سول سوسائٹی کی چپ افسوسناک تھی ہی لیکن19اپریل کی کٹھوعہ بار ایسوسی ایشن کیساتھ منسلک وکلاء کی حرکت پر انسانیت شرمسار ہو گئی ۔ کمسن بچی کی عصمت دری اور بے رحمانہ قتل کا معاملہ سیاسی رنگ اختیار کرنا اپنے آپ میں ایک المیہ ہے جس پر یہاں کے حکمران طبقے کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا

جموں کے کٹھوعہ ضلع میں آٹھ سالہ ننھی بچی آصفہ کی عصمت دری اور بے رحمانہ قتل نے جہاں دل دہلانے والا ماحول پیدا کیا ہے وہیں جموں میں اس کے بر عکس واقعات پیش آئے جن کے بارے میں سوچ کر دل افسردہ ہوجاتا ہے۔ اس کی انتہا اس وقت دیکھنے کو ملی جب19 اپریل کو ریاستی پولیس کے کرائم برانچ کی ایک ٹیم کٹھوعہ عدالت میں پہنچی اور وہاں موجود وکلاء نے ان کو اس کیس کے سلسلے میں تیار کردہ چارج شیٹ داخل کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔

کٹھوعہ کی مقامی بار ایسوسی ایشن نے بھرپور ہنگامہ کیا لیکن کرا ئم برانچ ٹیم اپنا کام کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ یہ بار ایسوسی ایشن ‘ جموں کی بار ایسوسی ایشن کاحصہ ہے اور جموں بار نے ۱۱؍ اپریل کو پورے جموں میں اس کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کے حق میں بند کا اعلان کیا تھا۔ جہاں بار نے روہنگیا اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کے معاملے کو بھی اس کے ساتھ جوڑا تھا لیکن اصل مقصد کرائم برانچ کے خلاف احتجاج کرنا تھا کیونکہ ان کی نظر میں کرائم برانچ نے ان آٹھ ہندوئوں کو اس کیس میں ’’پھنسایا‘‘ جو اس شرمناک واقعے میں ملوث ہیں۔

اس طرح سے آصفہ کا کیس کشمیر اور جموں میں ہندوئوں اور مسلمانوں کو تقسیم کرنے کیلئے ایک ہتھیار کے طور استعمال کیا جا رہا ہے۔ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے اس مسئلے کو اس حد تک لے جانا ریاست میں مذہبی بنیاد پر پائی جانے والی تقسیم کا نقطہ عروج ہے۔ اس سے پہلے کٹھوعہ میں ہندوایکتا منچ کے نام سے ایک تنظیم نے با ضابطہ طور ملوث افراد کو چھڑانے کے لئے ایک ریلی کا اہتمام کیا اور کہا کہ ’’چونکہ اس کیس کی تحقیقات مسلمان افسر کر رہے ہیں، اس لئے ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

اُس وقت کرائم برانچ کے سربراہ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل الوک پوری تھے اور تحقیقات کا کام ایک ٹیم کو دیا گیا تھا جس کے سربراہ ایس پی نوید پیرزادہ تھے لیکن بعد میں اس کی سربراہی ایس ایس پی رمیش کمار جالا کو سونپی گئی اور اُنہیں کی سربراہی میں چارج شیٹ مکمل کیا گیا ۔ نہ صر ف کٹھوعہ اور اس کے آس پاس لوگوں نے اس کیس کو مرکزی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کے حوالے کرنے کی مانگ کی بلکہ ان کی ریلی میں دو ریاستی وزراء چندر پرکاش گنگا اور لال سنگھ بھی شامل ہوئے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت جتندر سنگھ ،جو کہ کٹھوعہ اور اُدھم پور پارلیمانی نشست سے چُنے گئے ہیں، نے بھی سی بی آئی چانچ کی حمایت کی۔ اُنہوں نے ۲۲؍ فروری کو جموں میں کہا کہ ’’اگر لوگوں کو لگتا ہے کہ اُنہیں پولیس اور کرائم برانچ میں یقین نہیں تو اسے سی بی آئی کے حوالے کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے‘‘۔

ریاستی وزراء کی ریلی میں شرکت اور ڈاکٹر سنگھ کے بیان سے صاف ظاہر ہے کہ بی جے پی بھی ملوث افراد کے حق میں تھی اور ایک ایسا ماحول، جس سے اس شرمناک واقعے کو ہندو اور مسلمان کی نظر سے دیکھا گیا، کو پیدا کرنے میں ان کا کلیدی رول ہے۔ بی جے پی لیکن یہ بھول رہی ہے کہ وہ ریاستی حکومت کا حصہ ہے ، پولیس ان کے زیرِ نگراں ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ پولیس کے سربراہ شیش پال وید ہیں جن کا تعلق جموں سے ہے۔ ڈاکٹر سنگھ اور ان کے ساتھیوں سے یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ جب ان کو اپنی پولیس پر عسکریت مخالف سرگرمیوں پر ’’ناز ‘‘ ہے تو اس معاملے میں ان پر بھروسہ کیوں نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب بی جے پی نے اس کیس میں ملوث افراد کی طرفداری کی ہے تو اس صورت میں سی بی آئی سے منصفانہ جانچ کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ پھر سی بی آئی ڈاکٹر سنگھ اور ان کی نئی دہلی میں حکومت کے زیر اثر ہے۔

دوسری اہم بات جو زیر غور لانا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ جموں میں سول سوسائٹی اس معاملے پر چُپ رہی اور اُنہوں نے جموں کی نمائندگی بار ایسوسی ایشن جیسی فرقہ پرست تنظیم، بی جے پی اور ان کے حواریوں کے حوالے کی۔ اس طرح سے باضابطہ طور یہ مقابلہ مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا گیا۔ ما سوائے چند افراد کے جنہوں نے دبے الفاظ میں آصفہ کے لئے انصاف کی مانگ کی ، جموں کے اکثر لوگوں نے چُپ سادھ لی ۔ وہاں کی سرکردہ صحافی انورادھا بھسین نے ایک آن لائن عرضی کے ذریعے انصاف کی مانگ کی اور کہا کہ جموں کی عورتوں نے اس عرضی پر دستخط کرنے سے انکار کیا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جموں کی صورتحال انتہائی گھمبیر ہے اور جس طرح سے ایک آٹھ سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل کو سیاسی اور مذہبی رنگ دیا گیا وہ ایک ایسے نقشے کے خد وخال کھینچ رہا ہے جو آنے والے وقت میںاور بھی سخت رُخ اختیار کرنے کا عندیہ دیتا ہے۔

بار ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک پنڈت خاتون وکیل دیپکا ٹھسو رجاوت کو ہائیکورٹ میں اس کیس کی پیروی کرنے سے روکنااور اُنہیں خارج شدہ قرارد ینا بھی ایک ایسے سوچ کی آئنہ دار ہے جس کو سرد بستے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ ہر چند کہ کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے میڈیا کے دبائو میں آکر اس معاملے پر چُپی توڑی لیکن ان کی پارٹی جموں بند کی حمایتی تھی۔ جموں کشمیر کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کا بیج اصل میں کانگریس نے بویا ہے اور بعد میں بی جے پی نے اس کا فائدہ اُٹھایا۔

اگر دیکھا جائے تو جموں اور کشمیر کے دوران مذ ہبی تنائو کا لاوا اُس وقت پھوٹ پڑا تھا جے2008میں امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین فراہم کی گئی تھی۔ اسوقت بی جے پی نے کانگریس کی طرف سے ایک ایسے ماحول کو اور آگ لگانے کا کام کیا جس کا مقصد صرف ووٹ بینک کو بچانا تھا۔ ڈاکٹر جتندر سنگھ بھی اسی ایجی ٹیشن کے پیداوار ہیں۔ بعد میں2014میں جہاں پورے ہندوستان میں مودی لہر جاری تھی ، جموں بھی اس کی لپیٹ میں آگیا اور بی جے پی کو24سیٹیں حاصل ہوئیں۔

اگر چہ پی ڈی پی اس مخلوط سرکار میں سب سے بڑی جماعت ہے لیکن بی جے پی نے جموں پر پوری طرح سے کنٹرول حاصل کیا ہے اور آصفہ کے قتل کے بعد جو دیکھنے میں آیا وہ اسی سیاست کا عکاس ہے۔ جموں خطے میں مسلمانوں کا قافیہ روز بہ روز تنگ ہوتا جارہا ہے۔ روہنگیا اور بنگلہ دیشیوں کے نام پر نت نئے حربے استعمال کیے جارہے ہیں اور افسوس یہ ہے کہ اس صوبے میں بی جے پی کسی اور اہم عہدے پر کسی مسلمان کو براجمان نہیں ہونے دیتے ۔ پی ڈی پی نے اس معاملے پر بی جے بی کے سامنے سرنڈر کیا ہے۔

جہاں ایک طرف کشمیر دوسری قسم کی آگ میں جل رہا ہے وہیں ریاست اس مذہبی تنائو اور تقسیم سے نبردآزما نہیں ہوسکتی ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جہاں اس بات کا اعادہ کیا کہ آصفہ کے معاملے میں انصاف پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اوروہ ایک ایسا بل پیش کرنے والی ہیں جس کے تحت کم عمر بچوں کے ساتھ عصمت ریزی کرنے والوں کو سزائے موت دی جائے گی ، لیکن صرف اتنا کافی نہیں ہے۔ جن وزراء نے ریلی میں جاکر ملوث افراد کی پشت پناہی کی ہے وہ اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔انہوں نے دباؤ میں آکر اب استعفیٰ بھی دے دیا ہے ،لیکن ان کے اس مجرمانہ فعل کی اس سے پردہ پوشی نہیں ہو سکتی۔

ہر چند کہ اب دہلی میں آصفہ کو انصاف دلانے کیلئے آوازیں اُٹھی ہیں لیکن بی جے پی کو دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ واقعی ان شرمناک لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ووٹوں کیلئے کیاوہ آٹھ سالہ معصوم بچی کے انصاف کے ساتھ کھیلنے کیلئے تیار ہے۔ کشمیر میں آصفہ کے معاملہ میں غم و غصہ جائز ہے اور اس کو بھی مذہبی رنگ نہیں دیا جاسکتاہے۔ اگر آج بھی اس معاملے میں سارے لوگ متحد نہیں ہوئے تو آنے والے ایام ریاست کے لئے بہت ہی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
٭