اکثر چیزیں بھول جاتے ہیں۔۔۔۔۔؟

کیا اکثر توجہ مرکوز رکھنے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے؟ ذہنی الجھن یا چیزیں بھول جاتے ہیں؟اگر ہاں تو اس کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں۔درحقیقت چند عارضے اس کی وجہ بنتے ہیں اور ان سے بچنا بھی زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔

اسکرین ٹائم کم کردیں
ہوسکتا ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ اسکرین ٹائم کو کم کرکے آپ کئی فوائد حاصل کرسکتے ہیں، مگر کیا آپ کو احساس ہے کہ آپ کمپیوٹرز، ٹیبلیٹس یا اسمارٹ فونز کے سامنے جو وقت گزارتے ہیں، وہ ذہنی تھکاوٹ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ یہ ڈیوائسز دماغ پر منفی انداز سے اثرانداز ہوتی ہیں اور ذہنی توجہ بھٹکانے، دماغی دھند اور ذہنی کارکردگی متاثر کرتی ہیں۔

لو بلڈ شوگر
لو بلڈ شوگر ذہن چکرانے اور سر ہلکا ہونے کا باعث بنتا ہے جس کا نتیجہ دماغی دھند کی شکل میں نکلتا ہے۔ ایسا ہونے پر جوس یا کچھ کھانا مددگار ثابت ہوسکتا ہے، اپنے بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھنے کے لیے تینوں وقت غذا کا استعمال معمول بنائیں۔

پانی کی کمی
کبھی چیزیں بھولنے لگتے ہیں، الجھن کے شکار اور دماغ میں دھند چھائی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور پھر اچانک احساس ہوتا ہے کہ آپ تو پیاسے ہیں؟ ہمارے دماغ پانی کی کمی کو پسند نہیں کرتا اور ایسا ہونے کی صورت میں دماغ کے کچھ حصوں کا حجم گھٹنے کا امکان ہوتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق مردوں اور خواتین میں ایسا ہونے کی صورت میں مختلف طریقے سے اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے خواتین چڑچڑی ہوجاتی ہیں، کام کرنا مشکل ہوتا ہے اور سردرد ہونے لگتا ہے۔ اس کے مقالبے میں مرد تناؤ، خوف اور تھکان محسوس کرنے لگتے ہیں جبکہ ان کی یاداشت بھی متاثر ہوتی ہے۔

نیند کی کمی
اگر تو آپ روز رات کو 6 یا اس سے بھی کم وقت تک سونے کے عادی ہیں تو اکثر دماغی صلاحیتیں بھی سست ہوجائیں گی جس کی تصدیق طبی سائنس کئی رپورٹس میں کرچکی ہے۔ یہ عادت نہ صرف یاداشت پر اثرات مرتب کرتی ہے بلکہ توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے عام کام جیسے گاڑیوں کی تلاش یا کیا کھانا ہے کا فیصلہ مشکل ہوجاتا ہے۔

پروٹین کی کمی
دماغ کے صحت مند افعال کے لیے پروٹین بہت ضروری ہے، اگر اس جز کی کمی ہو تو عزم میں کمی، یاداشت میں خرابی یا کچھ نیا سیکھنا مشکل ہوجاتا ہے، یہ اس بات کی نشانی ہے کہ جسم میں پروٹین کی کمی ہے۔