پوائنٹ آف آرڈر/ارشد وحید چوہدری

چئیرمین نیب فیصلہ خودکرلیں

چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف بھارت میں 4 ارب 90 کروڑ ڈالر کی رقم منی لانڈرنگ کے ذریعے بھیجنے کی شکایت کی تحقیقات کا حکم دینے پہ مبنی پریس ریلیز جاری کر کے پاکستان کی سیاست میں وہ ارتعاش بلکہ طوفان برپا کر دیا ہے جو جلد تھمتا دکھائی نہیں دے رہا۔ احتساب عدالت میں مسلسل ساٹھ سے زائد پیشیاں بھگتنے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف تو پہلے ہی نیب کے کردار پہ انگلیاں اٹھا رہے تھے لیکن چئیرمین نیب کے اس انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور حقائق کے منافی اقدام نے تو انہیں اس قدر برہم کر دیا ہے کہ وہ واضح اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اس معاملے سے کسی طور بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

نواز شریف سنگین الزام عائد کرنے پہ چئیرمین نیب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا تو عندیہ دے ہی چکے تھے لیکن مسلم لیگ ن کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی رہنماؤں نے جب انہیں جذباتیت میں فیصلہ نہ کرنے اور تحمل سے کام لینے کی رائے دی تو انہوں نے بڑے ٹھوس لہجے میں جواب دیا کہ وہ چئیرمین نیب کے خلاف خود سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کریں گے۔ نواز شریف کے اس اٹل فیصلے کی دو وجوہات ہیں ۔ پہلی وجہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی طرف سے چئیرمین نیب کو پارلیمنٹ میں طلب کر کے ان کے اقدام کی تحقیقات کرنے کے لیے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز پہ سیاسی جماعتوں کا فوری رد عمل ہے۔ وزیر اعظم کی اس تجویز کو سوائے آج کے اہم اتحادی محمود خان اچکزئی کے سوا کسی پارلیمانی رہنما نے پذیرائی نہیں بخشی.

ماضی میں نیب کی ڈسی اور اب دوسروں کی باری پہ بطور تماشائی تالیاں بجانےوالی پیپلز پارٹی نے بھی “مشاورت” کے بہانے پتلی گلی سے نکلنے کو ہی بہتر جانا ہے۔ میاں صاحب کے بے لچک رویے کی دوسری وجہ چئیرمین نیب کی طرف سے معاملے کو حل کرنے کے لیے اپنی غلطی کا اعتراف کرکے نیب اعلامیے کو واپس لینے کی بجائے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا اور اشتعال دلانے پہ مبنی مذید بیانات جاری کرنا ہے۔ چئیرمین نیب کے اسی رویے کی وجہ سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ موجودہ وزیر اعظم نے بھی نیب کے اقدام کو قبل از وقت دھاندلی قرار دیا ہے۔

اس سے توکوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا کہ نیب نے اپنے قیام کے 19 سال کی سب سے بڑی حماقت کا مظاہرہ کیا ہے جس سے نہ صرف پاکستان کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی بلکہ احتساب کے سپریم ادارے کی ساکھ پہ بھی سوالیہ نشان لگ گیا۔ نیب کے اس اقدام کو حماقت کا نام اس لیے دیا کہ عالمی بنک کی جس رپورٹ پہ چار ماہ قبل لکھے گئے ایک گمنام کالم کو بنیاد بنایا گیا اس رپورٹ پہ ستمبر 2016 میں اتنا واویلا مچ چکا ہے کہ جانے نا جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔ سابق آمر پرویز مشرف کی طرف سے ایک آرڈیننس کے ذریعے 1999 میں قائم کیے گئے احتساب کے جس ادارے کے قیام کا مقصد ہی پیٹریاٹ اور ق لیگ بنانے جیسے “کرشمے” دکھانا تھا اس سے بلا امتیاز،غیر جانب داراورمنصفانہ احتساب کی توقع کرنا ایسے ہی ہےکہ ببول کا درخت لگا کر گلاب اگنے کی امید کی جائے۔

آمریت کے اس تحفے کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دس سالہ دور حکومت میں بدستور گلے سے لگائے رکھنے پہ پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں اور اب تو چونکہ نواز شریف خود اپنی اس غلطی کا اعتراف کر چکے ہیں اس لیے اس تحریر کو نیب کے سنہری حروف سے لکھے جانے والے حالیہ ؛کارنامے؛ تک ہی محدود رکھتے ہیں۔ نیب کے ماضی کو نظر انداز کر کے اگرذکرموجودہ چئیرمین جناب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کیا جائے تو ان کا شمار ان ضمیر کے قیدیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بطور جج آمر کا حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ سپریم کورٹ کے وہی ریٹائرڈ جج ہیں جنہیں ایبٹ آباد کمیشن اور لا پتہ افراد جیسے کمیشن کے سربراہی کی انتہائی حساس زمہ داری سونپی گئی تو انہوں نے نہ صرف انتہائی احسن طریقے سے اس ذمہ داری کو ادا کیا بلکہ ذمہ داری کاتعین کر کے ایسی سفارشات بھی پیش کیں جن پہ اگر عمل درآمد ہو جاتا توآئندہ نہ کبھی پاکستان کا وقار مجروح ہوتا اور نہ اس کی خود مختاری پہ کوئی حرف آتا۔

ایسی شخصیت کے حامل فرد پہ یہ تہمت لگانا کہ وہ قبل از وقت دھاندلی جیسی ؛کاریگری؛ میں فریق بنیں گے کسی طور میل نہیں کھاتا لیکن بطوراحتساب ادارے کے سربراہ کے ان کی ناک کے نیچے بلکہ ان کی منظوری سے عین انتخابات سے قبل جو اتنی سنگین غلطی ہوئی اسے بھی کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ متاثرہ فریق موقع غنیمت جان کر کیا مطالبہ کرتا ہے یا اپوزیشن جماعتیں اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے انہیں کیسے تھپکی دیتی ہیں اس سے قطع نظر میں اس معاملے کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق نمٹانے کا فیصلہ کچھ نکات کی نشان دہی کرتے ہوئے معزز جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال پہ چھوڑتا ہوں۔

قومی احتساب بیورو کا دعوی ہے کہ وہ ملک میں بد عنوانی کے خاتمے کا سپریم ادارہ ہے۔ ادارے کا ویژن بیان کرتے کہا گیا ہے کہ اس کو بدعنوانی سے پاک معاشرہ تشکیل دینے کے لیے ایک معتبر،موثر،فعال اور متحرک انسداد بد عنوانی آرگنائزیشن ہونا چاہئیے۔ ادارے کے مشن کی نشان دہی کرتے واضح کیا گیا ہے کہ اسے تحفظ، آگاہی،مانیٹرنگ اور مسابقت پہ مبنی جامع اپروچ اختیار کر کے بد عنوانی کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہے۔ اسی طرح نیب کے مقصد کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ بد عنوانی کے خاتمے کے لیے اسے قلیل المعیاد اور طویل المعیاد حکمت عملی اختیار کرنی ہے جس میں نظام میں بہتری سے لے کر تمام فریقین کی شمولیت کے ذریعے جامع پروگرام مرتب کرنا شامل ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال صاحب آپ ہی کے ادارے نے ایک ضابطہ بھی مرتب کر کررکھا ہے جو نہ صرف اخلاق بلکہ طرز عمل کا بھی احاطہ کرتا ہے اسی لیے اسے ؛کوڈ آف کنڈکٹ اینڈ ایتھکس؛ کا نام دیا گیا ہے۔ اسی ضابطے کے باب “مرکزی اقدار” میں سب سے پہلے ایمانداری پہ زور دیتے کہا گیا ہے کہ نیب کو درست قدم درست طریقے اور درست وقت پہ اٹھانا چاہئیے۔اسے ایمانداراور ذمہ دار رویہ اختیار کرنا چاہئیے،نیب کی ترجیح وہ ہوجو ادارے اور معاشرے کے لیے مفید ہو۔ عزت نفس،عظمت اور اخلاق کے اعلی معیارات کا حامل ہو،اپنے مقصد سے لگن اور اخلاص ضروری۔ فرائض کی ادائیگی میں قابل بھروسہ، انتہائی قابل اعتماد ،تفویض کردہ کام کا ذمہ دار ہو۔ ججمنٹ ایسی ہو کہ ثبوتوں کی جانچ پڑتال سے درست قدم اٹھایا جا سکے، فیصلے ٹھوس ہوں جن میں نقائص نہ پائے جائیں۔ دوسروں کی عزت کا خیال رکھا جائے۔ اس قدر احتیاط برتی جائے کہ کوئی پرشیان ہو اور نہ ہی کسی کی تضحیک ہو۔ مسائل کا ادراک کرنے کی اہلیت ہو،انصاف ایسا ہو کہ اس میں غیر جانبداری کی واضح جھلک نظرآئے،فرائض کی ادائیگی میں شفافیت ہو اور پسند نا پسبد یا اقربا پروری سے اجتناب برتا جائے۔

آپ کا پیشہ وارانہ اور ذاتی طرز عمل ایسا ہونا چاہئیے جس سے نیب کی ساکھ اور پوزیشن پہ کوئی حرف نہ آئے۔اسی ضابطے میں یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ اگر کسی موقع پہ آپ کو اخلاقی گرواٹ کا احساس ہو تو خود سے یہ سوالات پوچھ لیں۔ کیا یہ قانونے کے دائرے میں ہے؟ کیا یہ عمل نیب کی اقدار،اس کے اصولوں اور پالیسیوں سے مطابقت رکھتا ہے؟ کیا یہ عمل میرے خیال میں مناسب ہے؟ میرے فیصلوں اور اقدامات کے میرے ساتھیوں ،نیب ،دوسرے فریقین اور خود میرے لیے کیا نتائج ہوں گے؟ کیا میں اپنے اقدامات کا جواز پیش کر سکتا ہوں؟ اگر میرے اہلخانہ اور دوستوں کو پتہ چلے تو ان کا رد عمل کیا ہو گا؟ اس میں سب سے اہم سوال یہ بھی شامل ہے کہ اگر میرا طرز عمل بطور خبر اخبار کے پہلے صفحے کی زینت بن گیا تو کیا ہو گا؟

ان سوالات کے ساتھ قومی احتساب بیورو یہ بھی باور کراتا ہے کہ چئیرمین یا ڈپٹی چئیرمین کی منظوری سے کوئی بھی معلومات صرف اسی صورت میں افشا کی جائیں اگر ایسا کرنا عوامی مفاد میں ہو۔ اس حساسیت کی بھی نشان دہی کی گئی ہے کہ میڈیا کو غیر مجاز یا نا مناسب معلومات جاری کرنے سے نہ صرف تفتیش پہ اثر پڑ سکتا ہے اور انفرادی حیثیت میں ساکھ خراب ہو سکتی ہے بلکہ عوام کا نیب پہ اعتبار بھی کم ہو سکتا ہے۔ آخر میں یہی گزارش کروں گا کہ چئیرمین نیب بھول جائیں کہ متاثرہ فریق کیا مطالبہ کر رہا ہے،وہ اسے بھی نظر انداز کر دیں کہ اپوزیشن کا موقف کیا ہے، وہ آئین پاکستان اور نیب آرڈیننس کو بھی ایک طرف رکھ دیں لیکن وہ اپنے آٹھ مئی کے اقدام کو اپنے ہی ادارے کے وضع کردہ اس ضابطہ اخلاق و طرز عمل کی کسوٹی پہ خود پرکھ لیں۔ اس کے بعد وہ جو بھی فیصلہ کریں سر آنکھوں پہ ہو گا۔