Jalaluddin-Mughal

یہ حادثہ نہیں قتل ہے اور ہم سب قاتل ہیں

پل نہیں ٹوٹا، ہماری کمر ٹوٹی ہے۔ سیاحوں اور سیاحت سے وابستہ لوگوں کے حوصلے ٹوٹے ہیں۔ ڈوبنے والوں کے خاندانوں کے خواب ٹوٹے ہیں۔ ٹوٹے پل کا ملبہ تو سرکاری اہلکاروں نے فوراً سے سنبھال لیا، دریا سے نکال لیا۔ ٹوٹے ہوحوصلوں کے ٹکڑے کون اٹھائے گا اور بکھرے خوابوں کی کرچیاں کون سمیٹے گا؟ یہ حادثہ نہیں، قتل ہے۔ ایک دانستہ قتل جس میں کہیں نہ کہیں ہم سب ملوث ہیں۔ ہم سب ذمہ دار ہیں۔ حادثہ ایک بار ہوتا ہے، بار بار دہرائے گئے عمل کو حادثہ قرار دینا ذمہ داریوں سے فرار کی راہ تو ہو سکتی ہے، حقیقت نہیں۔

گذشتہ کل کنڈل شاہی میں جس مقام پر پل ٹوٹنے سے 23 نوجوان دریا میں ڈوبے یہ اس مقام پر پیش آنے والا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ عین اسی مقام پر گذشتہ سال جولائی میں حویلیاں کے ایک سیاح خاندان کے پانچ افراد ڈوب گئے تھے۔ والدین کو تو مقامی لوگوں نے بچا لیا۔ تین بچے جن کی عمریں 13 سے 20 سال کے درمیان تھیں ان کی نعشیں گھر پہنچی۔

ٹھیک اسی مقام پر دو سال قبل لاہور سے تعلق رکھنے والے دو سیاح سیلفی لیتے ہوئے نالے میں ڈوب گئے تھے ۔ ان میں سے ایک کو زندہ حالت میں نکالا گیا تھا تاہم بعد میں وہ بھی ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ چند سال قبل معروف سماجی کارکن مبشر نیاز بھی نالہ جاگراں عبور کرتے ہوئے تصویر لینے کی کوشش میں نالے میں گر کر جاں بحق ہو گئے تھے۔

گذشتہ سال ہی کیل کے مقام پرسیاحوں کی ایک گاڑی کو پیش آنے والے حادثے میں تین نوجوانوں کی جان چلی گئی ان میں سے ایک کا تعلق مظفرآباد جبکہ دو کا تعلق لاہور سے تھا۔ گذشتہ سال ہی کیل کے قریب ہی شونٹھر کے مقام پر دو نوجوان نہاتے ہوئے نالہ شونٹھر میں ڈوب گئے تھے۔ اسی طرح کے ایک اور واقعہ میں کراچی سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان نہاتے ہوئے دریائے نیلم میں ڈوب گیا تھا جبکہ ایک چھ سالہ بچہ تین سال قبل نالہ جانوئی میں اس وقت ڈوبا جب اس کا والد نالے کے کنارے اس کی فوٹو لے رہا تھا۔

دیولیاں کے مقام پر چند سال قبل سیاحوں سے بھری منی بس کے حادثے میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے کم اس کم 16سیاح جاں بحق ہوگئے تھے ۔ موٹر سائیکل کے حادثات میں مرنے والوں کی تعداد اسے کے علاوہ ہے ۔ سر والی نامی چوٹی کو سر کرنے کی مہم پر جانے والے تین کوہ پیماؤں کا بھی تین سال گزرنے کے باوجود کوئی سراغ نہیں ملا۔ اس کے علاوہ بھی سیاحوں کے ساتھ متعدد چھوٹے بڑے حادثات پیش آتے رہے مگر ان کو کوئی سرکاری ریکارڈ دستیاب نہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ لوگوں کی یادواشتوں سے بھی محو ہو گئے۔

کل کے حادثے کے بعد گذشتہ دو سالوں کے دوران دریائے نیلم اور ندی نالوں میں ڈوبنے والے سیاحوں کی تعداد تین درجن کو پہنچ گئی ہے مگر ہم نے ان حادثات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ نہ سیاحت کے فروغ اور میں مصروف ان کارکنوں نے کو اس علاقے کی خوبصورتی کو کشش بنا کر سیاحوں کو ملک بھر سے کھینچ لاتے ہیں۔ نہ ان سیاحوں نے جو ہزاروں روپے خرچ کر کے اپنی جان دائو پر لگا دیتے ہیں۔

کل کے حادثے کے بعد لاپتہ سیاحوں کی تلاش، زخمیوں کی منتقلی اور لواحقین کی آمد و رہائشی انتظامات کے سلسلے میں وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کی بھاگ دوڑ قابل تعریف ہے۔ اطلاع کے کہ رات کو بھی نہیں سوئے۔ مگر کیا سانپ گذرنے کے بعد لکیر پیٹنا ہر مسئلے کا حل ہے؟ وزیر سیاحت نے بھی ٹوئٹر پر وادی نیلم جانے کا اعلان کیا۔ جائے حادثہ پر جا کر اپنے ایک افسر کو جھاڑ پلانے کی ایک تصویر فیس بک پر شائع کی اور واپس تشریف لے آئے۔

انتظامیہ کا یہ حال ہے کہ آج صبح تک ان کے پاس کوئی حتمی اعداد شمار نہیں تھے کے کل کتنے لوگ حادثے کا شکار ہوئے۔ بیس سے ستر کے درمیان کم از کم پانچ بار اعداد و شمار بدلے گئے۔ وادی نیلم میں سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے حادثات کا تجزیہ کیا جائے تو تین بڑی وجوہات سامنے آتی ہیں جو سیاحوں کی اموات کا سبب بنی۔ اب تک سب سے زیادہ اموات تصویر یا سیلفی لینے کی کوشش کے دوران ہوئی ہیں،دوسری بڑی تعداد گاڑیوں کے حادثات میں مرنے والوں کی ہے جبکہ تیسرے نمبر پر نہاتے ہوئے دریااور نالوں میں ڈوبنے والے افراد ہیں۔

وادی نیلم آنے والے اکثر سیاحوں کا تعلق ملک کے میدانی علاقوں سے ہوتا ہے جن کو پہاڑی علاقوں میں گاڑی چلانے کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا اورنہ ہی انہوں نے کبھی تیز بہاؤ والے پانی کو قریب سے دیکھا ہوتا ہے ایسے سیاح بعض اوقات تو دوران ڈرائیونگ معمولی سے غلطی یا لاعلمی کی وجہ سے حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں پھر مہم جو اور خطرناک مناظر کے ساتھ فوٹو لیکر دوسروں کو متاثر کرنے کے چکر میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

ان سیاحوں کو یہاں تک لانے والے ٹوریسٹ گائیڈز اور آپریٹرس کی تربیت، رجسٹریشن اور لائسنسنگ کا کوئی بندوبست نہیں۔ ان میں سے بیشترعلاقائی صورتحال سے آگاہ ہوتے ہیں اور نہ حفاظتی اقدامات اور ایمرجنسی ریسپانس کی کوئی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ وادی نیلم کے بیشتر علاقے آج بھی ٹیلی مواصلاتی نظام سے نہیں جڑ سکے کہ کسی ہنگامی صورتحال میں بروقت مدد طلب کی جا سکے۔ اور اگر طلب کر لی جائے تو بھی مقامی اداروں میں شائد اتنی استعداد ہی نہیں کہ وہ اس سطح کا کوئی ریسکیو آپریشن کر سکیں۔ اکثر و بیشتر مقامی لوگ ہی اپنی روائتی قدرتی صلاحیتوں اور طریقہ کار کا استعمال کر کے ریسکیو آپریشن مکمل کرتے ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت آزاد کشمیر کے کسی بھی ادارے بشمول محکمہ سیاحت، ضلعی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاڑتی اور دیگر اداروں کے پاس ان حادثات کے اعداد و شمار دستیاب ہیں اور نہ ہی ان حادثات سے بچاؤ یا حادثات کی صورت میں ہنگامی بنیادوں پر امدادی کاروائیوں کا کوئی انتظام یا حکمت عملی موجود ہے۔

آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کے نام پر ایک محکمہ اور وزارت قائم ہے جس کا بنیادی کام تو اس خطہ کے سیاحتی پوٹینشل کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنا، سیاحت سے متعلق قانون سازی اور پالیسی سازی کرنا اور اس پر عملدرآمد کرانا، سیاحت کے شعبہ میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد اور اداروں کی معاونت اور راہنمائی کرنے کے علاوہ یہاں آنے والے سیاحوں کو معلومات، راہنمائی اورسہولیات مہیا کرنا ہے، تاہم عملاً اس محکمہ نے بھی دیگر سرکاری محکموں کی پیروی کرتے ہوئے تعمیراتی کاموں کو اپنامنشور بنایا ہوا ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے محکمہ کی سرکاری ویب سائیٹ تک اپ ڈیٹ نہیں کی گئی اورنہ ہی سیاحوں کی معلومات اور راہنمائی کے لئے کسی قسم کا معلوماتی مواد شائع کیا گیا ہے۔ محکمہ کے سارے کا سارہ تشہری بجٹ کئی سال پرانی بارہ تصاویر کا ایک کیلنڈر شائع کرنے پر خرچ کر دیا جاتا ہے جو مظفرآباد کے سرکاری دفاتر تک محدود رہتاہے۔

وادی نیلم سمیت آزاد کشمیر کے کسی بھی علاقے میں آنے والے سیاحوں کو ہر طرح کا تحفظ اورمعلومات فراہم کرنا حکومت آزاد کشمیر کی ذمہ داری ہے لیکن فی الوقت حکومت اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں بری طرح ناکام نظر آ رہی ہے۔
ان حالات میں میری نیلم ویلی کے عوام اور خصوصاً نوجوانوں سے اپیل ہے کہ نیلم ویلی میں آنے والے سیاحوں کو معلومات فراہمی اور حفاظتی اقدامات بارے آگاہی دینے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔خصوصاً سکولوں اور کالجوں کے طلبا و طالبات یہاں آنے والے سیاحوں کو حفاطتی اقدامات اور ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنے کے لئے رضاکارانہ کردار ادا کریں۔ دریا اور نالوں پر خطرناک مقامات کو باڑ لگا کر بند کیا جائے اور وہاں پر تنبیہی پیغامات آویزاں کئے جائیں تاکہ سیاح خطرنا ک،پھسلن والی جگہوں، تیز بہاؤ اور گہرئے پانیوں میں جانے اور دشوار گزار راستوں پر سفر کرنے سے گریز کریں تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

کل کے حادثے کے بعد وادی نیلم خصوصاً کنڈل شاہی اور گردو نواح کے نوجوانوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر سیاحوں کی جانیں بچانے کی کوشش کی ہے وہ قابل تحسین ہے اور مجھے اپنے آبائی علاقے کے ان نوجوانوں پر فخر ہے۔
سیاح خواہ کسی بھی خطے یا قوم سے تعلق رکھتے ہیں وہ ہمارے مہمان ہیں اور ان کا ہر طرح کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے۔یہ مہمان نوازی عظیم کشمیری روایات اور اقدار کا حصہ بھی ہے اور ہماری معیشت کا ایک حصہ بھی اسی سے جڑا ہے۔ جب حکومتیں بیان بازیوں تک محدود ہو جائیں تو سول سوسائٹی خصوصاً نوجوانوں کو سماجی انتظامی امور کی باگ ڈور سنبھالنا پڑتی ہے