نقطہ نظر/محمد فیصل عباسی

آزادکشمیراورسیاحتی ضروریات

ستمبر کے وسط تک پہاڑوں کی شام و سحر سرد ہوجاتی ہے. ایسے میں وہ شاہد بنجاروں کا پہلا قافلہ تھا جو گرم موسم کی تلاش میں ہمالیائی پہاڑی سلسلوں سے واپس اتر رہا تھا. ان کی آمد خزاں کا پیغام دے رہی تھی.یہ بنجارے بہاروں کے بھرپور مزے لوٹ کہ خزاں کے سخت کٹھن دور میں لوٹ رہے تھے جس کے تاثرات ان کے چہروں سے عیاں ہو رہے تھے.

پہاڑوں کی خزاں بھی بڑی دلکش ہوتی ہے تبھی انسان اس کی دلفریب دلکشی میں کھو جاتا ہے مگرجب درختوں کے سر سبز رنگین پتے، سرخ، گلابی اور زرد ہو کہ اپنے زوال پہ نوحہ کناں کرتے ہیں تو یقین ہونے لگتا ہے اس سے قوی کوئی حقیقت نہیں کہ ہر شے کو آخر کار زوال ہے، سوائے رب کائینات کی بے عیب ذات پاک کے.

اسی لمحے اگر آپ کشمیر کے حکام بالا کی بے حسی کی طرف غور کریں کہ نا اہل لوگ ان رنگین نظاروں اور موسموں کے بے نظیر خطہ کشمیر کی سیاحت سے بے غرض ہیں کہ بار ہا توجہ مبذول کروانے کے با وجود وہ اس طرف ذرہ برابر بھی توجہ نہیں دیتے. اگر کبھی اتفاق ہو تو تولی پیر سے شمال مشرق کی طرف نگاہ کریں تو وہاں سے شمال مغرب تک پہاڑوں کا ایک سلسلہ برابر چلتا جاتا ہے جو پہاڑ در پہاڑ جاتا ہے.

جیسے لس ڈنہ سے ڈھوم گلی تا شیرو ڈھارہ تک جاتے ہوئے منڈی سنکھ، کافرپہاڑ ، پیرکانٹھی، شیرکیمپ، گنگا چوٹی ، سندھن گلی ، نانگا پیر، رنگلہ ہنس چوکی، دھیرکوٹ تا نیلہ بٹ معمولی اونچ نیچ سے یہ تمام پہاڑ ایک ہی سلسلہ ہیں . اس کے لیے گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ عسکری حکام کو بھی توجہ دینی چاہیےکہ لائن آف کنٹرول پہ بھارتی افواج نے خود سے ہائی وے تعمیر کی ہیں مگرہمارے اگلے مورچوں کے محافظ آج بھی ان دشوار گزار راستوں میں منٹوں کا سفر دنوں میں کرتے ہیں.
وہاں روڈ تعمیر کر کے ان سلسلوں کو ملانے کے ساتھ ساتھ ان جوانوں کے کام بھی آئیگی جو شدید موسم کے آگے جنگ کرتے ہیں.

اگر فیز ون کی صورت میں تولی پیر سےلس ڈنہ تک دس کلومیٹر غیر پختہ روڈ کو پختہ کرکےشیرو ڈھارہ تک کی پختہ روڈ سے متصل کر دیا جائے. فیزٹو میں منڈھی سنکھ تک غیر پختہ ٹریک کو پختہ کرنے کےساتھ ساتھ وہاں سے گنگا چوٹی تک نئی روڈ تعمیر کی جائے. اگرچہ یہ تمام سلسلہ سطح سمندر دس ہزار فٹ سے کہیں بلند ہے مگر سڑک کو آٹھ ہزار فٹ تک ہی بلندی دی جائے تو یہ طویل روڈ ہونے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کیلیے جنت بن جائے. کیوںکہ لاکھوں کی تعداد میں تولی پیر آنے والے سیاح آگےکے راستے ڈھونڈ رہے ہیں.

چوکی افسر ریڑہ باغ راجہ شاہد افسر نے سینکڑوں ان سیاحوں کا ریکارڈ دیا جو اس کچے پکے دشوار گزار راستے سے ان سردیوں میں گزرے ہیں. اگر یہی راستہ پختہ ہو تو یہ تعداد کئی گنا بڑھ سکتی ہے. مری کے لاکھوں سیاح آگے آنا چاہتے ہیں. مری سے دھیر کوٹ، راولاکوٹ سے تولی پیر اور مندرجہ ذیل بالا ٹریک پہ سفر کرکے واپس قدرت کے بے مثال نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ تین اضلاع راولاکوٹ، باغ اور مظفر آباد کے دلفریب نظارے اور قدرت کے حسین مقامات سے لطف اندوز ہونے کے بعد واپس مری جا سکتا ہے. اب ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ انویسٹمنٹ سے اس سیاحت کی صنعت پہ کام کرنے کیا جائے جو دنیا میں سب سے زیادہ منافع بخش صنعت بن رہی ہے.