جب سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل حمید گل نے جارج بش کو ناکوں چنے چبوائے

اسلام آباد(سید مظفرحسین بخاری/سٹیٹ ویوز) سابق سربراہ آئی ایس آئی جنرل(ر)حمید گل مرحوم کی یادیں تازہ کرتے ہوئے معروف کالم نگار، سنیئر صحافی سیف اللہ خالد نےاہم باتوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک ایسا وقت بھی آیا تھا جب افغانستان میں امریکہ بری طرح پھنسا چکا تھا اورطالبان امریکی فوجیوں کا قتل عام کررہے تھے تو اس وقت امریکی صدرجارج ڈبلیوبش کو جنرل حمید گل کی بہت یاد ستانے لگی۔اُس وقت کی وزیرخارجہ میڈلین البرائٹ کو خصوصی مشن پر پاکستان بھیجا گیاتاہم اس وقت جنرل حمید گل مرحوم ریٹائرڈ ہوچکے تھے ۔

سنیئر صحافی سیف اللہ خالد نے سٹیٹ ویوزسے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ چونکہ جنرل حمید گل کاخاصاتھا کہ جب بھی کوئی مہمان ان سے ملنے ان کے گھر آتا تھا تووہ خود مہمان کو لینے گیٹ پر پہنچ جاتے لیکن اس دن کچھ اس کے برعکس ہوا ۔کمرے میں جنرل حمید گل بڑی شان سے کرسی پر براجمان تھے اوران کے پیچھے پاکستان کا جھنڈا لہرا رہاتھا اوربڑی تیاری کےساتھ ببر شیر کی طرح کسی کے انتظارمیں بیٹھے تھے۔ استفسار کرنے پر جواب ملا کہ آج اپنوں سے ہٹ کر کوئی اورملنے کیلئے آنیوالا ہے ۔ ابھی یہی باتیں ہورہی تھیں کہ اچانک ملازم نمودار ہوا اورکہنے لگا کہ جنرل صاحب! آپ سے کوئی ملنے باہرآیا ہے ۔

جنرل صاحب نے کہا کہ انہیں اندر بھیج دو ۔ ملازم کے جاتے ہی چند منٹوں کے بعد میڈین البرائٹ اپنے سیکرٹری آف سٹیٹ کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئیں اوردروازے پر ٹھہر گئیں جبکہ سیکرٹری آف سٹیٹ پہلے کمرے میں داخل ہوئے۔ جنرل حمید گل نے سخت لہجے میں ایک طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ابھی سیکرٹری آف سٹیٹ بیٹھنے کی تیاری ہی کررہا تھا کہ امریکی وزیرخارجہ بھی دروازے سے اندر پہنچ گئیں،جنرل حمید گل میڈلین البرائٹ کے آنے سے قبل ہی کرسی سے اُٹھ چکے تھے اور کہنے لگے میڈم جلدی سے بولیں کیا کام ہے مجھے کسی اورکام سے بھی جانا ہے اس لئے اپنا مدعا بیان کریں ۔ جس پر میڈین البرائٹ نے پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جناب میں صدر بش کا خصوصی پیغام آپ کے نام لے کرآئی ہوں ۔

جنرل حمید گل کہنے لگے کہ بتائیں کہ وہ کیا پیغام ہے ؟میڈلین البرائٹ آہ بھر کر کہنے لگیں کہ افغانستان میں امریکہ کے پاؤں جل رہےہیں۔آپ ہی ہمیں اس سختی سے نکال سکتے ہیں۔ ورنہ ہم کوئی دوسراقدم بھی اُٹھا سکتے ہیں۔ اتنا ہی کہنا تھا کہ جنرل حمید گل بھڑک اُٹھے اورکہنے لگے میڈلین البرائٹ تم اورتمہارا صدر کسی غلط فہمی میں نہ رہے ، ہم تمہارے ساتھ وہ کچھ کرسکتے ہیں جو تمہارے وہم وگمان میں بھی نہیں۔

کاش میں اس وقت ریٹائرنہ ہوتا اوراسی مقام پر ہوتا تو تمہارے پاؤں تو کیا جلتے تمہارے سر بھی اُبل کر پھٹ پڑتے پھر تمہیں سمجھ آتی کہ تمہارا پالا کس قوم سے پڑا ہے ۔جنرل حمید گل اتنے طیش میں آگئے کہ میڈلین البرائٹ کھسیانی سی ہوگئیں ،جنرل حمید گل نے کہا کہ جاؤ اپنے صدر کو بتا دو کہ جنرل حمید گل ، صلاح الدین ایوبی کی اولاد سے ہے اور صلاح الدین ایوبی ، طارق بن زیاد اورخالد بن ولید کی تاریخ کا ایک بار مطالعہ کرلے پھر جنرل حمید گل سے بات کرنے کی کوشش کرے ۔ ہم کسی صورت افغانستان میں امریکہ کی مدد نہیں کرسکتے ۔

پاؤں جلتے ہیں تو جلیں ، ہم نہ جھکنے والے ہیں نہ ہی بکنے والے ۔تم نے غلط گھر کادروازہ کھٹکھٹایا۔ مختصر وقت میں مدلل گفتگو کے بعد امریکی وزیرخارجہ میڈلین البرائٹ جس راستے سے آئی تھیں مایوسی کے ساتھ اسی راستے سے واپس چلی گئیں۔