اسرائیل کےخلاف شہادت پانے والاٹانگوں سے معذور فلسطینی نوجوان فہدی ابو صالح کون تھا؟

رپورٹ: سیدعامرگردیزی
سٹیٹ ویوز: اسلام آباد
یروشلم میں امریکی سفارتخانے کے افتتاح کے موقعے پر14 مئی کو غزہ میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 55 افراد شہید اور 2700 زخمی ہوئے تھے۔

گزشتہ پیرکے روز فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل اورامریکی اقدامات کے خلاف احتجاج پر دنیا بھر کی نظریں رہیں کیونکہ اسرائیلی فورسز کی طرف سے فلسطینی مظاہرین کو اس بے دردی سے نشانہ بنانے کی مثال کم ہی نظر آئی ہے۔ فلسطینیوں کی طرف سے احتجاج کو بین الاقوامی میڈیا میں زیادہ پذیرائی ملنے کی ایک خاص وجہ اور یہ تھی کہ فلسطینی مظاہرین میں شامل وہ نوجوان بھی احتجاج میں شامل رہا جو اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم تھا لیکن وہیل چیئر پر بیٹھ کر ہاتھ میں غلیل سے اسرائیلی فورسز پر پتھرپھینک کر اپنے ملک کے لیے آزادی کی جدوجہد میں حصہ ڈال رہا تھا۔

یہ نوجوان کون تھا ؟یہ کب ،کیو ں اور کیسے اپنی ٹانگوں سے محروم ہوا ؟

اس نوجوان کا نام فہدی ابو صالح ہے جو 2008میں غزہ میں اسرائیلی بمباری میں زخمی ہوا۔ اس وقت اس کی عمر 30سال تھی۔ بمباری کے باعث اس نوجوان کی ٹانگیں سب سے زیادہ متاثر ہوئیں اور تمام تر علاج کے باوجود اس نوجوان کی ٹانگیں اس قابل نہیں بنائی جا سکیں کہ وہ ان پر چل پھر سکے۔بالاخر ڈاکٹرز نے اس کی زخموں کے باعث ناکارہ ٹانگوں کو آپریشن کے ذریعے اس کے جسم سے جدا کر دیا۔

یہ نوجوان اپنی ٹانگوں سے تو محروم ہو گیالیکن اس دل کے اندر اپنے وطن کی آزادی کے لیے جلنے والی چنگاری کبھی نہ بجھ سکی اور بالاخر یہ نوجوان حالیہ احتجاج میں 38سال کی عمر میں اسرائیلی فورسز کے سنائپرز کا نشانہ بن کر شہادت کوا پنے سینے سے لگا کر ابدی نیند سو گیا اور جاتے جاتے دنیا کو یہ پیغام دے گیاکہ ظلم کے خلاف اور آزادی کی جدوجہد میں اسلحہ اور ٹانگیں ہی کافی نہیں ہوتیں بلکہ جذبہ بنیادی عنصر ہے۔

یاد رہے اسرائیلی فورسز کی جانب سے کسی بھی معذورشخص کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں‌ہے .اس سے پہلے بھی 16دسمبر 2017 کو ابراہیم ابو طورایا 29 سالہ ٹانگوں سے معذور نوجوان اسرائیلی فضائیہ کی بمباری کا نشانہ بنا تھا ،جب وہ امریکہ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارلخلافہ تسلیم کیے جانے کے خلاف فلسطینی احتجاجی مظاہرین کیساتھ شامل تھا

ابراہیم ابو طورایا کی اسرائیل کے خلاف احتجاج کی یاد گار تصویر
Middle East Ibrahim Abu Thuraya

نوٹ
اسرائيل یروشلم کو اپنا ازلی اور غیر منقسم دارالحکومت کہتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم پر اپنا دعویٰ پیش کرتے ہیں جس پر اسرائیل نے سنہ 1967 کی مشرق وسطی کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا۔