پاکستان مخالف بیان ، برطانیہ میں مقیم پاکستانی نوازشریف کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے

لندن (شیراز خان+سٹیٹ ویوز )پاکستان ہائی کمیشن کے باہر نواز شریف کے حالیہ پاکستان مخالف بیان پر احتجاجی مظاھرہ کیا گیا جس میں برطانیہ کی سیاسی سماجی تنظیموں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیٹرک فرنٹ،حبیب جان لیاری گروپ، آل پاکستان پی ایم ایل پاکستان پاک سر زمین ،اورسیزز پاکستان ویلفیر کونسل نے بھر پور شرکت کی ۔پی ٹی آئی لندن کے رہنما میاں وحید نے اپنے خطاب میں کہا کہ نواز شریف بار بار پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھاتے رہے ہیں لیکن ممبئی حملوں میں پاکستان کو ملوث کر کے وہ غداری کے مرتکب ہوئے ۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس پر سنجیدگی سے کاروائی ہوتی تو نواز شریف کی دوبارہ جرات نہ ہوتی ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنا چاہیے۔ حبیب جان نے کہا کہ حیرانگی کی بات ہے کہ نواز شریف خود بیان دیتے ہیں جبکہ تردید کرنے کیلئے کٹھ پتلی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو رکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے فیصلوں سے محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ رعایت برتی گئی ہے ۔ وزیر اعظم شاہد خاقان کو سخت اقدمات کرنے چا ہئیں تھے۔ نعیم عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف سے کسی بھی بھی قسم کی رعایت غداری کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اعلیٰ عدالتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ اس کا ازخود نوٹس لےکر نوازشریف کےخلاف کارروائی کرے ۔ مقررین نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی محبت، جندال سے کاروباری شراکت، نواز شریف کا یہ بیان سوچی سمجھی سازش کے سوا کچھ نہیں۔ نواز شریف کا بھارت کی محبت میں دیا گیا بیان کشمیر کے شہداء کے خون سے غداری ہے ۔فوج اور پاکستان کو پوری دنیا میں رسوا کرنے اور اپنے سیاسی مقا صد کے حصول کا ایک نقطہ آغاز ہے۔

مقررین نے کہا بھارت کشمیر میں ظلم کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی مدد کر رہا ہے ۔ پاکستان میں بھارت نے جاسوس چھوڑرکھے ہیں لیکن پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر بھارتی دہشتگردی کے خلاف بولنےکے بجائے پاکستان اور فوج کو بدنام کر رہے ہیں۔ ہم اس پر شدید احتجاج کرتےہیں۔ مظاہرین نے احتجاج کے دوران شدیدنوازشریف اوربھارت کےخلاف شدید نعرے بازی بھی کی ۔مظاہرین نے مودی کے یاروںکو بند کرو۔ غدار وطن پر پابندی عائد کرو۔ پاکستان زندہ باد۔ نواز شریف مردہ باد کے نعرے لگائے

۔مظاہرے کے شرکاء نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ بھارت بڑا جمہوریت کا علمدار بنتا ہے لیکن فیض احمد فیض کی 72 سالہ بیٹی محترمہ منزہ ہاشمی جو ایک کانفرنس میں شرکت کےلئے بھارت گئیں تھیں انہیں کانفرنس میں شرکت سے روک دیا گیا،ہوٹل میں قیام کی اجازت تک نہیں دی گی جو کہ قابل مذمت ہے۔ دکھ اس بات کاہے کہ نواز شریف کوبھارت کی منافقت دکھائی نہیں دیتی جس نے پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

نوازشریف آج بھی جب عدالتوں میں پیش ہوتےہیں تو15۔20 گاڑیاں مکمل پروٹوکول اور لوازمات کے ساتھ ہوتی ہیںاس کے باوجود کس دیدہ دلیری سےپاکستان مخالف بیانات داغ رہے ہیں کہ بمبئی حملوں میں پاکستان کا ہاتھ ہے ۔نواز شریف اپنی ذات کو پاکستان سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ان کا محاسبہ ہونا چاہیے۔حاجی محمد منیر اور دیگر نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس کوچاہیے کہ وہ فوری طور اس قومی مجرم کو پابند سلاسل کرنے کے احکامات جاری کریں اور نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔