چیئرمین قائمہ کمیٹی اورمریم اورنگزیب کے درمیان شدید جھڑپ

اسلام آباد (سٹیٹ ویوز ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ کے نو منتخب چیئرمین فیصل جاوید اور وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے درمیان اس وقت جھڑپ ہوگئی جب پی ٹی وی کے حوالے سے بریفنگ کے دوران پی ٹی وی پر نااہل وزیر اعظم میاں نواز شریف کے جلسوں کو براہ راست دکھانے کا نکتہ اٹھایا گیا۔ کمیٹی کے نو منتخب چیئرمین فیصل جاوید نے وفاقی وزیر سے کہا کہ پی ٹی وی پر سابق وزیراعظم نواز شریف جنہیں عدالت نے نااہل قرار دیاہے ان کے سیاسی جلسوں میں تین تین گھنٹے براہ راست تقریریں دکھائی جاتی ہیں بلکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز کی تقاریر کو بھی اسی طرح وقت دیا جاتا ہے .

اس مقصد کے لئے پی ٹی وی کا عملہ اور او ڈی ایس این جی وین کے اخراجات اٹھائے جاتے ہیں۔ جس پر وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے جواب دیا نواز شریف پانچ گھنٹے بھی تقریر کریں گے تو بھی ہم پی ٹی وی پر ضرور دکھائیں گے کیونکہ یہ حکومت اور کابینہ کا فیصلہ ہے اور میں بھی وفاقی وزیر ہوں ۔ جس پر دونوں جانب سے گفتگو میں تلخی محسوس کی گئی اور چیئرمین کمیٹی فیصل جاوید نے کہا کہ پی ٹی وی عوام کے پیسے سے چلتا ہے اگر پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو ہم اس ادارے کو اس طرح نہیں چلائیں گے جس طرح آپ لوگ چلا رہے ہیں اور قومی دولت کو ضائع کررہے ہیں۔

اس موقع پر اجلاس میں موجود سینیٹر مشتاق احمد نے بھی لقمہ دیا کہ انہیں عدالت نے نااہل قرار دیا ہے۔ جس پر وفاقی وزیر نے کہا کہ نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم کے عہدے پر رہ چکے ہیں۔ امریکہ میں بھی اوبامہ اور ہیلری کو اس طرح دکھایا جاتا ہے ۔ آن لائن کے مطابق چیئرمین کمیٹی نے کہا پھر آپ سابق وزرائے اعظم ظفر اللہ جمالی ‘ شوکت عزیز اور دیگر کو بھی دکھایا کریں اجلاس میں موجود وزارت اطلاعات و نشریات اور قومی ورثہ کے اعلیٰ افسران اس ساری صورتحال پر چپ سادھے انجوائے کرتے رہے کچھ دیر میں حالات نارمل ہوئے تو پی ٹی وی کے حوالے سے مزید بریفنگ جاری رہی تاہم تقروں کی شکل میں نشتر مارنے کو محسوس کیا جاتا رہا ہے۔

سینٹ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاویدکی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ اور پاکستان ٹیلی ویژن کے کام کے طریقہ کار ، کارکردگی کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور ایڈیشنل سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ شفقت جلیل نے قائمہ کمیٹی کو وزارت کے مینڈیٹ اور قوانین اور ماتحت اداروں بارے بھی تفصیلی آگاہ کیا ۔ پی ٹی وی نیوز اور دیگر پی ٹی وی چینلز کے بارے میں کمیٹی کو تفصیلی آگاہ کیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ پی ٹی وی نیوز 24گھنٹے بلخصوص خبرنامہ میں صرف حکومتی جماعت کی پروجیکشن میں لگا رہتا ہے۔ پی ٹی وی عوام کے دیئے گئے پیسوں سے چلتا ہے اور یہ ریاست کا چینل ہے ۔ اس پر کسی ایک سیاسی جماعت کا قبضہ قبول نہیں بلکہ اس پر پاکستان بھر کی نمائندگی ہونی چاہیے۔ صرف ایک سیاسی جماعت تشہیر کی بجائے حکومتی اقدامات نہ صرف وفاق اور پنجاب بلکہ دوسرے صوبوں کو بھی برابر نمائندگی ملنی چاہیے۔

چیئرمین کمیٹی نے کوریج کے تناسب کے حوالے سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو بتایا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں کیا تناست رہا ہے خبرنامہ اور براہ راست نشریات کے حوالے سے۔ قومی ایشوز کم اور ن لیگ جماعت کی ترجمانی زیادہ نظر آتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ قومی اور ریاستی چینل ہے صرف ایک سیاسی جماعت کے دفاع میں نشریات جاری نہیں ہونی چاہیے ۔ دیگر صوبوں کی پروجیکشن بھی ہونی چاہیے ۔

پاکستان ٹیلی ویژن کو حکومتی ترجمان چینل بنانے کی بجائے تمام سیاسی جماعتوں کے ترجمان کے طور پر چینل بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ یہ ایک سیاسی چینل بن چکا ہے اور صرف ایک ہی پروپیگنڈے پر کام کر رہا ہے ۔ملک کی مثبت چیزیں دکھانا چاہیں مگر بدقسمتی سے پی ٹی وی دیگر سیاسی جماعتوں کے حوالے سے منفی چیزیں نشر کر رہا ہے۔ پی ٹی وی کو ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے ۔