ڈوبتےطلباء کوبچانے کیلئے دریا میں کود جانے والے ننھے ہیرو کی لاش تاحال نہ مل سکی

مظفرآباد(سٹیٹ ویوز)آزادکشمیر کے ضلع نیلم میں کنڈل شاہی کے مقام پر 13 مئی 2018 ہفتے کے روز پنجاب سے تفریح کی غرض سے آئے 20 سے زائد طلبہ وطالبات نالہ پر موجود پل گرنے سے تیز موجوں کی نظر ہو گئے تھے، اس سانحے میں 12 افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے اب تک 7 افراد کی نعشیں ریسیکو اہلکاروں اور مقامی افراد کی مدد سے نکال لی گئی تھیں جبکہ 5 افراد کی نعشیں تاحال تلاش کے باوجود مل نہیں سکی ہیں اس حادثے میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ جاں بحق ہونے والے ان 12 افراد میں کنڈل شاہی کے علاقے سے تعلق رکھنے والا 12 سالہ نوجوان صائم شفاعت بھی شامل تھا جس کی نعش بھی اب تک نہیں مل سکی ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ صائم شفاعت کے والد محمد شفاعت کنڈل شاہی کے اسی تفریحی مقام پر ایک ٹھیلہ لگا رکھا ہےجس سے سیاحت کیلئے آنے والے افراد سمیت مقامی لوگ پکوڑے اور سموسے خریدتے تھے ۔ کمسن صائم بھی اپنے والد کی مدد کرتا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کمسن صائم اس وقت وہیں پر موجود تھا جب پل گرا تو درجنوں نوجوان پانی میں بہنے لگے تو کم سن صائم شفاعت نے کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانی کی تیز موجوں کی نظر ہوتے ان افراد کو بچانے کیلئے دریا میں چھلانگ لگا دی اور ایک نوجوان کی نعش کو نالے کے کنارے لگا دیا جبکہ دوسرے کو بچاتے ہوئے کمسن صائم کو پانی کی تیز موجیں اسے اپنے ساتھ بہا لے گئیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک 12 سالہ بچے نے انسانیت کے جذبے سے سرشار ہو کر جس طرح بہادری کا مظاہرہ کیا وہ قابل تحسین ہے۔ عوام علاقہ نے حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ صائم کے ورثا کی مدد کرنے سمیت دریاوں ، ندی نالوں کے گرد نوجوانوں کو بھی تربیت اور ضروری سہولیات دی جائیں تا کہ خدانخواستہ اگر مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو وہ اس سے نبٹ سکیں۔