شہرطلسمیات میں بہتےدریائے نیلم کی کہانی

تحریر : ایمی خان
ان دنوں جب نیلم کنارے جانا ہوتا ہے تو اس کے پانی کی سرسراہٹ میں ان افراد کی سسکیاں اور آہیں سنائی دیتی ہیں جو اب تک اس کی نظر ہوئے ہیں۔ کشن گنگا (دریائے نیلم) کو خونی دریا کہا جاتا ہے یہ اپنی موجوں میں ناجانے کتنے لوگوں کے پیاروں کو بہا لے گیا بظاہر یہ چپ چاپ اپنی موج میں بہتا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن غور کریں تو یہ اپنے قرب کی کہانیاں سناتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہ اپنے سینے میں بہت سوں کے دکھ،بہت سوں کے درد اور بہت سوں کے راز دفن کیے ہوۓ ہے۔

اس کے گہرے نیلگوں پانی کی طرف دیکھو تو ایسے لگتا ہے کہ ایک طلسم سا ہے جو ہمیں اسکی طرف کھینچتا ہےہمیں اپنے پاس بلاتا ہے اور کہتا ہے جب تھک جاؤ تو میرے آنگن میں آجاو اور اپنے سارے دکھ درد کے قصے مجھے سنا جاؤ، میں سب اپنے سینے میں دفن کر لوں گا میرے آنگن میں چلتی ٹھنڈی ہوائیں تمہارے دل و دماغ میں چلتی جنگ کو اپنے ساتھ اڑا لے جائیں گی اور میری اچھلتی لہریں جب تمہارے پاؤں سے ٹکرائیں گی تو ٹھنڈک کا احساس تمہارے دل و دماغ میں اتر جاۓ گا۔ تمہارے اندر چلتی جنگ رک جاۓ گی اور تم گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ جاؤ گے اور صرف سکون ہی سکون محسوس کرو گےجب میرے پاس سے اٹھ کر جاؤ گے تو میری لہریں تمہارے قدموں سے لپٹ کر تمہیں روکیں گی تم بوجھل قدموں سے ریت اور پتھروں پر چلتے پلٹ کر مجھے دیکھو گے اورآگے چل دو گے لیکن اس عہد کے ساتھ کہ تم پھر آؤ گےمیرے آنگن میں بیٹھنے،میری اور اپنی تنہائی بانٹنے۔

دریا یہ بھی کہتا ہے کہ رات کوجب مظفرآباد شہر سناٹوں میں گر جاۓ اور تمہیں نیند نہ آۓتو چپکے سے ٹیرس پر جانا اورٹھاٹھے مارتی ہوئی آوازیں سننا، سناٹے میں میری موجیں تمہیں لوری سناتی محسوس ہوں گی تم دھیرے دھیرے قدم اٹھاتے آنکھیں بند کر کے میری لہروں کی سرگوشیوں میں گاتی لوری کو سننا اور پھر جب تھک جاؤ تو جا کر سو جانا۔ میرے شہر میں جہاں جہاں جاؤ گے میں تمہارے ساتھ ساتھ جاؤں گا اور جہاں جہاں تک چلو گے میں تمہارے ساتھ چلوں گا، میری رگ رگ میں وفا اور لہر لہر میں خلوص شامل ہے مگر تم آدم زاد لوگ بہت بیوفا ہوتے ہو ،دوردراز سے جب آتے ہو میرے ساتھ خوب تصویریں بنواتے ہومیری آغوش میں موجود پتھروں پر کھڑے ہو کر ایسے بازو پھیلاتے ہو جیسے اپنے دامن میں مھجے سمیٹ کر لے جاؤ گے لیکن پھر جب جاتے ہو تو میری طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے۔

شہرمظفرآباد کے باسی یا تو بہت مصروف ہوتے ہیں یا بہت کم ظرف، ان کے پاس میرے پاس آکرسکون سے بیٹھنے کے لیے وقت نہیں ہوتا یا یہ لوگ مجھے دیکھ دیکھ کر عادی ہو گۓ ہوتے ہیں یا پھر اکتا چکے۔ ہاں جامعہ کشمیر کی وجہ سے دوردراز سے امیدوں اور امنگوں سے بھرپور چہرے لیے جب نوجوان طبقہ یہاں آتا ہے اورسرکاری اور پرائیویٹ ہاسٹلز میں مقیم ہوتا ہے تو اسکی توجہ کا مرکز میں ہی ہوتا ہوں۔ وہ میرے پاس آتے ہیں کبھی اکیلے،کبھی دوستوں کے ہمراہ، جب اکیلے ہوں تو مجھے اپنے غم سناتے ہیں اپنے راز بتلاتے ہیں اور جب ساتھ ہوں تو میرے آنگن میں بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ موج مستیاں کرتے ہیں ایک دوسرے کو قصے کہانیاں سناتے ہیں ، خوب شرارتیں کرتے ہیں میں چپکے سے انکی ساری باتیں سنتا ہوں انہیں خوش دیکھ کرمیں بھی خوش ہوتا ہوں اور کچھ یہاں پیار کے باسی بھی آتے ہیں، میری آغوش میں آکر خوب عہد و پیماں کرتے ہیں ان میں سے کچھ سچ میں پیار کرتے ہیں اور کچھ محض وقت گزاری۔ جب میں ایسے کسی دھوکے باز کو دیکھتاہوں جو لفظوں کو مجروح کر رہا ہوتا ہے ،کسی معصوم دل کے ساتھ کھیل رہا ہوتا ہے تو میرا دل کھول جاتا ہے۔ میں چیخ چیخ کر اس معصوم کو بتاتا ہوں کہ سنبھل جا سنبھل جا لیکن لفظوں کے جال میں پھنسے اس پیکر کو اس وقت صرف اپنے دھوکے باز محبوب کی باتیں سنائی دے رہی ہوتی ہیں،میں اسے بچانا چایتا ہوں کہ اس جال میں نہ پھنسے لیکن میں کچھ نہیں کر پاتا۔ آخر کو میری آواز وہی سن پاتے ہیں جو احساسات رکھتے ہیں نا کہ ظاہری اور آلودہ جذبات۔

ہاں مگر کچھ سچے پریمی بھی میرے پاس آتے ہیں ان کے سچے عہدوپیماں، وعدے اور وفائیں دیکھ کر تو میرا بھی دل بھر آتا ہے میں دل سے انکے لیے دعا کرتا ہوں لیکن وہ ناداں نہیں سمجھتے کہ وہ الگ الگ دیس کے باسی ہیں آخر انھیں لوٹنا ہے اپنے اصل کی طرف اور شاہد انکا اصل انہیں الگ کر دے ،انکی مجبوری بن جاۓلیکن وہ ناداں بھلا کہاں سمجھتے ہیں۔ پھر ان کے بچھڑنے کا کرب بھی سہا ہے میرے اس دل نے، کچھ نے تو میری آغوش میں آکر اشک بھی بہاۓ اور مجھ سے سوال بھی کیے کہ تم تو گواہ تھے میرے پیار کے ، میری شدتوں کے، تو پھر کیوں وہ مجھ سے بچھڑ گیا۔ میں کچھ نہیں بول پاتا نہ ہی کوئی تسلی دے پاتا اور کچھ تو مجھ سے نظریں چراتے ،آنکھوں میں نمی لیے ہمیشہ کے لیے میرا شہر چھوڑ جاتےہیں۔ان چہروں میں کچھ ایسے بھی ہوتےہیں جو فطرت کے شیدائی ہوتے جن کے بڑے بڑے مقاصد ہوتے۔ وہ میرے کنارے, پرسکون گوشے میں یا تو مطالعہ کرنے آتے یا پھر خاموش بیٹھ کر مجھ پر نظریں دوڑاتے اور خدا کی قدرت کو داد دیتے اور اک سہیلی کی طرح میرے دکھ سنتے، اپنا درد سناتے ہیں اور مجھ میں دفن لوگوں کے دکھوں کو بھی محسوس کرنے کا جتن کرتے۔ یہ لوگ مجھ سے باتیں کرتے میرے ساتھ اپنے مقاصد بیان کرتے مجھ بتاتے کے انھوں نے کتنا عظیم انسان بننا ہے، کتنا آگے جانا ہے لوگوں کی کس طرح خدمت کرنی ہے۔

ایسا نہیں ہوتا کہ ان لوگوں کی زندگی میں دکھ نہیں ہوتے، درد توسب کےہوتے ہیں لیکن یہ حوصلہ مند لوگ ہوتے،غموں کو پی کر مسکرانا سیکھ جاتے اور اپنی منزل کی جستجو میں چلتے جاتے اور اگر کبھی کوئی اشک انکی آنکھوں سے بہنے کو بےتاب ہو تو چپکے سے بہا لیتے، جنہیں میں آپنی آغوش میں چپکے سے چپھا لیتا ہوں۔ یہ لوگ کبھی اپنے گھر والوں کو یاد کرتے تو کبھی اپنے گزرے لمحوں کو اور پھر اپنی منزل کی تگ و دو میں لگ جاتےجسکو حاصل کرنے وہ یہاں آۓ تھے۔ ایسے لوگ میرے دل کے بہت قریب ہوتے ہیں میری ہر لہر انکے لیے دعاگو ۔ جب یہ لوگ مجھ سے بچھڑتے تو اداس چہرے، نم آنکھیں ،بھیگے رخسار لیے آخری بار میرے پاس آتے ،ریت پر اپنا نام لکھ کر خود کو زندہ رکھنا چاہتے لیکن میری لہریں انکا نام مٹا دیتی ہیں۔ وہ مجھے ٹک ٹک دیکھتے جاتے اور بہت ساری باتیں کرتے جاتے اور پھر فراق کے لمحے آ پہنچتے۔ وہ بوجھل قدموں سے اٹھتے اور مجھ سے دور ہوتے جاتے، دور جا کر اک آخری پرشکوہ نگاہ مجھ پر ڈالتے اور چلے جاتے ۔ میں بھی بہت مشکل سے ضبط کے مراحل سے گزرتا ہوا آخر رو پڑتا ، نئے آنے والوں کا انتظار کرتا اور ایسا بلکل نہیں کہ پرانے دوستوں کو بھول جاتا بلکہ میں نںۓ چہروں میں پرانوں کو ڈھونڈتا رہتا ہوں کیونکہ اس روۓ زمیں پر آدم زادوں کی بستیوں میں کہانیاں ہمیشہ اک سی رہتی ہیں ہاں بس کردار بدل جاتے ہیں۔