فالٹ لائن/طاہر احمد فاروقی

نیلم کومہمانوں کاکرب اورسبق آموزتقاضے؟

انسانی زندگی میں ماحول میں ردوبدل اور روزمرہ کے معمولات سے باہر نکل کر سیر وسیاحت دول و دماغ کو تازہ دم اور توانا رکھنے کا سب سے بہترین راستہ ہے جس کے لیے قدرت کے حسین نظاروں اور نعمتوں کا امتزاج وادیاں اپنی مثال آپ ہیں ان میں وادی نیلم ساری دنیا خصوصاً پاکستان میں مقبولیت کی معراج کی جانب گامزن ہے ‘ برف کے سیکڑوں سال سے جمے سیاہ گلیشیئرآبشار یں چشمے ‘ دریا ‘ ندی نالے ‘ جنگلات ‘ پہاڑ موسم ‘ ماحول اپنی تعریف آپ ہیں جس کے تصورات جنت نہیں تو جنت سے کم بھی نہیں ہیں ایک پل نہیں بلکہ پیدل گزر گاہ کا اہتمام جسے آسان لفظوں میں معلق پل ہی کہا جاتا ہے معصوم طلبہ کیلئے پل صراط بن گیا اس کے وجود کے سبب نالے سے اوپر سے نیچے دریا کی طرف آتے پانی کا منظر ماحول ہی ایسا ہے ‘ دیکھنے والا اس کے سحر میں قید ہو کر رہ جاتا ہے جس کا شور ‘ ہنگامہ قوت اپنی منزل دریائے نیلم سے زیادہ ہے.

مگر کون جانتا تھا یہ مقامی بچے سمیت سیر کیلئے آئے معصوم طلبہ کو فانی دنیا سے حقیقی دنیا کے سفر کی جانب رُخصت کر دے گا ‘ پنجاب کے شہروں لاہور ‘ سرگودھا ‘ فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے طلبہ سٹاف سانحہ کے سبب رب کے پاس جا پہنچے ہیں اور ان کے ماں باپ ‘ بھائی بہن ‘ عزیز اوقارب ‘ دوست رنج و الم کے کرب سے گزر رہے ہیں جس کا لفظوں سے اظہار ممکن ہے نہ ان کا کوئی نعم البدل ہو سکتا ہے ‘ صوبہ کے پی کے اور آزادکشمیر میں آٹھ اکتوبر 2005 کے بعد کے حادثوں میں یہ حادثہ سب سے زیادہ کرب و الم کا موجب ثابت ہوا ہے جس نے سارے خطہ خصوصاً نیلم سے مظفرآبادتک بزرگ مرد عورت نوجوان بچوں کو غموں کی چادر میں لپیٹ لیا ہے ‘ تو اس سفر سے ابدی منزل کی طرف چلے جانے والے بچپن سے جوانی کی طرف بڑھنے والوں سے دل و جان سے پیار کرنے والوں کا کیا حال ہو گا یہ احساسات آنسوئوں کی زبان میں رب ہی جانتا ہے اس سانحہ سے چند لمحوں پہلے سے جسد خاکی رُخصت کرنے تک احوال بیان کرنے والوں کی زبان ‘ لہجہ بھی ان کے بس میں نہیں ہے گو کہ اس گزر گاہ کے ساتھ نمایاں لفظوں میں سائن بورڈ پر ایک پہلے حادثہ اور پانچ سے زیادہ افراد کا ایک وقت میں چلنا ممنوع کی ہدایت واضح ہے مگر فطرت کے تقاضوں کے سامنے دنیا کی بڑی سے بڑی بات ہو یا قوت کوئی معنی نہیں رکھتی ہے.

فطرت کا غلبہ ہی پچپن سے جوانی کی طرف بڑھتے وجود پر ہوتا ہے ‘ فطرت بچپن جوانی دوستوں کا سنگ ہو جائے تو دماغ نہیں دل کا حکم چلتا ہے جس کے سحر میں یہ طلبہ کم و بیش 40 کے قریب ایک جسم کی طرح جڑ کر یادگار تصاویر بنواتے ہوئے معصوم بچوں کی طرح اپنا اپنا چہرہ نمایاں کرنے کے شوق میں سانحہ سے دوچار ہو کر اپنے پیاروں کو تصویر غم بنا گئے ہیں ان کا گروپ فوٹو بنانے سے قبل ’’ٹورا(دا) پاکستان ‘‘ کے ایک جملے والا پینا فلیکس انکی وطن سے عقیدت ‘ عشق معصومیت کا عکاس ہے جو پل کے آگے نمایاں کیا اور پھر فوٹو گرافری کیلئے جمع ہوئے مگر اپنی قوت سے تین چار گنا زیادہ بوجھ برداشت نہ کر سکتے ہوئے ٹوٹ کر دو ٹکڑے ہوتے پل اپنے سواروںکو بہا کر لے جاتے ہوئے مناظر اللہ پھر کبھی کسی کو نہ دکھائے مگر مقامی لوگوں کا اپنی زندگی کی پروارہ نہ کرتے ہوئے ڈوبنے والوں کو بچانے وزیراعظم فاروق حیدر کا اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ کر سپیکر شاہ غلام قادر ‘ وزراء کے ہمراہ ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی اور ہسپتال سے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس تک بچ جانے والوں اور ان کے سب شرکاء کارواں کو ہر طرح سے خیال رکھتے ہوئے ان کے غم بانٹنے میں غم خوار بنناعوام علاقہ ‘ انتظامیہ ‘ پولیس سے لیکر بری فوج کے کمانڈوز ‘ بحری فوج کے غوطہ خوروں کی ٹیموں کا آ پہنچنا اور تمام تر خطرات کو شکست دیتے ہوئے کردار جذبہ ثابت کرتا تھا سب نے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے.

ریاست پاکستان ملت پاکستان کے اسی کردار جذبے نے زلزلے کے بعد کھنڈرات و قبرستان کے منظر میں بدل جانے والے اس خطہ کے عوام کو پہلے سے زیادہ بہتری کے ساتھ آباد اور ترقی کے باب رقم کرنے میں انصار مدینہ کے پیروکاروں کی تاریخ رقم کر دی اور اس خطہ کی حکومت اور عوام نے اپنے محسنوں کے نونہالوں کے غم بانٹنے میں اُسی جذبہ کا عملی مظاہرہ کیا ۔ اللہ رب العزت ان معصوموں کے لواحقین کو صبر برداشت کی ہمت عطاء فرمائے مگر خود یہاں کی حکومت اداروں عوام کو ایام سوگ کے بعد باعمل انداز فکر جہد مسلسل کی طرح اختیار کرنا ہو گا دوبارہ یہ لمحات کبھی رونما نہ ہوں ان معصوموں کی تصاویر ناموں کے ساتھ یادگاریں قائم کرتے ہوئے باقی آنے والوں کیلئے سبق آموز اثر کا اہتمام سیاحت سے جڑے محکمہ سیاحت ‘ انتظامیہ ‘ پولیس ‘ ریسکیو ‘ ڈیزاسٹراتھارٹیز کی کوآرڈینیشن ‘محفوظ سیاحتی پلان اور ہنگامی حالات سے متعلق آرمی سے تربیتی مشقوں کے کورسز ‘ ہوٹلز ‘ ریسٹ ہائوسز ‘ سیاحتی فرموں ‘ گائیڈز کی ورکشاپوں‘ تاجروں سمیت منسلک افراد کو از خود شعور آگاہی کی تربیت و ماحول پر توجہ دینی چاہیے اور ان سب کو سیاحوں کو بروشرز ‘ پمفلٹ ‘ سٹیکرز انکی گاڑیوں ‘ ہاتھوں میں لازمی تھمانے کا عمل رضاکارانہ کرنا چاہیے.

اس سوال کا کوئی جواب ہے ؟ دریا کی موجوں سے لڑتے ہوئے پتھر پکڑ بچ جانے والا نوجوان دریا سے نکلنے کیلئے آرمی کو بلوانے کا مطالبہ کر رہا تھا پورے ملک پاکستان میں ہر سانحہ ‘ مصیبت اور آزمائش میں آخری آواز آرمی کو ہی کیوں دی جاتی ہے ۔ ملک میں سب اداروں کو اس قابل بنائیں کہ پھر جو جس کا کام ہے وہ کرے اور آوازیں نہ دینی پڑیں ؟؟؟ سانحات ‘ حادثات ‘ غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اسباب ‘ کمزوریوں کو دفن کرنے والے کامیابیوں کی منزلیں طے کرتے ہیں ‘ اور غم منا کر قول و فعل کے تضاد میں سب کچھ بھول جانے والے رسوا ہوتے رہتے ہیں ‘ سانحہ نیلم میں قربان ہونے والوں کے پینا فلیکس پر درج جملہ اور انکے بعد کے مناظر عملی ثابت کرتے ہیں ہم ایک قوم ہیں مگر لیڈر جنرل ‘ جج‘ جرنلسٹس ‘ بزنس مین ‘ آفیسر عالم سمیت سب کو امام خمینی سے لے کر مہاتیر محمد تک سادہ مکان اور زندگی بسر کرنے کا حوصلہ کرنا ہو گا ؟؟؟؟