پاکستانی واٹر کمیشن کی ہٹ دھرمی ، بھارت نے آبی ور کر دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )بھارت نے اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دریاؤں کا پانی روک لیا ، میڈیا رپورٹ کےمطابق پاکستانی واٹر کمیشن سوتا رہ گیا جبکہ بھارت نے اپنا کام کر دکھایا، محکمہ آبپاشی کے ذرائع نے بتایا کہ بھارت نے دریائے چناب اور دریائے جہلم کا پانی روک لیا ہے۔

بھارت نے دریائے چناب پر بگلیہار اور جہلم کا پانی دریائے نیلم پر کشن گنگا ڈیم تیار کر لیے ہیں، دریائے چناب کا 17 ہزار کیوسک پانی بھارت نے روک لیا کشن گنگاڈیم بننے سے پاکستان 1 ہزار کیوسک پانی سے محروم ہو گیا ہے۔

دوسری جانب آج ہیواپڈانے مختلف آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعداد وشمار جاری کیے۔ جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق دریائےسندھ میں تربیلاکے مقام پرپانی کی آمد41200 کیوسک اور اخراج 34200 کیوسک، دریائےسندھ میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد37000 کیوسک اور اخراج37000 کیوسک، دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پرپانی کی آمد37500کیوسک اور اخراج35000 کیوسک، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پرپانی کی آمد 17500کیوسک اور اخراج7600کیوسک ہے تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1386فٹ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح1394.38 فٹ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اورقابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ0.087 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050فٹ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1093.30فٹ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.256 ملین ایکڑ فٹ ہے چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول638.15فٹ، بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 642.40فٹ، بیراج میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.066 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

لیکن بھارت کے ڈیم بنانے کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی شدیدقللت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یاد رہے کہ رواں برسبھارت کے وزیر مملکت نتن گڈکری نے ہریانہ میں ایگریکلچرل سمٹ 2018 کی اختتامی تقریب کے دوران پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اترکھنڈ کے دریاؤں پر تین ڈیم بنا کر پاکستان جانے والےپانی کو روک لیں گے تاکہ برسات نہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والے پانی کے بحران کے وقت ان ڈیموں کا پانی استعمال کیا جا سکے یاد رہے کہ اس سے قبل بھی بھارت پاکستا ن کے حصے آنے والے دریاوں پر ڈیم بنا نے کا اعلان کر چکا ہے۔ بھارت ایل او سی پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی بھی کرتا آیا ہے ۔