شاہراہ مجاہد اول کا کریڈٹ

گذشتہ دنوں کو ہالہ سے دھیر کوٹ روڈ اور اسکی اہمیت کے حوالے سے لکھا تھا ۔جس پر محترم برادر م خالد نوازنے فون کیا اور کہا کہ میرے کالم کے حوالے سے اپنا نقطہء نظر لکھنا چاہتے ہیں۔میں نے کہا Welcome ،تنقید برائے تنقید نہیں تنقید برائے تعمیر ہونی چاہئے بے شمار دوست احباب اور عزیزوں نے اظہار تشکر اور کچھ نے تنقید کی کہ میں نے مجاہد اول ثانی کی تعریف اور خوشامد کی ہے۔

91 ء سے 96 ء میں مجاہد اول سردار قیوم خان صاحب وزیر اعظم تھے ،تو Defacto وزیر اعظم سردار عتیق احمد تھے۔بے شمار وزراء اور سیکریٹری صاحبان کو جوتے اتار کر انکے کمرے میں جاتے ہوئے دیکھا ۔یقیناًآج راجہ فاروق حیدر کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہو گا۔شائراہ مجاہد اول کے حوالے سے لکھا تھا کہ حقیقی معنوں میں مجاہد اول ثانی ہیں،اس لئے کہ غربی باغ کے غیور اور بہادر عوام نے حکومت جماعت اسلامی کی بھر پور مخالفت کے باوجود سردار عتیق خان کو کامیاب کرایا اور سردار قیوم صاحب کا حقیقی جانشین تسلیم کیا۔

مجاہد اول سردار قیوم ایک تھے اور ایک ہی رہیں گے۔انکا نہ تو کوئی ثانی تھا نہ ہے اور نہ ہو گا۔مجاہد اول سردار قیوم خان نے اپنی ذات کی نفی کی اور ہمیشہ کے لئے ’’امر‘‘ ہو گئے۔کہاں ریاست جموں و کشمیر کی سواد اعظم جماعت مسلم کانفرنس جسکا تاریخی اور نظریاتی کردار تھا۔ریاست جموں و کشمیر کی سیاست مسلم کانفرنس کے گرد گھومتی تھی۔آج مسلم کانفرنس کو سیاست میں زندہ رہنے کے لئے کنٹرول لائن کو روند نے جیسا انقلابی اعلان کرنا پڑا،حالانکہ مسلم کانفرنس کے دور اقتدار میں ہی 1992 ؁ء میں لبریشن فرنٹ کے قائد امان اللہ خان مرحوم جو کہ خود مختار کشمیر کے حامی تھے،انھوں نے بھی کنٹرول لائن توڑنے کے لئے چکوٹھی مارچ کیا جسکو روکا گیا تھا۔

’’شائراہ مجاہد اول ‘‘کے حوالے سے معزز قارئین نے اپنے جذبات اور خیا لات کا اظہار کیا جو کہ میرے لئے مقدم ہیں،انکی قدر کرتا ہوں۔اس سڑک کے حوالے سے یقیناًان تمام لوگوں کو کریڈیٹ جاتا ہے۔جنھوں نے اسکی تعمیر اور تکمیل کے حوالے سے جدوجہد کی۔جماعت اسلامی کے میجر لطیف خلیق نے کوہالہ دھرنا دیااور روڈ کہ جلد تعمیر کے حوالے سے احتجاج کیا، راجہ افتخار ایوب ،راجہ سجاد ایڈووکیٹ ،ٹرانسپورٹ فیڈریشن اور انجمن تاجران دھیر کوٹ کا بھی بھر پور کردار ہے۔دھیر کوٹ پریس کلب اور صحافی برادری کا ذکر نہ کرنا اپنی برادری سے زیادتی کی بات ہو گی۔

میڈیا کا بھر پور اور جانبدار کردار ہے۔برادرم سید خالد گردیزی صاحب نے فیس بک پر کوہالہ دھیر کوٹ روڈ پر تبصرہ کیا۔میں پوری طرح انکے خیا لات سے متفق ہوں۔دھیر کوٹ سے اسلام آباد میں روشن ستارے کی طرح نظر آنے والا متحرک صحافی ہیں،جنھوں نے کھرب پتیوں کے شہر میں اپنی موجودگی کا احساس زندہ رکھا ہے۔Wel Done Proud of you Shah Sahab) ۔

ایک تو سڑک ’’مجاہد اول ‘‘ کے نام سے یاد رکھی جائے گی۔تاریخ میں رقم ہو گیا۔کریڈٹ اور ڈس کریڈٹ سے بھڑر اسکی اقتصادی اہمیت ہے۔سڑک کی تعمیر کا آغاز اور کشادگی کا کام مسلم کانفرنس کے دور سے ہوا پھر گذشتہ 5 سالوں میں پیپلز پارٹی کا اقتدار تھا۔جسمیں سردار عتیق احمد خان آن بورڈ تھے،حکومت کے ساتھ ،بہر حال سڑک تعمیر ہو گئی۔سردار عتیق کی کاوش تھی اور ہے۔اہلیان غربی باغ والو۔۔۔ آج تو آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے،پاکستان میں بھی ہے۔آزاد کشمیر میں جماعت اسلامی حکومت کا حصہ ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ذاتی دوست اور میڈیا کے اہم رکن جناب مشتاق منہاس آزاد کشمیر حکومت کے اہم وزیر بھی ہیں۔محترم برادرم مشتاق منہاس کے مطالبے پر جہاں باغ میں خواتین یونیورسٹی کا قیا م ہوا۔باغ میں ہسپتال کا اعلان ہوا اور پھگواڑی کوہالہ کھیپدار پر پل کا بھی نوٹیفیکیشن جاری ہو گیا ہے۔اب یقیناًراجہ فاروق حیدر اس پر عملدرآمد کرائیں گے۔آزاد کشمیر میں گذشتہ 67 سالوں سے غربت ،بے روزگاری اور افلاس ہے۔تعلیم ،صحت اور بنیادی ضرورتوں کا فقدان ہے۔آج سب کو ان کے خلاف جہاد کرنے کی ضرورت ہے۔اس سال پاکستان سے 9 لاکھ سیاح آزاد کشمیر گئے۔اسمیں حکومت اور اداروں کا کوئی کمال نہیں ہے۔آج بھی آزاد کشمیر حکومت کو توفیق نہیں کہ آزاد کشمیر انٹری پوائنٹ پر کوئی ٹوریسٹ گائیڈ کاؤنٹر بنائیں۔پاکستان سے جانے والے سیاحوں کو خوش آمدید کہئے ،انکو راستہ بتائیں۔

کوہالہ،برارکوٹ،ٹائیں،دان گلی اور منگلہ پر آزاد کشمیر پولیس کا ایک سپاہی شناختی کارڈ مانگتا ہے،پاکستانی ایڈریس پر بلا وجہ تنگ کرتے ہیں،انکو شرم آنی چاہئے،انکو مہمان اور دہشت گردوں میں فرق معلوم نہیں ہے؟۔کم از کم ان راستوں پر تو کوئی پڑھا لکھا اور شریف پولیس آفیسر کھڑا کریں،جو رشوت طلب نہ کرے۔آزاد کشمیر میں بے شمار جگہ ہیں جہاں سیاحت کے فروغ کے لئے بہت کام ہو سکتا ہے۔آزاد کشمیر میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔صرف تعصب کی عینک اتاریں ۔برادری ازم اور پارٹی بازی سے نکلیں ،آج اگر شفاف تحقیقات اور احتساب ہو توآزاد کشمیر کے 90% سیاستدان اور سرکاری ملازمین گرفتار ہوں۔

آزاد کشمیر کے حکمرانوں نے پاکستان میں اپنی جائدادیں اور کاروبار بنا لیا ہے۔عملاََ آزاد کشمیر سے لا تعلق ہو گئے۔تنقید تو بہت آسان ہے۔تعمیر و ترقی کے دعوے داروں سے عرض ہے کہ ابھی گذشتہ دنوں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر دھیر کوٹ آئے کون سا تاریخی اعلان کیا،کیا کہا تعمیر و ترقی کے لئے ؟ کوئی فنڈ دیا؟۔غربی باغ میں لیڈر تو بہت ہیں۔مگر شائد کام کرنے والا کوئی نہیں۔کہتے ہیں کہ ایک گاؤں میں ایک بزرگ گئے ،گاؤں کے لوگوں نے بہت تنگ کیا کھانا بھی نہ دیا اور گاؤں سے بھگا دیا۔

وہ بزرگ دوسرے گاؤں میں گئے جہاں بہت خدمت کی پیار اور محبت دی۔احترام اور عزت دی گاؤں سے جانے نہ دیا ۔ایک دن جب بزرگ واپس جانے لگے تو خدمت کرنے والے گاؤں کے لوگوں کو ’’دعا‘‘ دی اور تنگ کرنے والوں کو ’’بد دعا ‘‘ دی۔کچھ عرصہ میں جس گاؤں کو ’’دعا ‘‘دی وہ خوشحال ہو گئے ترقی کی اور کامیاب ہو ئے۔جس گاؤں والوں کو ’’بد دعا ‘‘دی تھی وہ برباد ہو گئے تباہ ہو گئے۔گھر گھر جھگڑے ہوئے،کچھ عرصے کے بعد بزرگ کا اسی گاؤں سے دوبارہ گذر ہوا تو کچھ دانا لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے کیا دعا اور بد دعا دی۔

تو انہوں نے کہا کہ جس گاؤں والوں نے خدمت کی تو میں نے دعا دی کہ اے اللہ انکو ایک نیک اور ایماندار ’’لیڈر‘‘ عطا کریں،اور جس گاؤں کو بد دعا دی تو کہا کہ اے اللہ انکے گھر گھر لیڈر پیدا کر دے ۔وہاں لڑائی جھگڑا ہے،تباہی اور بربادی ہے۔غربی باغ میں بھی گھر گھر لیڈر ہیں،اہلیان غربی باغ صرف دھیر کوٹ بازار سے نیلا بٹ روڈ پر جائیں گندگی،آلودگی اور بدبو سے تعفن آ رہا ہے۔قدرتی ماحول تباہ ہو رہا ہے۔کم از کم اس گندگی تو ختم کرا دیں۔یا اس کے لئے بھی وزیر اعظم پاکستان آئیں گے۔’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘۔اس پر عمل کریں ’’عمل سے زندگی بنتی ہے‘‘۔

خالد قریشی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں