اسلام آباد کے اسکولوں میں منشیات؟ وزیر داخلہ توجہ دیں

سینیٹ (ایوان بالا) کی کمیٹی برائے داخلہ کو ایک بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد کے اسکولوں کے %53 بچے منشیات کے عادی ہیں۔ معصوم بچوں کو نشہ فروخت کرنے والوں میں کچھ اساتذہ اور پہلے سے نشے کے عادی طلباء اور طالبات بھی شامل ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسکول کے باہر کھوکھے اور ریڑھی والے بھی اسکول کے بچوں کو منشیات کی فروخت کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔اگر وفاقی دارلحکومت کے تعلیم کے اداروں کی صورت حال یہ ہے تو باقی ملک کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین اورسابقہ وفاقی وزیر داخلہ جناب عبدالرحمٰن ملک صاحب کو خراج تحسین پیش کرنا چاہئے جنہوں نے اہم ترین مسئلہ پر توجہ دلائی۔گذشتہ دنوں ایک بڑے اخبار کے کالم میں بہت تفصیل سے لکھا گیا ۔کالم نگاربھی خراج تحسین کے مستحق ہیںجنہوں نے اہم ترین مسئلے کو اجاگر کیا ،بچے پاکستان کا مستقبل اور کل ہیں،آج ہم پاکستان کا مستقبل برباد کر رہے ہیں،ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ایوان بالا کی اس رپورٹ اور کاروائی کے بعد ایک کہرام برپا ہونا چاہئے تھا،مگر یہاں تو دھرنے اور دھرنے Plus کی تیاریاں بامِ عروج پر تھیں،حکومت بھی جوابی حملے کر رہی ہے،یہ سوچے بغیر کہ نقصان توبہرحال ملک کا ہو گا۔

وفاقی دارلحکومت کے اسکولوں کے %53 بچے منشیات کے عادی ہیں۔کیا بحیثیت ایک قوم ہم %100 بچوں کے عادی ہونے کے منتظر ہیں؟۔ یقینا اگر دردِ دل رکھنے والے انسانوںکا معاشرہ ہے تو پھر آج دہشت گردی سے سنگین مسئلہ تعلیمی اداروں میں خوفناک حد تک بھڑتا ہوا منشیات کا استعمال ہے،اس پر ہنگامی بنیادوں پر توجہ دینی ہو گی۔

محترم وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بہت مخلص ،محب وطن اور ایماندار انسان ہیں،ماشا اللہ صاحب اولاد بھی ہیں،اولاد کے درد کو بھی سمجھتے ہوں گے۔انکو معلوم کرنا چاہئے کہ اگر مذکورہ رپورٹ درست ہے تو فوراََ ایسے تعلیمی اداروں کا معلوم کریںکہ کہاں ایسا کام ہو رہا ہے،جو بھی اورجس حیثیت کے لوگ ملوث ہیں انکو الٹا لٹکایا جائے۔گذشتہ دنوں ایک غریب عیسائی برادری کا محنت کش آیا جو کہ کچی آبادی کا مکین تھا جو کہ سرکاری اراضی پر بنی ہوئی ہے،اس نے بتایا کہ تھانے کے اہلکار تنگ کر رہے ہیں،تھا نے بات کی تو پولیس آفیسر فرمانے لگے کہ اس شخص کے خلاف ایک خاتون نے درخواست دی ہے کہ مجھ سے پیسے لیکر تحریر لکھی تھی مگر کچی آبادی میں جگہ نہ دی جو کہ اس نے فروخت کی تھی۔

پولیس اہلکار سے پوچھا کہ سرکاری زمینوں کی خرید و فروخت کیسے ہو سکتی ہے۔بہر حال تھا نے والوں نے اس کو تھانے بٹھا لیا،اسی روز شام کو واپس آیا تو میں نے پوچھا کہ کیسے واپس آئے؟ ،تو اس نے کہا کہ کچی آبادی میں کباڑ خانے والا لیکر آیا اسکا تھانے میں بہت تعلق ہے۔ظاہر ہے ایسے کباڑ خانے والوں کا کاروبار ہی ایسا ہے کہ پولیس سے تعلق انکی مجبوری ہے۔کباڑ خانے والے چوری کا مال لیتے ہیں۔I.C.T کے ایک اعلیٰ آفیسر کسی کو ایڈریس سمجھا رہے تھے کہ وہ گھر فلاں گلی میں ہے،جہاں معروف شخص شراب فروخت کرتا ہے۔انتظامیہ کو معلوم سب کچھ ہے مگر خدا کے لئے اس دیس کے نونہالوں کو محفوظ کریں،پاکستان کا مستقبل محفوظ کریں۔

ایسے تمام تعلیمی اداروں کا سروے کر کے تحقیقات کرائی جائے۔کم از کم اسلام آباد کی حد تک تمام تعلیمی اداروں میںزیر تعلیم بچوں کا ڈوپ ٹیسٹ لازمی کرایا جائے۔پرائیویٹ سیکٹر میں قائم اسکول %90 گھروں میں ہیںجہاں کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے۔بچوں کو صحت مند تفریح کے مواقعے میسر ہی نہیں ہیں ،صرف کمپیوٹر اور موبائل پر مصروفیت ہے۔CDA کے تمام گراؤنڈ کلبوں کے نام پر چند لوگوں کو دیتے ہیں جو کہ اپنیPartner Ship یا پھر 10 ہزار روزانہ پر دیتے ہیں,بے شمار بچے کہاں جائیں گے؟۔تمام کچی آبادیوں کو چیک کیا جائے کہ منشیات میں ملوث لوگوں کو سر عام سزا دی جائے فوری طور پر آگاہی مہم چلائی جائے،اسکولوں میں درس قرآن کا اہتمام کیا جائے،اسکولوں کی اسمبلی میں جہاں تلاوت قرآن ہوتی ہے وہاں نعت اور درس کا انتظام کیا جائے۔

محترم وزیرداخلہ چوہدری نثار صاحب ایک عدد سروے یہ بھی کرایا جائے کہ مدارس میں زیر تعلیم بچے اور انتہائی مہنگے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کا اخلاقی معیار کیا ہے؟۔اسکولوںاور مدارس میں اچھی باتیں ضرور شیئر کرنی چاہئے۔منشیات کا زہر قوم کے بچوں میں منتقل کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، ان کو کڑی سزا دی جائے۔جناب وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان صاحب اسلام آباد میں ایک کثیر تعداد N.G.O,s کی ہے ،کیا انکا ایجنڈہ صرف پاکستان کو ساری دنیا میں رسواء اور بدنام کرنا ہے؟۔

ان N.G.O,s نے ایسی تحقیقات کیوں نہ کی؟بچے منشیات سے بچانے کے لئے کوئی Walk ،سیمینار ،مقالہ مضمون کچھ بھی تو نہیں کیا۔ایسی خوفناک صورت حال پر تمام محب وطن قانون کو اپنا بھر پور کردار ادا کرنا چاہئے،میڈیا چینل کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔صرف NADRA میں لائن سیدھا رکھنا یا پھر چند روپے کی کرپشن بے نقاب کرنے پر لاکھوںوسائل خرچ کرنا ہی اصل کام نہیں ہے۔صرف ریڑھی اور ٹھیلے والوں کی ناجائز منافع خوری کی تشہیر کرنا کام نہیں ہے،کیا میڈیا اس بات کی کھوج لگاتا ہے کہ بچوں کو منشیات کن محفوظ ذرائع سے مہیا کی جاتیں ہیں۔

اسکولوں کے اندر کینٹین اور باہر ریڑھی والے کیا کرتے ہیں، بچے اسکول سے Pick & Drop کن لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں وہ کون ہیں؟۔اسکولوں کا ماحول اچھی تعلیم اور تربیت کا بھی ذمہ دار ہیں۔آج کل صرف کاروبار کے لئے بچوں کی اخبارات میں تصویر دے کر اپنا Result بتاتے ہیں۔ اہلیان اسلام آباد سے گذارش ہے کہ معلوم کریں کہ اسلام آباد کے وہ کون سے تعلیمی ادارے ہیں جہاں %53 بچے منشیات کے عادی ہیں۔یہ رپورٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں پیش ہوئی اور اخبارات میں بھی آئی۔ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہو گا تو پاکستان اور ہماری آنے والی نسل محفوظ ہو گی۔اُمید ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اس اہم ایشو پر توجہ دیں گے۔

خالد قریشی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں