ہولوکاسٹ HOLOCAUST

صحافت علم و ادب اور تاریخ کے ایک ادنیٰ ترین سے طالب علم کی حیثیت سے یہ اقرار کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ مجھے بھی انسانی تاریخ کے ایک ایسے باب کے بارے میں قطعی طور پر علم نہیں تھا جسے دنیا ہولوکاسٹ (Holocaust) کے نام سے جانتی ہے اور مختلف بین الاقوامی میڈیا کے محدود مطالعے کے دوران یہ بات بھی میرے سامنے آئی کہ دنیا بھرمیں جہاں بھی اجتماعی طور پر ظلم و ستم اور قتل غارت گری کا واقعہ ہوتا ہے تو اسے جدید دور کا ہولوکاسٹ (Holocaust of New Era) ( کہا جاتاہے گزشتہ دنوں بالخصوص حلب Aleppo)) شام میں ہونے والے ظلم و ستم کو بھی جدید دور کے ہولو کاسٹ سے تشبیہ دی جاتی رہی.

بطور ایک Investigative Journalist میرے اندر یہ تجسّس شدّت سے ابھرا کہ یہ جاننا اب بہت ضروی ہو گیا ہے کہ ہولوکاسٹ کیا ہے اور اس کی تاریخ کیا ہے ؟؟ میں نے اس حوالے سے کم از کم تین درجن احباب سے جب ہولو کاسٹ کے بارے میں استفسار کیا تو اکثریت نے نفی میں جواب دیا اور چند افراد نے یہ بتایا کہ ہٹلر نے جو یہودیوں کا قتل عام کیا تھا بس اسے ہولو کاسٹ کہتے ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں پتہ ، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بالخصوص پاکستانی عوام کی اکثریت ہولوکاسٹ کی حقیقت تو دور کی بات ہے اس لفظ سے بھی قطعی نابلد ہے بہر طور میں نے جو کچھ بھی ہولو کاسٹ (Holocaust) کے بارے میں تھوڑا بہت جاناہے وہ قارئین کی خدمت میں پیش ہے اوریہ بھی ایک تلخ ترین حقیقت ہے کہ ایک باقاعدہ منظم لیکن پراسرار طریقے سے اس واقعے کو دنیا کی نظروں اور آنے والی نسلوں سے خفیہ رکھا گیا اور آج تک وہ خفیہ ہاتھ سامنے نہیں آ سکا جس کی وجہ سے ہولو کاسٹ دنیا کی اکثریت عوام سے اوجھل رہا.

ہولوکاسٹ (Holocaust) کے بارے میں جب میں نے دستیاب لیکن محدود ذرائع سے مطالعہ کیا تو تو ایک بات واضح ہوئی کہ ہولو کاسٹ میں صرف یہودیوں کا قتل عام نہیں کیا گیا بلکہ اس میں ان سب دیگرلوگوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جن سے ایڈوولف ہٹلر اور اس کے پیرو کاروں کا سیاسی نظریاتی لسانی یا کسی اور وجہ سے اختلاف تھا اور یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ 1933ء میں نازی ایڈوولف ہٹلر کی قیادت میں جرمنی میں بر سر اقتدار آئے تو وہ اپنے آپ کو نسلی طور پر سب سے اعلیٰ اور برتر قوم سمجھتے تھے اور یہودیوں کو اپنا سب سے بڑا دشمن گردانتے تھے.

ہولوکاسٹ اصل میں دو یونانی الفاظ ہولو (Holo) اور(Koustas) کا جوڑ ہے جس کامطلب آگ کے ذریعے قربانی ہے ہولوکاسٹ کے واقعے میں نازی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے کم وبیش 60لاکھ یہودیوں اور دیگر مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارا 1945ء سے قبل اس لفظ کو ایسی قربانی سے یاد کیاجاتا تھا جو یونانی اپنے دیوتائوں کو خوش رکھنے کرنے لئے آگ پر دیا کرتے تھے لیکن 1945ء کے بعد یہ لفظ ایک نئے اور خوفناک مطلب کے ساتھ یاد رکھا جا رہا ہے میں یہ بات پہلے تحریر کر چکا ہوں کہ نازی اپنے آپ کو برتر و اعلیٰ سمجھتے تھے اور یہودیوں کو نہ صرف گھٹیا بلکہ اپنے لئے ایک بڑا خطرہ بھی تصور کرتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ ہولوکاسٹ کے واقعے کے دوران جرمن نازیوں اور ان کے اتحادیوں نے یہودیوں کے علاوہ جن متعدد دیگر اقوام کو بھی بد ترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے موت کا گھاٹ اتارجن اقوام یا لسانی گروہوں سے نازیوں کو ان دیکھا خوف و خطرہ لاحق تھا کہ یہ لوگ مستقبل میں ان کے لئے کوئی مسئلہ بنا سکتے ہیں یا جرمن قوم پر غالب آ سکتے ہیں ان میں رومانیہ روس پولینڈ اور چیکو سلواکیہ کے علاوہ کمیونسٹ سوشلسٹ اور دیگر لسانی گروہ بھی شامل تھے زیادہ تر افراد کو مقبوضہ پولینڈ کے حراستی کیمپوں میں گیس چیمبرز میں بند کر کے موت کے گھاٹ اتارا گیا.

ہولوکاسٹ میں 1933ء سے لے کر 1945ء تک جرمنوں اور ان کے دیگر اتحادیوں نے یہودیوں سمیت ہر اس شخص کو اذیّت ناک طریقے سے قتل کیا جو ان سے نظریاتی سیاسی یا مذہبی اختلاف رکھتا تھا 1933ء میں یورپ میں یہودیوں کی آبادی 90لاکھ سے زائد تھی اور ان میں بیشتر یہودی ایسے ممالک میں رہتے تھے جن پر دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی جرمنی اور اس کے اتحادی ممالک سے قبضہ کر لیا تھا ان قابض اقوام نے 1945ء تک یورپ کے ہر تین میں سے دو یہودی قتل کر ڈالے جرمن حکام کا یہ اقدام اس پالیسی کا حصہ تھا جسے ایڈوولف ہٹلر نے حتمی حل (Final Solution) کا نام دیاتھا.

یہ بھی ایک دلچسپ بات ہے کہ تاریخ اس امر سے بالکل نابلد ہے کہ ہٹلر اور اس کے رفقاء کن بنیادوں پر یہودیوں کو جرمنی کے لئے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتے تھے حتیٰ کہ ہٹلر کی خود کشی کے بعد ملنے والی اس کی ذاتی ڈائریوں میں یہ بات کہیں نہیں ملی کہ ہٹلر یہودیوں سے اس قدر نفرت کیوں کرتا تھا.؟؟ لیکن تاریخ اس امر کی ضرور گواہ ہے کہ یہودیوں کے علاوہ نازیوں کے نسلی امتیاز کا نشانہ بننے والوں میں دو لاکھ کے قریب روما خانہ بدوش بھی شامل تھے علاوہ ازیں جرمن نسل سے تعلق رکھنے والے ذہنی اور جسمانی طور پر معذور کم از کم دو لاکھ افراد کو رحم دلانہ موت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا1940ء میں جرمن افواج نے ایڈوولف ہٹلرکی سلطنت میں توسیع کرتے ہوئے ڈنمارک ناروے نیدر لینڈ بلجیم اور لکسمبرگ پرقبضہ کر لیا اس دوران ان ممالک سے لاکھوں یہودیوں اور خانہ بدوش قبائل کو پولینڈ میں بنائی گئی عارضی یہودی بستیوں (Ghettos) میں منتقل کر دیا گیا.

جہاں ان سے جبری مشقت لے جانے لگی اس دوران جرمن افواج نے روس کو فتح کرنے کے لئے چڑھائی کر ڈالی اور جنگی تاریخ میں ظلم و ستم کے انتہا کی ایک نئی تاریخ لکھ ڈالی اس حملے کے دوران جرمن افواج نے کم و بیش 500,000لاکھ روسی یہودیوں کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتاردیا اس مقصد کے لئے جرمن افواج نے خصوصی طور پر موبائل کلنگ یونٹس (Mobile Killing Units) بنا رکھے تھے اس کے علاوہ حملے کے دوران بیس لاکھ سے زائد روسی قیدی بھی نازی جرمنوں کے ستم کا نشانہ بنے انہیں قتل کر دیا گیا یا پھر وہ جنگی کیمپوں میں بھوک بیماری اور عدم توجہی اور بد سلوکی کے باعث ہلاک ہوئے سوویت یونین پر حملے کے دوران جرمن سیکیورٹی پولیس کے سپیشل قاتل یونٹس جرمن دستوں کے پیچھے پیچھے حرکت کرتی تھیں ان یونٹس نے دس لاکھ سے زائد یہودی مردوزن کے علاوہ لاکھوں دیگر غیر یہودیوں کو بھی قتل کیا 1941ء سے لے کر 1944ء کے درمیانی عرصہ میں نازی حکام نے جرمن مقبو ضہ علاقوں سے لاکھوں یہودیوں کو Ghettos اور دیگر کیمپوں میں منتقل کیا.

جہاں پر انھیں مخصوص طریقے سے تیار کئے گئے گیس چیمبرز کے ذریعے ہلاک کر دیاگیا ستمبر 1941ء میں ایڈوولف ہٹلر اور اس کے ساتھیوں نے حتمی حل (Final solution)کی طرف باقاعدہ عملی طور پر کام کا آغاز کر دیا اور ہر یہودی کو پیلے ستارے کا نشان (Yellow Star) لگا دیا گیا جس کا مقصد ان کو ہر جگہ پر ٹارگٹ کرنا تھا گویا نازی ریاست نے ہر کس و عام کو یہودیوں کے قتل عام کی اجازت دے دی اس دوران جرمنوں نے ہزاروں کی تعداد میں ان پولش دانشوروں کو بھی قتل کر ڈالا جو غیر یہودی تھے لیکن جرمن قیادت سے اختلاف رکھتے تھے اس کے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں پولش اور سوویت شہریوں کو جرمنی اور مقبوضہ پولینڈ کے بیگار کیمپوں میں بھیج دیا گیا جہاں پر دوران مشقّت ان پر بے رحمانہ تشدّد کیا جاتا اور اکثر لوگ اسی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر جاتے اس حوالے سے شمالی پولینڈ کے مقام آ ش وٹز (Auschwitz) میں بدنام زمانہ ڈیتھ سیل سر فہرست ہے Auschwitz کو ابتدائی طور پر سیاسی قید خانے کے لئے استعمال کیا گیا.

لیکن بعد ازاں اسے مکمل طور پر ڈیتھ کیمپ میں بدل دیا گیا جس میں منظم طریقے سے سینکڑوں کی تعداد میں گیس چیمبرز اور بھٹیاں بنائے گئے جن میں لاکھوں انسانوں کا بہیمانہ قتل عام کیا گیا Auschwitz کو اس وجہ سے بھی ایک آئیڈیل ڈیتھ کیمپ تصوّر کیا جاتا تھا کہ یہ جگہ جرمن مقبوضہ یورپ کے عین وسط میں واقع تھی اس کے علاوہ یہ جگہ ریلوے لائن کا جنکشن بھی تھی جس کی وجہ سے جرمن مقبوضہ یورپ سے قیدیوں کی بذریعہ ریل Auschwitz منتقلی نہایت آسان تھی.

یہاں پہنچنے والے لاغر بیمار اور ضعیف العمر افراد کو فوراً ہی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا جب کہ صحت مند افراد سے جبری مشقّت لی جاتی اور مختلف فیکٹریوں میں بارودی مواد اور جنگ میں کام آنے والے اسلحہ سمیت دیگر اشیاء کی تیّاری کا کام لیا جاتا Auschwitz کی متعدد شاخیں بھی تعمیر کی گئیں جن میں عقوبت خانے موجود تھے اس کے علاوہ یہاں پراجتماعی غسل خانے(Bath Houses)بھی تعمیر کئے گئے جنھیں گیس چیمبرز کے طور پر استعمال کیا جاتارہا لاشوں کو جلانے کے لئے بھٹیّوں کا استعمال کیا جاتا تھاجرمن پولیس نے ہزاروں ایسے سیاسی مخالفین کو بھی نشانہ بنایا جن میں مزدور یونینوں کے اراکین کے علاوہ کمیونسٹ سوشلسٹ نظریات کے حامل افراد بھی شامل تھے.

نازی حکومت نے ایسے کیمپوں میں خیالی اورحقیقی سیاسی و نظریاتی مخالفین کو قید میں رکھا جاتا یہودی آبادی پر ظلم و ستم کرنے کے ساتھ ساتھ جرمنوں نے جنگ کے دوران مخصوص یہودی بستیاں (Ghettos)اور بیگار کیمپ بھی قائم کر رکھے تھے.

1941 ء کے آ خر میں جرمنوں نے وسیع پیمانے پر Ghettos سے یہودیوں کو پولینڈ کے Concentrations کیمپس میں منتقل کرنا شروع کر دیا اس ماس ٹرانسپوٹیشن میں ضعیف العمر لاغر مریض اپاہج مرد و زن کے علاوہ کم سن بچے ترجیحی بنیادوں پر شامل کئے گئے 17 مارچ 1942 ء کے دن لبلن Lublin کے قرب میں واقع بیلزک Belzec کیمپ میں پہلی بار زہریلی گیس کے ذریعے اموات کا سلسلہ شروع کیا گیا اس کے علاوہ 5دیگر کیمپ بھی قائم کئے گئے تھے جن میں Auschwitz-Birkenau سر فہرست تھا 1942ء سے لے کر 1945ء تک جرمن مقبوضہ یورپ اور دیگر اتحادی ممالک سے لاکھوں یہودیوں کو ان کیمپوں میں منتقل کیا گیا.

ان میں سب سے زیادہ منتقلی 1942ء کے آخر میں کی گئی جس میں صرف وارسا کی یہودی بستی سے تین لاکھ یہودی ان کیمپوں میں منتقل کئے گئے صرف Auschwitz میں دو ملین افراد کو گیس چیمبرز میں ہلاک کیا گیا ان کیمپس میں لاکھوں افراد خوراک کی شدید کمی عدم توجہی کے باعث بھی جاں بحق ہوئے 1944ء میں روسی افواج کی فتح کے باوجود ہنگری سے یہودیوں کو ان Auschwitz میں منتقل کیا جاتا رہا جہاں روزانہ 12ہزار یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے آخری مہینوں میں اندرونی اختلافات کے باعث ایڈوولف ہٹلر نے خوکشی کر لی اور جرمن افواج نے اتحادی افواج کے سامنے شکست تسلیم کر لی جرمن افواج نے مذکورہ کیمپس میں سے انخلاء شروع کر دیا.

دوسری جنگ عظیم کے ان آخری مہینوں میں ایس ایس گارڈز ان قیدیوں کو ریل گاڑیوں کے ذریعے یا پھر موت کے مارچ (Death March) سے موسوم جبری پیادہ مارچ کے ذریعے دوسرے مقامات پر منتقل کرتے رہے تا کہ اتحادی افواج ان قیدیوں کو آزاد نہ کرا سکیں ان جبری مارچوں کے دوران بھی250,000 سے 375,000 افراد موت کا شکار ہو گئے جیسے جیسے اتحادی فوجیں جرمنوں کے خلاف حملوں کے دوران یورپ کے مختلف مقامات سے گذرتی رہیں اْنہیں جگہ جگہ بیگار کیمپوں میں قیدی یا پھر ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ میں منتقل کرنے کی کوشش میں جبری پیدل مارچ کرتے ہوئے قیدی ملے جنہیں وہ آزاد کراتی گئیں.

یہ پیدل جبری مارچ 7 مئی 1945 کے دن تک جاری رہے جب جرمن مسلح افواج نے اتحادی فوجوں کے سامنے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دئے مغربی حلیفوں کیلئے دوسری جنگ عظیم اگلے روز یعنی 8 مئی کو باضابطہ طور پر ختم ہوگئی جسے اْنہوں نے فتح کا دن یا Day V-Eسے موسوم کیا سوویت فوجوں نے فتح کے دن کا اعلان 9 مئی 1945 کو کیاہولوکاسٹ کے بعد زندہ بچ جانے والے بہت سے افراد کو اتحادی طاقتوں کی طرف سے قائم کئے گئے پناہ گزیں کیمپوں میں رکھا گیا 1948 سے 1951 کے دوران تقریباً سات لاکھ یہودی اسرائیل ہجرت کر گئے اِن میں یورپ سے بے دخل ہونے والے ایک لاکھ 36 ہزار یہودی بھی شامل تھے بے دخل ہونے والے دیگر افراد نے امریکہ اور دوسرے ممالک کا رْخ کیا اور یوں ظلم و جبر کا وہ خونی اور تاریک دور اختتام پذیر ہوا جس میں انسانوں نے ہی محض ایک انہوں نے خوف اور نسلی تعصّب کی بنیاد پر لاکھوں انسانوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں