وزیراعظم صاحب اسلام آباد کی کچی آبادیاں توجہ چاہتی ہیں

گذشتہ کالم جو کہ اسلام آباد کچی آبادیوں کے حوالے سے تھا۔اس پر بہت لوگوں نے اپنے ردِعمل ک اظہار کیا۔اچھے اور برے پہلو سامنے لائے۔تعمیری سوچ کے حامل لوگوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ِ پاکستان کچی آبادیوں کی صورت حال کو واضح کرے۔اسلام آباد کی تعمیر و ترقی کا حصہ بنایا جائے۔اس حوالے سے G-7/1 کے سید قربان شاہ نے کہا کہ اسلام آباد کی کچی آبادیوں پر لٹکتی تلوار کو ہٹایا جائے۔خوف و حراس کے سائے ختم کئے جائیں۔ان کچی آبادیوں کو جنھیں CDA اور حکومت نے باقاعدہ ”C“ نمبر الا ٹ کئے ان کو مالکانہ حقوق دے کر وہاں مستقل کیا جائے جہاں ان لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی کمائی لگاکر تعمیرات کر دی ہیں۔

CDA آرڈینینس1960 ؁ء اورزوننگ ریگولیشن 1992 ؁ء کے تحت اسلام آباد کو بہتر حکمت عملی کے ساتھ آباد کرنا تھا اور ہے۔اسلام آباد سٹی کے اندر 7 کچی آبادیاں جو کہF-6/2،F-7/4،G-7/1،G-7/2،G-8/4 اور I-9 وغیرہ میں ہیں جن کا باقاعدہ سروے ہوا ہے۔CDA کچی آبادی ونگ میں سروے میں پلاٹ نمبرمخصوص کئے گئے Payment کے عوض الاٹ کیا گیا۔ان کچی آبادیوں میں ہزاروں کی تعداد میں محنت کش اور غریب لوگ آباد ہیں۔یہ کوئی قبضہ گرپ یامافیا نہیں ہیں،اسلام آباد کے سرکاری اداروں میں ملازمت کرتے ہیں یا پھر چھوٹی موٹی نوکری کرتے ہیں۔ان کے اتنے وصائل نہیں کہ اپنی چھت خرید سکیں یا پھر کرائے ادا کریں۔CDA کے ادارے نے گندے اور برساتی نالوں کے گردو نواح میں ایسی جگہوں پر آباد کرایا جو کہ CDA کی کسی منصوبہ بندی اور Master Plan کا حصہ نہ تھے۔ایسی جگہ جہاں پر کچھ نہ بن سکا وہاں ان بے سہاروں کو سائبان میسر آگیا،چھت مل گئی۔

CDA نے اسلام آباد شہر کے اندر ان کچی آبادیوں کو مستقل کیا،باقاعدہ سروے کرایا اور ایک کاندان کی بنیاد پر ”C“ نمبر جاری کر دیا۔CDA کے N.O.C کے بعد بجلی،پانی اور گیس کے کنکشن مل گئے۔مستقل پتہ میں NADRA نے ان کچی آبایوں کے رہائشی لوگوں کو شناختی کارڈ جاری کئے۔اس تمام قصے کو تقریباََ 25 سال گزر گئے۔کچی آبادیوں کی رہائشیوں کی دوسری نسل جوان ہو گئی،آبادی میں اضافہ ہو گیا۔”C“ نمبر حاصل کرنے کے بعد کچھ لوگوں نے اسٹام پیپر پر باقاعدہ معاہدے کر کے اپنے پلاٹ اور ایک یا پھر دو کمرے کے کواٹر فروخت کئے۔اب ان رہائشی لوگوں نے قرض،ادھاراور آبائی زمینیں فروخت کر کے ان کچی آبادیوں میں اپنی زندگی کی جمع پونجھی لگا لی۔اب جب کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے حکم میں کہا کہ چھت مہیاکرنا ”ریاست“کی زمہ داری ہے۔قرض ادھار کر کے ان رہائشی لوگوں نے چھت تو حاصل لی مگر خوف و حراس کی کیفیت ہے کہ نا جانے کب ان کو یہاں سے ہٹایا جائے گا،اب ایسا ممکن نہیں ہے۔CDA ان سات کچی آبادیوں کو اسی جگہ مستقل کر ے جہاں ان کو نمبر لگے۔یہ ایسی جگہ پر ہیں جو کہ CDA کے کسی Master Plan کا حصہ نہیں ہیں۔اسلام آباد شہر کے اندر ان کچی آبادوں کو بنیادی سہولتیں دی جائیں۔مکینوں کو مالکانہ حقوق دئے جائیں۔

CDA جب ابتدائی ایام میں اسلام آباد کی زمینوں کو اکوائر کرتا تھا تو بہت تھوڑے پیسے مالکان کو کو ادا کرتا تھا۔اگر زبردستی زمین ٹرانسفر ہو جائے تو قبضہ نہیں ملتا تھا۔پھر CDA نے مارکیٹ ریٹ پر ادائیگی شروع کی اور بلڈ اپ پراپرٹی کے بدلے پلاٹ اور پیمنٹ ملتی تھی۔جیسے کہ H-17 اورI-17 وغیرہ میں تقریباََ8.5 لاکھ روپے کنال ادائیگی ہوئی۔اگر کسی فرد یا پھر خاندان کی 100 کنال زمین اکٹھی ہوتی تو اس کے بدلے Agro فارم ملتا۔مگر ان تمام اسکیموں کی ناکامی کی وجہ صرف اتنی ہے کہ اصل زمین مالکان اور حق داروں کو حق نہ ملتا بلکہ ایک مخصوص مافیا اس سے استفادہ حاصل کرتا تھا اور ہے۔اسلام آبادکے مسائل حل نہ ہونے کی وجہ بھی یہی ہے کہ انصاف پر مبنی فیصلہ نہ ہوا۔قانون اور ادارے انسانیت کی فلاح کے لئے ہوتے ہیں۔آج اگر زون4- میں CDA قانون سازی کر رہا ہے۔زون3- جو کہ صرف نیشنل پارک ایریا تھا وہاں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے قیام کی اجازت کے لئے نئے ترامیم لائی جا رہی ہیں۔نیشنل پارک ایریا زون 3- میں تعمیرات ہو رہی ہیں تو پھر ہزاروں انسانوں کے مفاد کے پیش ِنظر ان کچی آبادیوں کو قانونی تحفظ دیں۔کم از کم اسلام آباد کے اندر 7 کچی آبادیوں کو جنھیں CDA نے سروے کر کے ریگولرائز کیا ہے۔ان آبادیوں میں تقریباََ ملکیت کے تمام جوازموجود ہیں۔گندے نالوں کے گرد ان کچی آبادیوں زیر قبضہ زمین CDA کی کسی پلاننگ کا حصہ نہیں،کسی ترقیاتی منصوبے کے راستے کی رکاوٹ نہیں ہے۔آج حکومت اور CDA کے لئے ممکن نہیں کہ اتنی بڑی آباد کاری کو شہر کے اندر سے بے دخل کیا جائے۔ان کچی آبادیوں کے گرد دیوار لگائی جائے۔ان کی گلیوں کو ٹھیک اور پختہ کیا جائے۔بنیادی سہولتیں دی جائیں۔

CDA کے ماسٹر پلان کے اندر کلاس4 کے ملازمین اور غیر مسلم سینیٹری ورکرز کے لئے ہر سیکٹر میں 3 مرلے(20×40)کے پلاٹ مختص کئے گئے۔G-7/3،F-10/2،G-8 اور دیگر سیکٹروں میں چھوٹی گلیوں میں چھوٹی گلیوں کے ساتھ پلاٹ رکھے اسی طرح راول ٹاؤن،مارگلہ ٹاؤن اور چک شہزاد میں ماڈل ویلیج کی طرز پر سیکٹر رکھے گئے۔راول ٹاؤن میں (30×70)کے ساتھ (10×20)کی بھینس رکھنے کے لئے بھی جگہ مختص کی تھی۔CDA کو ایک ماسٹر پلان کے مطابق بنایا گیا۔آج اگر شہر کے اندر کچی آبادیوں کا قیام عمل میں لایا گیا۔F-6/2 میں تو چھوٹے پلاٹ اور گھر CDA نے خود بنوائے۔اسی طرح G-8/4 میں بھی پلاٹ دئے۔اسی طرح بری امام میں مسلم کالونی منظور شدہ کچی آبادیوں میں نہیں تھی مگر وزیر اعظم ہاوس کی پشت پر قائم سیکیورٹی رسک اور دیگر عوامل کی وجہ سےCDA نے کچی آبادی ختم کرنے کے لئے باقاعدہ آپریشن کیااور علی پور فراش میں انتہائی کم قیمت پر پلاٹ دئے۔3 مرلے کے پلاٹ کی آج بھی ایک بڑی آبادی وہاں ہے۔ مگر کچی آبادی ختم نہ کی جا سکی۔ اسی طرح اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اشتراک سے CDA نے اسلام آباد شہر کے اندر سے آٹو ورکشاپوں، سٹیل اور آرا مشینوں کو شہر سے باہر منتقل کرنے کے لئے (25×40) کے کمرشل پلاٹ I-10/3 میں مختص کئے تھے۔ اس حوالے سے ان کاروباروں سے منسلک لوگوں سے بیان حلفی لئے گئے تھے کہ پلاٹ حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد سے مذکورہ کاروبار باہر منتقل کریں گے مگر ایسا نہ ہوا، آج بھی شہر کے اندر ورکشاپیں قائم ہیں۔ CDA صرف اتنا ضرور غور کرئے کہ Non Confirming Use کیا ہے؟ صرف اسی پر عملدرآمد ہو جائے تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں۔

جناب وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، مئیر اور چئیر مین شیخ عنصرعزیز سے گزارش ہے کہ اسلام آباد شہر کے اندر قائم 7 کچی آبادیوں کو آپ گریڈ کر کے ان کو بنیادی سہولتیں دی جائیں۔ مالکانہ حقوق دے کر CDA کیPlaning کا باقاعدہ حصہ بنائیں۔ ان کچی آبادیوں کے گرد حفاظتی دیوار لگائیں۔ آیندہ ناجائز تجاوزات کو قائم نہ ہونے دیا جائے۔ مسلم اور غیر مسلم کی بنیادپر الگ الگ قائم کی جائیں۔ CDA ان کچی آبادیوں کے نمائندہ افراد پر مشتمل کمیٹی قائم کرے تاکہ ان کی مشاورت اور تعاون سے اسلام آباد شہر کے اندر ان کچی آبادیوں کا مسئلہ حل کیا جائے۔ کچی آبادیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اسلام آباد ماسٹر پلان کے اندر”قانون“ صرف ایک طرح کا ہونا چاہیے۔

خالد قریشی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں