syed-nazir-gilani

متحدہ اور کشمیر …بھارت کی بد نیتی کا امریکی انکشاف

بھارت جنوری 1948 میں کشمیر کے سلسلے میں اقوام متحدہ میں ایک امن پسند یا جمہوریت پسند رکن ملک کی حیثیت میں نہیں گیا بلکہ پس پردہ بھارت کے کچھ اور مقاصد تھے۔

اس راز پرسے پردہ UNCIP میں امریکی رکن Huddle نے سیکریٹری آف سٹیٹ کو کراچی سے بھیجے گئے 31اگست1948 کے خفیہ برقئے میں اٹھا یا ہے۔

بھارت کا اصل مقصد پاکستان کے خلاف اور اپنے حق میں نتائج کا حصول تھا جس میں بھارت ناکام رہا ۔ اس ناکامی نے دہلی کے حلقوں میں ہلچل مچا دی اور بھارت نے کشمیر سے جان چھڑانے کی منصوبہ بندی اقوام متحدہ میں جانے کے آٹھویں مہینے سے شروع کر دی تھی ۔UNCIP میں شامل امریکی رکن Huddle سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے گئے خفیہ برقئے میں لکھتے ہیں:

“India originally expected SC decision it’s favour otherwise would never have presented case and has continued same position. But India’s present troubles have occasioned increasing desire some influential elements Delhi to end “this Kashmir business”. Both Maharajah and Sheikh Abdullah losing favor and former almost completely ignored.”

یہ تحریر خفیہ برقئے کا حصہ ہے اسی لئے یہ تحریر اس زمانے میں رائیج ٹیلیگرام میں استعمال کی جانے والی زبان ہے۔

اس ٹیلیگرام سے پتہ چلتا ہے کہ مہاراجہ اور شیخ عبد اللہ دہلی کے حلقوں میں اپنی اہمیت اور وقار کھو چکے تھے ۔ اس برقئے کے مطابق مہاراجہ بالکل نظر انداز ھو چکے تھے ۔ اور دہلی میں کچھ بااثر حلقے اس “کشمیر بزنس”سے جان چھڑانا چاہتے تھے ۔

امریکی حوالے سے ثابت ہونے والی بھارتی بد دیانتی کا ہر جگہ اور ہر بار تذکرہ بہت ضروری ہے ۔ کشمیر پر امریکہ کے ظاہری اور خفیہ شواہد کشمیر کیس کی پیروی کے لئے نہائیت ہی اہم ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں