راجہ فاروق حیدر خان کو اس کی صلاحیت حاصل ہے وہ اس کا ادراک کریں

وزیر اعظم پاکستان کےمظفرآباددورہ کےبعدحسب روایات حکومت پاکستان کیجانب سےجاری کردہ کوئی اعلامیہ ، بیان یا پریس کانفرنس میری نظرون سے نہین گزری جس مین یہ اقرار کیا گیا ہو کہ انہون نے آزاد کشمیر حکومت کے حل طلب معاملات یا مطالبات مانے ہوے ہون ، منظور کئے ہون یا حل کئے ہون – تا ہم وزیر اعظم آزاد کشمیر کی پریس کانفرنس اور ان کےپریس سیکریٹری کی رپورٹنگ سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کی بریفنگ/ مطالبات پر وزیر اعظم پاکستان نے آزاد کشمیرکےتمام مطالبات کوجائزاورحل کردئیے یاکرنے کی یقین دہانی کرائی ہے – اگر ایسا ہو جائے تو یہ بہت ہی خوش آئند ہے-

مجھے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کی صلاحییتون پر بھر پور بھروسہ ہے- قومی معاملات پران کا موقف واضع ،دو ٹوک اور مصمم ہے جس کا انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کے سامنے جزباتی ہوکر بھر پور انداز مین اظہار بھی کیا لیکن ان کےحل کرنے کے بارے مین سمت کےدرست ہونے کی ضرورت ہے- وہ آزاد کشمیر کےروایتی سیاست دانون کی طرح نہین ،ڈٹنے والےآدمی ہین -ان کو غیر روایتی طرز عمل اپنانا پڑ گا اور قومی معاملات کے حل کے بارے اقتدار سے ماورآ موقف اختیار کرنا پڑے گا-
کل ہی مین نے کسی اخبار مین پڑھا کہ وفاقی وزارت قانون نے آزاد کشمیر کےمیڈیکل کالجز کی pmdc مین رجسٹریشن سے اس بنآ پر اتفاق نہین کیا کہ ازاد کشمیر پاکستان کا صوبہ نہین ہے – NFC,CCI,share in profit of hydel generation میں بھی اسی لئے اس کو حصہ دار نہیں سمجھ جاتا- یہ بات بلکل درست ہے – پھر یہ کیا ہے ؟؟ اس کے تعئین کرانے کی ضرورت ہے- یہ ایک جغرافیہائی خطہ ہےجوکرہ ارض کےاس حصے میں موجود ہے جس کو پاکستان کہتے ہیں اور سو فیصد اس کے کنٹرول میں ہے –

یہاں حکومت پاکستان بجلی پیدا کرنے کے لئے ڈیم بناتی ہے جس کی بجلی نیشنل گرڈ می جاتی ہے، ہائی ویز بنا رہی ہے، بینن الاقوامی سطح پر اس کی نمائندگی کرتی ہے، اندرونی طور اس کا نظم ونسق چلاتی اور دفاع کرتی ہے، cpec مین اس کو حصہ دار بنایا ہے ، چائنا کے ساتھ معاہدے مین کشمیر کے مسئلے کے حتمی حل تک بارڈر لائن کے تعئین کا معاہدہ کیا ہے وغیرہ وغیرہ-یہ سب کچھ صرف پاکستان کی زمین یا صوبون میں ہی ہوسکتا ہے،لیکن اس کے باوجود یہاں ہورہا ہے، اسی کو آئینی تحفظ دینا ہےاور کوئ نئ بات نہین کرنی- اس مین کشمیر اور پاکستان کی بیوروکریسی ک چند مفاد پرست اس دلیل سے حائل ہیں کہ اس سے مسئلہ کشمیر متاثر ہوگا-کیسے متاثر ہوگا اس کی ان کے پاس کوئ دلیل نہیں-

پاکستان 70سال سیےیہ کہ رہا ہے کہ ajk اور gb اس کا حصہ نہیی، کیا دنیا کے کسی ملک نے اس کو مانا ہے؟

ہندوستان 70 سال سے پورے کشمیر کو اپنا حصہ جتلا رہا ہے اور آہئن مین اس کو شامل کیا ہے، کیا اس کو دنیا یا کشمیریون نے مانا ہے؟

لہذا حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں، زمینی حقائق کو تسلیم کرین ، اپنی نیت اور سمت کو درست کرین، یہ فراڈ اب دنیا ماننے کو تیار نہیں ہے۔

فاروق حیدر ایسا کرنے کی صلاحیت اور ہمت رکھتے ، اس کا ادراک کرین اور آگے بڑھین – وقت ضائع نہ کریں – اگر دنیا میں ملکوں کی تشکیل نو کی کوئ طلاطم خیز جغرافیائ یا سیاسی تبدیلی نہ آئ ، تو سو سال کے بعد بیھی ایسا ہی ہوگا – اگر دانشمندی کا مظاہرہ کرکے آج ہی کر دیا جائے تو سو سال کی مسافت کم اور گزشتہ ستر سال کی کوتاہئ کا ازالہ ہوسکتا ہے-

اپنا تبصرہ بھیجیں