خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر

مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ مرے ہونے کی گواہی دیں گے……….

24نومبر1952ء کو کراچی شہر میں آنکھ کھولنے والی ایک کم سن لڑکی جس نے بہت قلیل عرصے میں وہ منفرد مقام حاصل کیا جو مقتدر حلقوں میں آج بھی بدستور زبان زدِعام ہے،ایسی شہرت بہت کم لوگوں کے حصے میں آئی، اس معصوم سی لڑکی نے شہر کراچی میں اپنا بچپن ولڑکپن گزارتے ہوئے قلیل سی متاع حیاتِ میں ادبی و شاعری کی دنیامیں وہ کارنامے سرانجام دیے جو اس کی وجہِ شہرت بن گئے، پرائیڈ آف پرفارمنس اور آدم جی کے ایوارڈ ز کے ساتھ ساتھ ’’خوشبو کی شاعرہ ‘‘ کے خطابات و القابات کے ساتھ آج بھی لوگوں کے ساتھ میں زندہ رہنے والی لڑکی!
آپ قارئین یہ سوچتے ہوں گے آخر کون ہوگی؟؟؟ وہ کوئی اور نہیں خوشبو کی شاعرہ محترمہ پروین شاکر مرحومہ ہیں جنھیں ہم سے بچھڑے 20برس گزر گئے ہیں،لیکن اپنی خداداد صلاحیتوں کی مالک محترمہ پروین شاکر کے ثبت کیے ہوئے ان کی نظمو ں اور غزلوں کے الفاظ آج بھی نسل نوجوان اور شاعری کے دلدادہ لوگوں کے زبانوں پر گواہی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔

محترمہ پروین شاکر نے انگریزی ادب میں بی اے اور بعد ازاں ایم اے انگریزی ادب میں کیا،محترمہ پروین شاکر کو ایم پی اے کی ڈگری امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی سے حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا، قبل ازیں وہ درس وتدریس کے شعبہ سے بھی وابستہ رہیں،بعدا زاں سرکاری ملازمت بھی حاصل کی، وہ1986ء میں بحثیت سیکرٹری دوئم کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں بھی اپنی خدمات سر انجام دیتی رہیں،لیکن متاع عارضی سے ساتھ نہ دیا کہ امریکہ کی ہی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے’’ 1971ء کی جنگ میں پاکستان میں ذرائع ابلا غ کا کردار‘‘ عنوان پر مکمل کیا ہوا مقالہ بدقسمتی سے نہ پیش کر سکیں۔

پروین شاکر کی ذاتی زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو انھوں نے کراچی کے ڈاکٹر نصیر علی سے شادی کی،پروین شاکر کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام مراد علی تھا، بعدا زاں ڈاکٹر نصیر سے طلاق لیکر ازدواجی زندگی کو خیر آباد کہہ دیا، گردش دوراں کے غم و اندوہ لیے اس بے وفا دنیا کو داغ مفارقت دے گئیں۔

پروین شاکر ابتدائی عمر میں لکھنے کی شوقین تھیں،اردو کے منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کہ وجہ سے انھوں نے وہ مرتبہ پایا جو کو ئی بہت کم لوگوں کے ہاتھ آیا، پروین شاکر کو صدارتی ایورڈز پرائیڈ آف پرفارمنس اور آدم جی سے بھی نوازا گیا، پی ٹی وی کے پروگرامز میں بہترین میزبان کی حیثیت سے بھی جلو ہ گر ہوئیں، پروین شاکر کی پہلی کتاب’’ خوشبو‘‘ شائع ہونے پر انھیں بے پناہ پذیرائی ملی،ان کے فکرو فن کی خوشبو چار دانگ عالم پھیل گئی،خوشبو کتا ب نے تحفوں کی شکل اختیار کرنا شروع کردی جس نے پروین شاکر کے ادبی وشاعری کے کیئریر کو نئی روح پھونک دی،نسل نوجواں کا پنہاں راز، کچی عمر کے مانی جذبات،گہری فنکارہ شاعری کے اسلوب بیاں نے پروین شاکر کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔پروین شاکر کی شاعری کے موضوعات میں عورت اورمشرقی کڑھتا احساس پنہاں ہے، خوشبو کے بعد آنے والی کتابوں میں ہمہ گیر اور فکری پختگی کا احساس نظر آتا ہے۔

پروین شاکر کی کتاب’’ کلیات ماہ تمام‘‘ ان کی وفات سے قبل شائع ہوئی،پروین شاکر کی ذاتی زندگی کا دکھ ازدواجی زندگی پر منتہج ہوا،ان کی شاعری میں دکھ اور حزن کی کیفیت ابھر کر سامنے آئی۔ ان کی کتابوں میں خود کلامی‘ ماہ تمام‘ صد برگ ،کف آئینہ اور انکار شامل ہیں۔پروین شاکر کی شاعری جاپانی اور انگریزی میں بھی مترجم ہوئی،پروین شاکر کی شاعری کے موضوعات میں محبت ،عورت اور اقدارکا گراں قدر احساس موجود ہے، عورت کے مشرقی احساس ،کٹن، دکھ اور ملال کی جو تصویر کشی پروین شاکر نے کی ،اس مقام تک کوئی نہ کر سکا ،اقتداری نظام میں حوصلے کے احساس کی ایک عملی تصویر پروین شاکر کی شاعری کا خلاصہ ہے۔ اگر پروین شاکر کو چار دانگ عالم میں خوشبو بکھیرنے والی شاعرہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا،42سال کی عمر میں یہ ادبی اور شاعری دنیا کی ملکہ پروین شاکر اسلام آباد میں ایک ٹریفک حادثے میں خالق حقیقی سے جا ملیں،قارئین ذی احتشام یہاں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے کہ نومبر کی چوبیس کو پید اہونے والی خوشبو بکھیرتی پروین شاکر ماہ خزاں کی 26 دسمبر کی ویرانیوں کے حزن سمیت چل بسیں،آج ان کو ہم سے بچھڑے22برس ہوچکے،لیکن پروین شاکر22برس گزرنے کے باجود بھی نسل نوجواں اور مداحوں کے دلوں میںآج بھی بدستور ایک مقبول شاعرہ کا روپ دھار چکی ہیں،آج بھی ہزاروں دلوں میں اپنے زندہ ہونے کا احساس دلا رہی ہیں۔

پروین شاکر کی شاعری سے چند غزلیں قارئین کے پیش خدمت ہیں۔
********
کوُ بہ کوُ پھیل گئی بات شناسائی کی
اس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
کیسے کہہ دوں کہ مجھے چھوڑ دیا ہے اس نے
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہر جائی کی
تیرا پہلو ترے دل کی طرح آباد رہے
تجھ پر گزرے نہ قیامت شب تنہائی کی
اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا
روح تک آگئی تاثیر مسیحائی کی
اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے
جاگ اٹھتی ہے عجب خواہشیں انگڑائی کی
*****

وہ تو خوشبو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گی
مسئلہ پھول کا ہے کہ پھول کدھر جائے گا
وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا
وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے
موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا
آخرش وہ بھی کہیں ریت پر بیٹھی ہوگی
تیرا پیار بھی دریا میں اتر جائے گا
مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث
جرم یہ بھی میرے اجداد کے سرجائے گا
*****

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
سپرد کرکے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں
میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی
بدن کے کرب کو وہ بھی نہ سمجھ پائے گا
میں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی
وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی، کسے مناؤں گی
اب اس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب
میں کس کی نظم اکیلے میں گنگناؤں گی
وہ ایک رشتہ بے نام بھی نہیں لیکن
میں اب بھی اس کے اشاروں پر سرجھکاؤں گی
بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود
وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی
سماعتوں کے گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں
میں اب کبھی تری آواز سن نہ پاؤں گی
جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا
وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گا
*****

اسی طرح سے ہر اک زخم خوشنما دیکھے
وہ آئے بھی تو مجھے اب ہرا بھرا دیکھے
گزر گئے ہیں بہت رفاقت شب میں
اک عمر ہوگئی وہ چاند سا چہرہ دیکھے
میرے سکوت سے جس کو گلے رہے کیا کیا
بچھڑتے وقت ان آنکھوں کا بولنا دیکھے
ترے سوا کئی رنگ خوش نظرتھے مگر
جو تجھ کو دیکھ چکا ہو وہ اور کیا دیکھے
بس ایک ریت کا ذرہ بچا تھا آنکھوں میں
ابھی تلک جو مسافر کا راستہ دیکھے
اسی سے پوچھے کوئی دشت کی رفاقت جو
جب آنکھ کھولے پہاڑوں کا سلسلہ دیکھے
تجھے عزیز تھا اور میں نے اس کو جیت لیا
میری طرف بھی تو اک پل ترا خدا دیکھے
*****

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
اس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا
یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں
جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا
کانٹوں میں گھرے پھول چوم آئے گی لیکن
تتلی کے پروں کے کبھی چھلتے نہیں دیکھا
کس طرح میری روح ہری کر گیا آخر
وہ زہر جسے جسم میں کھلتے نہیں دیکھا

اپنا تبصرہ بھیجیں