ویلڈن پاکستان !تھینک یومسٹر پرائم منسٹر!

پاکستان، جمہوریت اور اداروں نے 2016میں ترقی اور کما ل کی وہ منا زل طے کی ہیں کہ آج 2017 کا سورج اس ترقی اور امن پر نازاں اور شور مچارہا ہے !شاید یہ بات ہم کو کہنے اور لکھنے میں دشوار اور مشکل محسوس ہو تی کہ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے بعدوہ کامیابیاں حاصل کی ہیں جو اسکی ہم عصر طاقتیں اربوں ڈالر لگا نے کے با وجود پانہ سکیں!لیکن اب ہم اس با ر کو فخریہ انداز میں دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ جس لڑائی کو لڑتے لڑتے مغرب کی کئی حکومتیں بدل گئیں اور کئی عوامی غضب کا شکار ہو گئیں وہ لڑائی آپ کے ہی میڈیاہی کی زبا نی پاکستان جیت چکا ہے یعنی کہ” الحمداللہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ جیت چکا “!یہ دنیا کے معتبر اورموقر جریدے دی سپیکٹیٹر کی کور سٹوری کا ہی کر شمہ ہے کہ دنیا پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کوکا میابی کے ترا زو میں تولنے اور اسکی معیشت کو اے پلس گریڈنگ دینے پر مجبور ہو گئی ، پاکستان کی کامیا بی کے حوالے سے برطا نوی جریدے کے چیدہ چیدہ پوا ئنٹ اس قدر حوصلہ افزا ہیں کہ پاکستان کے دشمنوں کے چھکے ٹوٹ گئے ہیں !وہ جودنیا میں پاکستان کو تنہا کرنے چلے تھے ان کیلئے برطا نوی جریدے اور بلومبرگ میں پاکستان سٹاک ایکس چیجنج کی پانچویں نمبر پر رینکنگ ہی کا فی ہے !اور کیا یہ خبر حوصلہ افزا نہیں کہ کراچی جو دنیا کا چھٹا خطرناک ملک تھا.
وہ اس رینکنگ میں تینتسویں نمبر پر چلا گیا!اگر ہم اس کا غیر جا نبدا ری سے تجزیہ کریں تو اس سا ری کا میابیوں میں جتنا کردار سویلین لیڈر شپ کو جا تا ہے اتنا ہی ملٹری کو بھی جا تا ہے !اگر ہم یہ کہیں کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور جنرل را حیل شریف کی پارٹنر شپ کے با عث آج کا پاکستا ن دنیاکی نظروں میں پہلے سے کہیں محفوظ ،پرامن اور خوشحال ہے تو مبا لغہ آرائی نہیں ہو گی !

یقیناًقوم ا س اعصاب شکن چومکھی لڑائی کو جیتنے پر میاں نواز شریف اور ملٹری لیڈرشپ کی شکر گزار ہے !اس رپورٹ میں پیپلز پا رٹی ، ق لیگ اور پرویز مشرف کو سیاسی جما عتوں کے عسکری ونگز چلانے کی کھلی اجا زت دینے کا الزام لگا یا گیا!سیاسی لحاظ سے دیکھا جا ئے تویہ سال سیاسی گرما گرمی کا سال ہوگا ، کیونکہ الیکشن میں ایک آدھ سال ہی رہ گیا ہے !پاکستان پیپلز پا رٹی اور تحریک انصاف مسلم لیگ ن کے خلا ف اکٹھی ہو جا ئینگی !لیکن شا ید وہ گرینڈ اپوزیشن الائنس کی شکل میں انتخاب نہ لڑیں ، سیاسی پنڈت یہی بتا تے ہیں کہ ا س با ر آصف علی زرداری نے اپنا وہ سا ر ا ووٹر وا پس منا کر لے آنا ہے جو 2013کے الیکشن میں اس نے روٹھ کر پی ٹی آئی میں چلا گیا تھا ، اور اسکے لئے پاکستان تحریک انصا ف کے سربراہ جنا ب عمران خان کو میا ں نواز شریف کومل کر ہرانے کا لالی پا پ دیا جا ئیگا !جسے وہ ماضی کی طر ح قبو ل کر لیں گے جو انکی ایک ایسی سیا سی غلطی ہو گی جو انکی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ثا بت ہو گی !

قا رئین کرام !

مجھے یا د ہے کہ آج سے چا ر پا نچ سا ل قبل تک دنیا یہ کہہ رہی تھی کہ پاکستان اب دیوالیہ ہوا کہ اب ہوا !ہم نے یہ سنااور رپورٹ بھی کیا کہ طالبان اسلام آبا د سے چالیس کلومیٹر دور پہنچ گئے ، ہم نے سوا ت ، صوابی اور فا ٹا سمیت بہت سا رے علاقوں میں طالبان کی عملی اورمتواز ی حکومت بھی دیکھی !ہم نے یہ بھی سنا کہ دنیا پاکستان کے ایٹمی ہتھیا روں کو غیر محفوظ قرار دے رہی ہے !ہم نے پاک فوج کے مورال اور قوم کے اندر انکی مقبولیت کم کرنے کیلئے دشمن کی کئی چا لیں بھی دیکھیں !ہم نے آئی ایس آئی کے خلاف کام ہو تے بھی دیکھا ؟ہم نے جی ایچ کیو ، کامرہ ، پی این ایس کرا چی کو جلتے دیکھا !ہم نے روزانہ مسا جد ، سکولوں ، امام با رگاہوں ، گرجا گھروں اور ما رکیٹوں اور بسوں میں خود کش حملے دیکھے !لیکن آفریں ہے اس قوم کے حوصلے کی ، کہ نہ یہ جھکی ، نہ مٹی اور اور نہ ہی اس جنگ سے ڈری ، اور آج ہما رے چا لیس ہزار جوانوں کی شہا دت اور لاکھوں پاکستانیوں کی قربا نیوں سے ہم اس امتحان میں سر خرو ہو کر نکلے ہیں ، اس میں ہم کو کھلے دل سے پاک فوج اور خا ص کر وزیر اعظم میاں نواز شریف ، وزیرداخلہ چو ہد ری نثار علی خان ، اسحق ڈار، اور پاک فوج کی پوری کما ن بشمول اس وقت کے ڈی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر کی کا وشوں اور وژن کو سراہنا بنتا ہے کہ جن کی ٹیم ور ک کی بدولت پاکستان اس عفریت کو شکست دینے میں کامیا ب ہو سکا ہے!

یہاں یہ با ت یا د رکھنے کی ہے کہ کا میابی حا صل کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اس کو برقرار رکھنا خا صا مشکل ہو تا ہے ، اللہ رب العزت نے جو خصوصی کرم کیا ہے اس کو قا ئم دا ئم اور کامیابیوں کے اس سفر کو مزید آگے چلانے کیلئے ہم کو اپنے سول اداروں کی استعداد کار بڑھا نا ہو گی ، رینجرز اور پاک فوج نے جو کام کراچی سے لیکر خیبر تک کیا ہے ان فتوحا ت اور کامیابیوں کے تسلسل کے لئے ضروری نہیں کہ فوج ہی سد ا یہ کام کرے ، فوج نے آپریشن کر کے مریض کو سویلین کے حوالے کردیا اب آگے کا کام پولیس اور دیگر قانون نا فذ کرنے والے اداروں کا ہے کہ وہ امن کے معا ملا ت کو اپنے ہا تھ میں لیکر اسکو برقرار رکھیں !

سی پیک بھی اب اپنی شکل میں آرہا ہے ، دنیا پاکستان میں سرما یہ کاری کیلئے بیتاب ہے ، یہ تجویز بھی سامنے آچکی ہے کہ انڈیا بھی روایتی دشمنی کے خول سے با ہر نکل کر سی پیک کا حصہ بنے اور اس پر چین اور روس نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ اگر پاکستان کوا س پر اعتراض نہ ہو تو انکو بھی اعتراض نہیں ہو گا !اب گیند مودی کی کورٹ میں ہے کہ وہ دشمنی کا راستہ چنتا ہے کہ دوستی کے زریعے تجا رت کا ؟کچھ اخبا رات نے یہ رپورٹ کیا ہے کہ سی پیک کا حجم ستا ون کھرب روپے ہو گیا ہے لیکن ایک کیلکولیشن یہ ہے کہ پہلے سال اسکاحجم 110ٹریلین ڈالر تک جا ئیگا جو بتدریج بڑھتا جا ئیگا !اب دیکھتے ہیں کہ سی پیک کے ساتھ وہ کون سے شعبے ہیں جہان پر کام کئے بغیر ہم خوشحالی اور ترقی کی وہ منزل نہیں حا صل کرسکتے جوہمارا خواب ہے ۱میں سمجھتا ہوں کہ معیشت میں ہم کو جتنی توجہ انڈسٹری پر دینا ہے اتنی یا اس سے زیا دہ زراعت پر بھی دینا ہو گی !سب سے اہم کام انڈیا کے ساتھ سندھ طا س معا ہدہ پرکھڑا ہو نا ہے اور اسکو پاکستان کا پا نی روکنے کیخلاف حکمت عملی مرتب کرنا ہو گی،اور اسکے لئے سیاسی لیڈر شپ کو ملک کے اندر ڈیموں کے پرا جیکٹس کو جنگی بنیا دوں پر تکمیل کی طرف لے جا نا ہو گا :یہ جو خشک سالی چل رہی ہے یہ شا ید اللہ رب العز ت کی طرف سے ہم کو ڈیموں کی تعمیر اور انکی افا دیت سے آگا ہ کرنیکی ایک وجہ بھی ہو لہذا ہمکو نقا رہ خدا کو سمجھ کے پاکستان کی سلامتی اور بقا ء کے اس منصوبوں کو سنجیدگی سے لینا چاہئے ! اس کے ساتھ ساتھ نالج بیس اکا نومی بھی وقت کی ضرورت ہے!

اس وقت ا علیٰ جوڈیشری پریہ زمہ داری عا ئد ہو تی ہے کہ وہ ایسی اصلاحا ت سامنے لا ئے جس سے تیز ترین انصاف مل سکے !اس وقت حال یہ ہے کہ غریب ہو یا امیر اسکو انصا ف ملتا نہیں بلکہ خریدنا پڑتا ہے یا پھر نا انصافی کا طوق گلے میں لگا ئے سا ری زندگی رونا پڑتا ہے !ویسے بھی جس قدر اداروں کے تقدس کو ملیا میٹ عمران خان اور انکی ٹیم نے کیا ہے اسکے بعد انصاف لینا اور دینا دونوں ہی مشکوک نظر آتے ہیں ، انہوں نے اپنی پا رٹی کانام تحریک انصا ف رکھ کر سب سے زیا دہ ساکھ اعلیٰ عدلیہ کی متا ثر کی ۔

اب تو جا وید ہا شمی سر عام کہہ رہے ہیں کہ اس وقت کے جسٹس نا صر الملک اور ایک جنر ل طا رق نے عمران خان کو یقین دلا یا تھا کہ جو ڈیشل ایکٹوازم کے ذریعے میاں نواز شریف کوچلتا کر کے تین ما ہ میں انتخاب کر کے پی ٹی آئی کو اقتدار دے دیا جانا تھا !یہ سچ ہے کہ اگر اس وقت آصف علی زرداری اور جا وید ہا شمی عقل کامظا ہرہ نہ کرتے تو نجانے کتنا خون خرابہ اسلام آبا دکا مقدر بنتا ؟

2017میں متحدہ اپوزیشن کی کوشش ہو گی کہ وہ وفاق کو الجھا ئے چا ہے وہ پا نامہ لیکس ہوں یا بلاول کے چا رنکا ت؟اور ن لیگ کی کوشش ہو گی کہ وہ ہر دن کو پروڈکٹو بنا ئیں اور اپنے جتنے بھی منصوبے (انرجی ،ڈیمز،فلائی اوورز، میٹروز ، اورنج ٹرین،گرین لائن ، نیو ائر پور ٹ اسلام آباد، سر کلر ڈیٹ )ہیں انکو جلد از جلد تکمیل تک پہنچا ئیں !جبکہ آصف علی زرداری پارلیمانی سیاست میں آکر بلاول بھٹو کو سیاسی اسرارورموز سمجھا نا چا ہتے ہیں !وہ اصل میں اب پی ٹی آئی کو زیادہ اچھل کود سے روک کرخود حقیقی اپوزیشن بننا چا ہتے ہیں !سب سے اہم کام یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان اور کراچی کے معاملا ت کو کسی بھی صورت میں سستی اور کا ہلی کا شکارہو نانہیں چاہئے !ایم کیو ایم اور پی پی پی کوکراچی میں عسکری ونگز بنا نے اور چلانے سے روکنا اولین ترجیح رکھنا ہو گی

اپنا تبصرہ بھیجیں