پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی؟

الطاف حسین نے کچھ عرصہ قبل پاکستان کے خلاف ہرزہ رائی کی جس کی سارے پاکستان اور پوری دنیاکے محب وطن پاکستانیوں نے شدید مذمت کی۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا ،اکثر ہوتا ہے۔پھر مذمت، معافی اور اپنے الفاظ کی واپسی پر بات ختم ہو جاتی ہے۔M.Q.M کے راہنمافرماتے ہیں کہ الطاف حسین خرابی صحت ،احسابی دباﺅ ،یاداشت کے کھونے اور ناجانے کتنی وضاحتیں پیش کرتے ہیں،مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ الطاف حسین اسی جنون یا پھر مدہوشی کی کیفیت میں بھارت مردہ باد ،بھارت ”ناسور“ کہتے ہوں۔امریکہ ،برطانیہ اور اسرائیل کے خلاف بات کی ہو ،اپنی ذات اور نظریات کے خلاف بات کی ہو۔پاکستان میں جنرل مشرف کے اقتدار کے دوران موصوف الطاف حسین برطانیہ سے بھارت ایک سیمینار میں شرکت کے لئے گئے تو بھارت کی مرکزی شاہراہوں پر الطاف حسین کی تصاویر لگائی گئیں، VIP پروٹوکول دیا گیا۔

الطاف حسین نے تقریب میں اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان صرف ایک لکیر ہے۔14 اگست 1947 ءکو مسلمانوں کی ہجرت بھارت سے پاکستان کے لئے تھی اب پاکستان سے بھارت کے لئے ہو گی۔M.Q.M کے راہنما فرماتے ہیں کہ قائد تحریک الطاف حسین کے بیان کا یہ مطلب نہیں جو سمجھا گیا ،در اصل وہ کہنا کچھ اور چاہتے تھے۔سچی بات ہے کہ آج میڈیا جس قسم کے خطابات سُنا رہا ہے سُن کر شرمندگی ہوتی ہے۔پاکستان کے خلاف اتنی نفرت کا اظہار تو شاید بھارت نہیں کرتا جتنا نفرت کا اظہار قائد تحریک کرتا ہے۔کراچی کی سیاست ہمیشہ لسانی اور علاقائیت کی بنیاد پر تھی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت سے ہجرت کرنے والوں نے اپنا سب کچھ اس وطن پر قربان کیا۔مہاجروں نے بھارت سے پاکستان کی جانب ہجرت کی، سندھ میں چونکہ جاگیردانہ اور وڈیرہ ازم کا نظام ہے جس کی وجہ سے اہل کراچی والوں میں احساس محرومی پیدا ہوا ۔مگر پاکستان کے خلاف نفرت ان لوگوں میں پیدا نہ کی جا ئے جن کا وطن پاکستان ہے اورپاکستان سے محبت کرتے ہیں۔پاکستا ن اور قیام پاکستان کے لئے مہاجرین کے آباﺅ اجداد نے قربانیاں دی تھیں۔اگر کسی حاکم وقت یا پھر حکومت نے مہاجرین کے حقوق ادا نہ کئے تواسکایہ مطلب نہیں کہ پاکستان کو گالی دی جائے ۔M.Q.M کی قیادت کو اگر حالات کی سنگینی کا احساس ہے تو الطاف حسین کو ایسی کیفیت میں میڈیا کے ذریعے خطاب کرنے کی اجازت دینی ہی نہیں چاہیے۔

پاکستان کے ہر دور میں M.Q.M ہر حکومت کا حصہ رہی۔M.Q.M میں اردو بولنے والے ہیں۔بھارت سے اپنا سب کچھ قربان کر کے آئے ،بلکہ اہل زبان کی وجہ سے سرکاری امور کو چلانے کے لئے کراچی میں پاکستان کا پہلا سیکریٹریٹ قائم ہوا۔اس کو چلانے کے لئے اردو زبان پر عبور رکھنے والے جو ”بابو“درکار تھے،وہ یہی مہاجر کہلوانے والے تھے ہندوستانی بھی کہتے تھے۔اہل زبان اپنے ساتھ علم و ادب،ثقافت ،کلچر سب کچھ لے کر آئے،ان میں شہید لیاقت علی خان ،حکیم محمد سعید اورعبدالستار ایدھی سے لے کر بہت قابل اور نظریہ پاکستان میں جاگیردانہ نظام جو کہ انگریزوں کی غلامی ،وفاداری اور مخبری سے لیکر غداری تک کے مرتب کئے ہوئے اور پاکستان میں زمینوں اور جاگیروں کے مالک بن گئے۔67 سال کے بعد بھی اس مہاجروں کو پاکستانی تسلیم نہ کر سکے۔مہاجروں کو اللہ نے اہلیت ،قابلیت اورعلم و دانش عطا کئے ۔آخر محرومی اور احساس محرومی کی وجہ سے ایک فطری تعصب ضرور آیا اور انکو الطاف حسین جیسا لیڈر اور قائد ملا،جس نے مہاجروں کو ایک نا قابل تسخیر قوت بنا دیا۔جس کو ہمیشہ طاقت سے فتح کرنے کی کوشش کی گئی اور ناکام ہوئے۔اسکا سیاسی حل تلاش نہ کیا گیا۔جسکی وجہ سے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو شدید خطرات ہیں۔کراچی میں پاکستان سے محبت کرنے والے عناصر ہیںجو پاکستان کے لئے جانیں قربان کرنے والے ہیں،انکی اولادیںبھی پاکستان کے لئے جان نچھاور کرتیں ہیں۔اسکا سیاسی حل نکالیں،ایسے سیاسی عناصر جو کہ بظاہر پاکستان کے محروم طبقات کی بات کرتے ہیں،مگر پاکستان سیاست دشمن ملک کے مفاذ میں کرتے ہیں۔ایک جانب تحریک آزادی کشمیر کی جدو جہد ہے جو کہ 1931 ءسے شروع ہوئی اور ریاست جموں کشمیر کی سب سے بڑی سیاسی اور پارلیمانی جماعت مسلم کانفرنس 19 جولائی 1947 ءکو پاکستان سے الحاق کی قرار داد منظور کرتی ہے۔لاکھوں کشمیری پاکستان کو اپنی منزل قرار دیتے ہیں،لاکھوں شہید ہوتے ہیں۔اقوام متحدہ میں 1948 ءکو بھارت گیا اور رائے شماری کے لئے قرار داد منظور ہوئی۔دوسری جانب کراچی کے چند لوگ ”پاکستان مردہ باد“کا نعرہ لگائیں۔ایسے لوگوں کو نشان عبرت بنانا چاہئے جن کا مقصد صرف اپنے ذاتی مفاد ہوں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کراچی میں مہاجرین آئے، بھارت سے ہجرت کی جس میں ہزاروں مہاجرین نے قربانیاں دیں۔پاکستان کے لئے اپنا گھر بار ذاتی جائیداد کا کاروبار اور روزگار چھوڑا،پاکستان آنے والوں پر ہندو اور سِکھ حملے کرتے قتل و غارت کرتے تھے۔پاکستان نے ایسے لوگوں کو عزت دی مقام دیا،نام دیا۔پاکستان میں سب سے معتبر ادارہ ”پاک فوج“ کا ہے،جس کے تین آرمی چیف کا تعلق بھی مہاجرین سے تھا بلکہ پاکستان میں ان میں سے دو آدمی چیف نے طویل اقتدار بھی حاصل کیا۔جنرل ضیاءالحق،جنرل پرویز مشرف اور جنرل اسلم بیگ بھی مہاجر تھے۔جنرل ضیا ءالحق کے دور اقتدار میں M.Q.M مضبوط ہوئی اور تشکیل پائی۔اسلم بیگ اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں حکومتی ایوانوں سے مکمل حمایت حاصل کی تھی،پھر کب اور کس دور میں احساس محرومی ملا۔پاکستان میں سیاست کرنے والوں کو ہزار اختلاف کے با وجود ایسی بات نہیں کرنی چاہئے کہ بھارت جیسے مکار دشمن اسکا فائدہ اُٹھائیں۔اہلیان کراچی کو ایسے لوگوں سے اپنے آپ کو الگ کرنا ہو گا ،پاکستان میں وہی M.Q.M قابل قبول ہونی چاہئے جو پاکستان کو اپنا اور آباﺅ اجداد کا وطن سمجھیں ۔مہاجرین اور ان کے بزرگوں نے پاکستان کے لئے بہت قربانیاں دیں،ان قربانیوں کا محور اور مقصد صرف پاکستان تھا اور ہے۔آج تمام اہلیان کراچی اور مہاجرین ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے ہیں۔چند لوگوںکے ذاتی ایجنڈے سے کچھ نہیں ہوتا ،M.Q.M کی اکثریت آج بھی پاکستان سے محبت کرتی ہے۔

خالد قریشی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں