’’بھٹو سے بلاول تک‘‘اسلام یا سیکولر؟

گذشتہ دنوں پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قمر زمان قائرہ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے علماء اکرام اور مولانا حضرات کے دباؤ میں جمعہ کی چھٹی اور شراب پر پابندی لگائی۔اب بلاول بھٹو لبرل ازم کی بات کرتے ہیں۔ماڈریٹ سیاست کرنا چاہتے ہیں۔مادر پدر آزاد معاشرے کے خواہاں ہیں۔پیپلز پارٹی کے راہنما فرماتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو سیکولر ازم کے حامی تھے۔اسلامی قوتوں کے دباؤ میں اسلامی اقدامات کئے،ذوالفقار علی بھٹو نے جو آئین دیا وہ منتقہ آئین تھا،جسمیں واضع لکھا گیا کہ قرآن اور سنت کے منافی کوئی قانون سازی نہ ہو گی۔بھٹو کے متفقہ آئین میں پاکستان کا صدر اور وزیر اعظم صرف مسلمان بن سکتا ہے۔جبکہ بلاول صاحب کی خواہش ہے کہ اقلیت میں سے بھی صدر اور وزیر اعظم ہونا چاہئے۔نا جانے فرق کہاں ہے؟۔بھٹو میں تھا یا پھر بلاول بھٹو میں ہے؟۔ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں انکے بد ترین مخالفین بھی کہتے ہین کہ انتہائی ذہین اور قابل انسان تھے۔صرف سات سال کی عمر میں اپنے والد سرشاہنواز بھٹو کے ہمراہ جب لارڈ ماؤنٹ بیٹین کو ملنے گئے تو والد کے اصرار پر بھی لارڈ ماؤنٹ سے ہاتھ نہ ملایااور کہا کہ’’انگریزوں کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں،یہ غاصب ہیں،ہماری دھرتی پر قابض ہیں‘‘۔جب ذوالفقار علی بھٹو اڈیالہ جیل میں قید تھے تو کرنل رفیع نے ان دنوں پر ایک کتاب لکھی جس میں بے شمار واقعات ہیں۔

کرنل رفیع سرکاری ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے۔آج صرف اگر اس کتاب کو پڑھ لیں تو بھٹو کا ویژن سمجھ آجائے گا،کیونکہ جب انسان موت کے قریب ہوتا ہے تو سچ بہت یاد آتا ہے اور بھٹو کے حامی یا پھر پارٹی ورکرز ’’جیالے‘‘نے نہیں لکھی بلکہ ایک غیر جانب دار شخص کے تاثرات ہیں۔جو کہ سرکاری ڈیوٹی سر انجام دے رہے تھے۔جنکا تعلق فوجی حکمرانوں سے تھا اور خود بھی فوج میں کرنل تھے۔جو بظاہر جیل کے اہلکار کے روپ میں تھے مگر زیرک راہنما نے پہلی ملاقات میں ہی انکو بتا دیا تھا کہ تم اپنا کام کرو مجھے اپنا کام کرنے دو۔ناجانے پیپلز پارٹی اور اسکے لیڈروں کو ذوالفقار علی بھٹو کا ویژن کیوں سمجھ نہیں آسکا۔پاکستان میں پاکستان سے نفرت کرنے والے اور اسلام مخالف سوچ کے حامل لوگ دیکھے ،پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور راہنماؤں کو راولپنڈی جیل کے سابق سیکیورٹی سپرنٹنڈنٹ کرنل رفیع الدین کے مشاہدے اور انکشافات پر کتاب ’’بھٹو کے آخری 323 دن‘‘یعنی موت سے قبل کا وقت ایسے حالات میں یقیناًجو کچھ کہا تھا سچ ہو گا۔S.S.G سے تعلق رکھنے والے کرنل کا مشاہدہ یقیناًپیپلز پارٹی کے لئے ایک سند ہونی چاہئے۔کیو نکہ کسی جیالے ،سندھی پارٹی یا پھر بھٹو خاندان کے فرد کے تاثرات نہیں تھے بلکہ فوجی ادوار میں ایک حاضر سروس محب وطن اور نیک انسان کے تاثرات تھے۔

احمد یہ مسئلہ: مرزائیوں کو کافر قرار دینے کے مسئلے پر ذکر کرتے ہوئے بھٹو صاحب نے کرنل رفیع کو بتایا کی پاکستان میں بعض لوگ چاہتے تھے کہ ان کو وہ مرتبہ دیں جو کہ یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے۔یعنی کہ معیشت پر انکار قبضہ ہو اور پاکستان میں مرزائیوں کی پالیساں چلیں۔ایک دن اچانک کہنے لگے کہ انکا خلیفہ کہتا ہے کہ انکی بد دعا کا نتیجہ ہے کہ میں کال کوٹھڑی میں پڑا ہوں ۔بھٹو صاحب نے کہا کہ رفیع میں بہت گناہ گار ہوں کیا معلوم میرا یہ عمل ہی میرے گناہوں کی تلافی کر جائے،اور اللہ میرے تمام گناہ اسی نیک عمل کی بدولت معاف کر دے۔(صفحہ نمبر 71 )

نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کیس پر بھٹو نے کئی مرتبہ کہا کہ اللہ شاہد ہے کہ مجھے اس کیس میں پھنسانے کی کوشش کی گئی ہے،میں بے گناہ ہوں۔کرنل رفیع کو پا مسڑی کو شوق تھا۔بھٹو صاحب کے ہاتھ دیکھ کر کہا کہ زندگی کی لکیر لمبی ہے اور ساتھ ایک اور لائن تھی۔زندگی کی لکیر ٹوٹ پھوٹ ،جزیرے پاکٹ سے مبرا تھی اور مددگار لکیر بھی موجود تھی۔کرنل رفیع نے کہا کہ اگر آپ کو سزا ہوئی تو قید کی ہو گی موت کی نہیں۔تو بھٹو صاحب نے کہا کہ کرنل ’’بھٹوز ہمیشہ جوانی میں مرتے رہے ہیں‘‘اس کے مطابق اگر کوئی حقیقی بھٹو ہے توجوانی میں موت پائے گا۔ذوالفقار علی بھٹو کی یہ بات درست ہوئی۔کرنل رفیع نے لکھا ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد مشہور پامسٹ ایم – اے ملک کا بیان آیا کہ کچھ سرکردہ دست شناسوں نے کہا کہ شہید کے ہاتھ پر زندگی کی لکیر ہمیشہ رہتی ہے۔شہید کے ہاتھ پرLife Line کبھی نہیں ٹوٹتی کیونکہ وہ مرتا نہیں ہے،ہمیشہ زندہ رہتا ہے،بھٹو کی موت بھی شہادت کا رتبہ پا گئی۔

بین الاقوامی سیاست کے حوالے سے بھٹو کا بہت ویژن تھا،بھٹو ایک پیدائشی لیڈر تھے،ان میں خداداد صلاحتیں تھیں۔روس کے حوالے سے کہتے تھے کہ روس صرف ایک سپرپاور ہی نہیں بلکہ پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔اس لئے روسیوں سے تعلقات ہمیشہ اچھے ہونے چاہئیں،پاکستان کو افغانستان میں روس کے خلاف نہیں آنا چاہئے،روس اور پاکستان کو باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہئے۔کچھ عرصہ قبل ایک کالم لگار نے لکھا کہ جب بھٹو وزیر خارجہ تھے تو صدر ایوب خان کو دور اقتدار تھا۔جان ایف کینڈی امریکی صدر تھے،34 سالہ بھٹو جب امریکہ میں صدر جان ایف کینڈی کو ملے تو ساؤتھ ایشاء کے حوالے سے امریکن صدر کو کہا کہ اس خطے میں بھارت کی جگہ چین کو اپنا پارٹنر بنائیں کیونکہ بھارت بنیادی طور پر دھوکے باز قوم ہے،اس پر اعتماد کرنا غلطی ہو گئی۔امریکی صدر نے نوجوان پاکستانی وزیر خارجہ کے تجزئیے کی تعریف کی اور کہا کہ کاش آپ امریکن ہوتے تو آپکو اپنا وزیر خارجہ بناتا بھٹو نے مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگر میں امریکن ہوتا تو آپکی جگہ امریکہ کا صدر بننا پسند کرتا۔بھٹو کی بات پر امریکن صدر نے قہقہہ لگایا اور بھٹو کی صلاحیتوں کی تعریف کی۔

ذوالفقار علی بھٹونے راولپنڈی قید کے دوران پاک چین دوستی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین ایک ایسا پاکستان کا ہمدرد ملک ہے جس نے مشکل گھڑی مین پاکستان کی مدد کی حالانکہ دونوں مما لک میں مختلف نظام کام کر رہے ہیں۔چین ایک عیر مسلم ملک ہونے کے باوجود پاکستان کی ہمیشہ حمایت کرتا ہے۔بھٹو صاحب چین ،روس اور افغانستان سے اچھے تعلقات کے خواہاں تھے۔آج اگر C-Pack کو دیکھنے تو بھٹو کے ویژن کی تعریف کرنی پڑتی ہے۔لیڈر کے اندر بنیادی صلاحیت ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ آئندہ آنے والے حالات کے مطابق حکمت عملی بناتا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو نے جب پاکستان پیپلز پارتی کی بنیاد رکھی تو انقالابی منشور دیا ’’روٹی،کپڑا،مکان‘‘۔آج بھی ایسا ویژن کوئی نہ دے سکا۔20 سال سے قائم P.T.I نے آج تک کوئی قابل عمل منشور نہ دیا ۔P.T.I پاکستان کی مقبول جماعت ہے مگر صرف احتجاج کی بات کرتی ہے، کبھی چار حلقے کھولنے کی بات کرتی ہے حالانکہ انتخابی اصلاحات کی بات کرنی چاہئے،اس لئے قانون سازی کریں ۔اس طرح پانامہ لیکس پر اپنی توانائیاں خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ احتساب کا بے لاگ قانون بنوائیں۔کم از کم K.P.K میں تو کوئی پابندی نہیں ہے مگر آج تک پاکستان کی عوام کے لئے کوئی انقلابی منشور نہ دے سکے۔

پیپلز پارٹی بھٹو کی پالیسی اور نعرے کے علاوہ اپنی قیادت کی قربانیوں سے زندہ ہے۔بھٹو کے سیل سے برقی آلات اور شیو کا سامان اٹھایا گیاتو احتجاج کرتے ہوئے 24 مارچ سے یکم اپریل 1979 ؁ء کی شام تک کچھ نہیں کھایا اور پیا۔اتنی لمبی بھوک ہڑتال سے بہت کمزور ہو گئے ۔29 مارچ 1979 ؁ء کو انکی کونسل منسٹر پیرزادہ انکو ملنے کے لئے آئے تو بھٹو نے صرف ایک تولیہ اپنے جسم پر لپیٹے ہوئے تھے،کیونکہ اپنے کپڑے خود دھوئے تھے۔جیل حکام نے بتایا کہ پیر زادہ صاحب آئے ہیں۔بھٹو صاحب نے گیلے کپڑے استری کے لئے جیل حکام کو دئے تو آدھے گیلے اور آدھے خشک کپڑے پہن کر پیرزادہ کو ملنے آئے۔رحم کی اپیل نہ منظور ہوئی، بھٹو جیل میں تکلیف دہ زندگی گزار رہے تھے۔انکی حالت ابتر ہو رہی تھی،مگر بھٹو نے اس کی پرواہ نہ کی اور اپنی لڑائی اپنی خدداری اور آنا سے لڑی۔مارشل لاء کے بعد جب بھٹو کو مری گورنر ہاؤس منتقل کیا گیا،تو قومی اتحاد کے راہنما جنرل ضیاء الحق کو ملے اور شکایت کی کہ اپ نے بھٹو کو مری گورنر ہاؤس میں نظر بند کیا ہوا ہے۔وہاں وہ شاہانہ زندگی گذار رہے ہیں۔جنرل ضیا نے کہا کہ کل تک جس کے ایک اشارے پر سارا ملک چلتا تھا ،آج وہ خد ایک اشارے کا پابند ہے۔قومی اتحاد کے راہنما کو شاید تاریخ بھول گئی ،اصفر خان کو شائد نئی نسل نہیں جانتی مگر کل ’’بھٹو‘‘ایک تاریخ ہے۔جس کو ہر آنے والا یاد رکھے گا۔ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم سر شاہ نواز کے بیٹے ،نواب ابن نواب تھے ،مگر جیل میں اپنے کپڑے خود دھوتے۔مگر حوصلہ پست نہ ہوا ۔آج پیپلز پارٹی جئے بھٹو کا نعرہ تو لگاتی ہے، مگر شائد بھٹو کی قربانیوں سے نا آشنا ہے۔بلاول بھٹو اپنے ’’نانا‘‘ کی قربانیوں کو یاد رکھیں ،انکا ویژن اور اسلام سے تعلق انکا اثاثہ ہے۔

خالد قریشی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں