20

گیارہ سال کاجموں کشمیر

میں گیارہ سال کا تھا پتنگ اڑانے کا شوق اپنی حد کو چھو رہا تھا ایک دن باغبانپورے محلے کی چودھری برخوردار ولی گلی میں فیقے شیخ کی چھت پر ایک پتنگ لوٹنے موجود تھا ڈور میرے ہاتھ لگ گئی سامنے دیکھا اصغر شیخ کا وہیڑہ تھا پتنگ ہاتھ لگ چکی تھی اگر بریکیں لگاتا تو نیچے گر کر ہڈی پسلی ایک ہو سکتی تھی اللہ کا نام لے کر چھلانگ لگا دی شیخ کے گھر والے چارپائی درمیان رکھ کر ایک کنالی میں کھانا کھا رہے تھے گرم گرم چاولوں پر کود گیا چارپائی ٹوٹ گئی اور میں پتنگ لے کر دروازے سے باہر نکل گیا۔دس اور گیارہ سال کی عمر میں ایسے ہی ہوتا ہے لوگوں کی چارپائیاں ٹوٹ جاتی ہیں کھانے حرام ہو جاتے ہیں۔لڑکپن۔انسانی زندگی کا حسین ترین دور گیارہ سے ہی شروع ہوتا ہے کھاتے پیتے گھروں کے بچوں کی آوازیں بھی اسی دور میں بدلتی ہیں۔آج جموں کشمیر گیارہ سال کا ہو رہا ہے عامر محبوب امتیاز بٹ اور عرفان قریشی کا جموں کشمیر گیارہ سال کا ہو چکا ہے۔

اس عرصے میں کوہالہ پل کے نیچے سے بہت سا پانی شہداء کشمیر کے خون سے رنگ لے کر بہہ چکا ہے اور تو اور اسی دور میں نیچے کی زمین اوپر ہو گئی ہے۔ زلزلے کے بعد جموں کشمیر کا کردار قابل ستائیش ہے ایک ختم شدہ کشمیر میں بس یہی ایک معلومات کا ذریعہ تھا۔میں نے ایک دن عامر سے پوچھا کہ آپ کو کیوں خیلا آیا کہ ایک اخبار کشمیر کا نکال دیا۔کہنے لگے میں اوصاف میں تھا امتیاز بٹ جناح میں اور عرفان قریشی خبریں میں۔ہم تینوں نے سوچا کہ آزاد کشمیر کا اپنا اخبار ہونا چاہئے۔یہ تین آزاد سوچ رکھنے والے دوستوں کا فیصلہ تھا ۔

میں سمجھ گیا ہوں کہ کیوں انہیں یہ سوچ پیدا ہوئی در اصل انسان جب کسی ماحول میں رہتا ہے تو اپنے گھر بار اپنے علاقے کے بارے میں ضرور سوچتا ہے یہ تین با صلاحیت لوگ جب پاکستان کے اخبارات میں کام کرتے ہوں گے انہوں نے یہ ضرور محسوس کیا ہو گا کہ ہماری کوئی آواز نہیں ہے۔وہ مل بیٹھے اور جموں کشمیر نکال دیا اس راستے میں انہیں ضرور مشکلات کا سمان ہو گا۔ایک سوال کے جواب میں مجھے کچھ پریشانی ہوئی کہ جموں کو کشمیر کو پیدا ہوتے ہی اولے پڑ گئے آزاد کشمیر حکومت کے سرادر عتیقی دور میں ان کے اشتہار بند ہو گئے گھر سے یہ جب تین بہادر آدمی نکلے تو جذبہ تو تھا لیکن مال نہیں تھا تواتر ست چھ ماہ تک ان کے اشتہارات بند کر دئے گئے۔یہ ایسا ہی کہ کوئی غریب بیوی کو ہسپتال اس ڈر سے جمع کرا آئے کہ وہ پرائیویٹ ہسپتال کا خرچ نہیں اٹھا سکتا بیوی کے ماں بننے کے بعد ڈاکٹر اسے ڈبوں کا دودھ لکھ دے۔

کہتے ہیں مشکل دنوں میں کیا گیا برا سلوک ساری عمر نہیں بھولتا لیکن یہ لوگ بھی کمال ہیں کہ میں نے عامر سے پوچھا کہ آپ کی نظر میں کون سا دور بہتر تھا کہنے لگے سردار عتیق احمد خان کا دیکھ لیجئے انہوں نے کس تناظر میں کہا جب کے انہی کے دور میں جموں کشمیر پر پابندی لگی لیکن سنا ہے اخبارات کا داخلہ دفاتر میں بند تھا لیکن اسے رات کے اندھیرے میں منگوا کے پڑھا جاتا۔ جموں کشمیر کے ذمہ داران یہ عجیب لوگ ہیں میں نے بڑے بڑے جغادری اخبار نویسوں کے بارے میں سنا ہے کہ حکومت وقت کے آگے بلی بن جاتے ہیں بلی بھی سوکھی نہیں بیگی۔ایک بڑے اخبار کے مالک تو مولانا کوثر نیازی کے پائوں میں بیٹھے دیکھے گئے میں جس اخبار کا بیورو چیف تھا جب میاں نواز شریف کا ساتھی ہونے کی وجہ سے جدہ جیل گیا تو ایڈیٹرموصوف نے سرے سے ماننے سے ہی انکار کر دیا ۔

بھائیو!
یہ پانامے پرانے ہیں یہاں والدین اولاد کی ملکیت سے برسوں پہلے انکاری ہو گئے تھے گگھیانی صحافی نے تو کہا بھلے سے مارشل لاء دس سال چلے مجھے کیا۔ایک عامر محبوب ہیں کہ سر عام کہتے پھرتے ہیں کہ ہم تو میدان میں کھڑے ہیں کسی کو پنجہ آزمائی کرنی ہے تو کر لے شنید ہے کہ جناب فاروق حیدر کے دور میں کہا گیا تھا کہ اخبار بند کروا دیا جائے گا جس دئے میں تھا وہ جلتا رہا موصوف گھر چلے گئے موصوف بند کرتے کرتے رخصت ہو گئے اخبار تو ادھر تھا اور اب بھی بڑی آب و تاب سے بڑی شان سے گیارہ سال پورے کر چکا ہے۔

عرفان قریشی کو اللہ غریق رحمت کرے وہ جموں کشمیر کی سالگرہ کے موقع پر اس دنیا میں نہیں ہیں ۔امتیاز بٹ بھی جیتے رہیں وہ جہاں میں اہل ایماں کی طرح جی رہے ہیں۔کیا خوبصورت آدمی تھا نون کی نذر ہو گیا۔ ایک نوجوانن لڑکے کا نام اگر نہ لوں تو جموں کشمیر کی کہانی نامکمل ہو جاتی ہے دبلا پتلا شرمیلا سا ایک نوجوان جو آج کشمیری صحافت میں ایک نام ہے اس کے بغیر سچی بات ہے میری یہ تحریر ادھوری ہے نام ہے اس کا حلاد گردیزی۔ان کی محنت بھی رنگ لا رہی ہے جموں کشمیر کو آگے بڑھناے میں ان کا بڑا ہاتھ ہے برادر جاوید ہاشمی کا ذکر اگر نہ ہو تو بات نا مکمل اور ایک ملک ذیشان اشرف ہوا کرتا تھا جو آج پی ٹی آئی کا کھلاڑی ہے ایک محترمہ تھیں جن کا نام بھول رہا ہوں یہ سب یاد ہیں اللہ ان پر کرم فرمائے۔

اخبار نکالنا کوئی آسان کام نہیں ان گیارہ سالوں کی روداد تو عامر محبوب خود بتائیں گے مگر میرا اس اخبار سے تعلق شروع کے دنوں سے ہے۔میری ملاقات خالد منہاس نے کرائی تھی جو بڑے قد کاٹھ کے لکھاری ہیں بھاری بھر کم دوست ہیں شہزاد راٹھور عامر محبوب امتیاز بٹ اور خالد منہاس سچی بات ہے انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کو دماغ ان کے وزن کے حساب سے دیا ہے آپ اسے موٹا دماغ نہیں کہہ سکتے یہ زیرک لوگ تھے جو اپنی فیلڈ میں نام کما گئے۔ یہ وزنی لوگ سارے ہی سو سے اوپر کے ہوں گے۔وہ دور ہاتھ سے لکھنے کا تھا میں بھی سعودی عرب کی جیلوں سے ہوتا ہوا ایک پرائیویٹ ادارے میں سیٹھ کی نوکری کرتا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اللہ پاک ان لوگوں کو سیدھا جنت میں بھیج دیں گے جنہوں نے پاکستانی سیٹھوں کی نوکری کی ہو گی۔کیا دور تھا بشیر جعفری ڈاکٹر افتخار مغل کی تحریریں اس اخبار کی زینت بنتیں تو قاری کے دلوں میں اتر جاتیں۔میری خواہش ہے کہ منتحب کالم نگاروں کے پرانے کالموں کو اخبار میں جگہ دی جائے ۔وہ بھی اس دنیا سے چلے گئے چلے ہم نے بھی جانا ہے لیکن جہان فانی سے اچانک جانا کوئی بوجھ اور ڈر نہیں ہوتا اگلی رات بہترین کام نویسی کے ایوارڈ کی بات ہو رہی تھی میرا نام بھی زیر غور تھا میں نے خود اپنے دوستوں سے کہا کہ ابھی کچھ کام کرنے ہیں مجھے آپ ایوارڈ کسی اور دوست کو دے دیجئے۔اللہ ایوارڈ ونر عباسی صاحب کی لمبی عمر کرے مگر یہ ایوارڈ جناب بشیر جعفری کو کھا گیا اس ے ڈرنا ہی بہتر ہے۔
جموں کشمیر کی خوبصورتی یہ ہے کہ اسے رومی ء کشمیر میاں محمد بخش کے اشعار سے مزین کیا گیا ہے۔شائد بعض نے تو اسے گجروں کا اخبار کہہ دیا۔۔دیکھا دیکھی کوئی چالیس پینتالیس اخبار کشمیر سے نکالے گئے ہیں کچھ تو ادھر پنڈی اسلام آباد سے نکلتے ہیںلیکن پہلے اخبار کا اعزاز جموں کشمیر کو ہی حاصل ہے ۔

کشمیری کمال لوگ ہیں جدہ میں ایک مدت گزاری کیا مہمان نواز ،کیا خوبصورت رونقیں اور محفلیں لگانے والے لوگ، کام جو بھی کریں اپنی ذات پر خرچ کرتے نظر آتے ہیں۔آئے روز محفلیں سجانے والے کر مزدور کھا چوری کسی نے انہی کو دیکھ کرکہا ہے۔میں جب یہ کالم لکھ رہاہوں تو مجھے رفیق عارف اشفاق سیٹھی،شاہد لنگڑیال، سردار گجر وزیر خان،محبوب بھائی،عبدالرحمن بھٹو، مقبول رضا شبیر گجر،سردار اقبال،حفیظ خان سردار الطاف۔مشتاق منگ،سردار اعظم،بلا کے لوگ تھے ایک نسیم محمود کا ہی نام لوں تو لفظ کم پڑ جائیں چکار کا یہ فرزند صرف کشمیریوں کا ہی نہیں پاکستانیوں کا بھی چھتر چھایا ہے

کیا کیا چہرے نظروں کے سامنے گھومنے لگے۔ ان لوگوں میں کمال یہ ہے کہ ایک کو آگے کر کے اس کو قدم بڑھانے کا کہہ کر پیچھے نہیں ہٹتے۔میں نے دیکھا کہ مطلوب انقلابی جاوید بڈھانوی چودھری نور عالم چودھری اسمعیل الیکشن کے میدان میں کودے تو وہاں سے فنڈز بھیجے گئے گاڑیاں خرید کے دی گئیں۔یہ کام کشمیریوں میں کا ہی ہو سکتا ہے۔ہم لوگوں کو گھر میں ہی دبوچ لیا جاتا ہے۔

باہر کے ملکوں میں ایک کشمیری گیا تو پھر لائن لگ گئی۔اللہ تعالی خلیج کے ملکوں اور سعودی عرب کو سلامت رکھے جس نے خطہ ء کشمیر کے حالت بدل کے رکھ دئے ہیں۔میں نے کشمیر کے ان بیٹوں کے ساتھ بڑا وقت گزارا ہے ایک لمبی فہرست ہے دوستوں کی جو جموں کشمیر کے قاری ہیں اور میرے دوست بھی ضمیر بضاڑ عبداللطیف عباسی سردار جاوید اشفاق خان زرین خان راجہ اکرم کس کس کو یاد کروں مگر مجھے وہ ڈارئیور ایوب کبھی نہیں بھول سکتا جس نے ۱۹۷۷ میں پہلی بار سردار عبدالقیوم سے ملوایا۔میرے اس دوست کا کمال یہ تھا کہ سخت کام کرنے کے بعد اپنے آپ کو نفیس کپڑوں سے مزین کرتا کچھ لکھتا پڑھتا اورسو جاتا میں نے ایک دن ان سے پوچھا کہ اگر آپ نے سونا ہی ہوتا ہے تو اتنا اہتمام کیوں کرتے ہیں
کیا جواب تھا اس کا کہنے لگا چودھری صاحب وہ میرا کام ایسا ہے مجبوری ہے لیکن اس کا مطلب نہیں کہ میں اپنے جسم کی دعوت کرنا چھوڑ دوں یہ میرے محنت کے دن ہیں گزر جائیں گے میں اپنے جسم کی دعوت کرتا ہوں رات گئے نہا دھو کر قرن پڑھ کر نماز پڑھ کر اسے پاک صاف رکھ کر اس کی دعوت ہوتی ہے اس نے سردار عبدالقیوم کو پہلی بار فالکن فریٹ میں بلایا یہ ایک ٹرانسپورٹ کمپنی تھی جس کے مالک آج کے ٹائیکون میاں منشاء تھے۔یہ کشمیریوں کا ایک خوبصورت پہلو ہے مردان کوہستان فطرت کے اصولوں کے نگہبان بھی تو ہیں۔

اس اخبار کے عامر محبوب کا بھی یہی کہنا تھا کہ ہماری کوئی آواز نہ تھی۔ہم پریشان رہتے تھے کہ کہ ہمارا اپنا اخبار نہیں ہے اس وقت امتیاز جناح میں ،میں اوصاف اور عرفان قریشی خبریں میں تھے ہم تینوں ہی اچھی پوزیشن پر تھے ہم نے آواز بلند کرنے کے لئے اخبار نکالا۔
شہزاد راٹھور پیارا دوست ہے قلم میں ماشاء اللہ بڑی کاٹ ہے دوست ہے لکھتا ایسا ہے کہ بس قلم توڑ دیتا ہے اس کے اس قلم کی محبت میں کتنے قلم اٹھا تے ہیں جاوید ہاشمی نے بھی خوب لکھا اور اس اخبار کی ترقی میں ہاتھ بٹایا۔

میں نے پاکستان کے قومی اخبارات میں لکھتا تھا۔ نوائے وقت میں ایک بار ایک ایڈیٹوریل صفحے کے انچارج دوست نے کہا آپ اگر ادھر لکھتے ہیں تو کسی اور اخبار میں نہیں لکھ سکتے یہ ہماری پالیسی نہیں ہے اک طرف تھا مے کدہ اک طرف ان کا گھر ہم نے ان کے گھر کو منزل بنایا۔بعد میںہ نظامی صاحب سے مجھے استشنی مل گیا۔ اللہ انہیں جنت میں جگہ دے آمین۔
اس اخبار کا یہ کمال ہے کہ جب اس نے کشمیر کی آوز بلند کی تو پاکستان کے اخبارات کو بھی سنبھلنا پڑا پہلے تو ایک آدھ صفحے پر ٹرخا دیا جاتا تھا لیکن جب مقابلے میں جموں کشمیر آیا تو انہیں بھی کشمیر کاز کے لئے اس کی آواز میں آواز ملانا پڑی۔

کشمیری بڑے اچھے لوگ ہیں ان میں خرابی یہ ہے کہ یہ لاہور چلے جاتے ہیں اور یہاں سے جو روشنی لے کر جاتے ہیں کہیں راستے میں ہی غائب ہو جاتی ہے آج کے دور کی انھیاں بھی انہی کی جانب سے پائی جاتی ہیں۔
گیارہ سالہ کامیابی کا سفر کوئی ایسے ہی نہیں طے ہوا ۔عامر محبوب سے جب پوچھا گیا کہ یہ جموں کشمیر کا نام کہا ںسے آیا تو تو پتہ چلا کوئی اورنگزیب پروانہ تھے جن کے دماغ کی اختراع تھی ۔پروانہ صاحب کا دیا ہوا نام ہمارے لئے باعث افتخار ہے ۔

میرے کالم گزشتہ گیارہ سال سے اس اخبار میں چھپ رہے ہیں دوسرے معنوں میں میرے دوستوں نے مجھے گیارہ سال سے برداشت کیا ہے۔کھڈ گجراں میں اپنے عزیز جاوید اقبال بڈھانوی کے والد صاحب کی وفات پر جانا ہوا تو وہاں جا کر حیرانگی ہوئی کہ لوگ مجھے جموں کشمیر کے حوالے سے میری سیاسی وابستگی سے زیادہ جانتے ہیں۔سعودی عرب سے جبری ر رخصتی کے بعد عرصہ سات سال کے بعد واپس گیا تو ایک تقریب میں بہت سے لوگ ملے جو صرف جموں کشمیر کا حوالہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آپ چلے تو گئے تھے مگر آپ کی تحریریں جموں کشمیر میں پڑھنے کو ملتی رہی ہیں۔

اس اخبار کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے یہ اخبار پلس ہے مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ جس بندے کے مسئلے کی خبر ان تک پہنچی انہوں نے حل کرانے کی سرتوڑ کوشش کی۔جموں کشمیر نے اپنی دکان بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹوروں کے سامنے لگائی اور ایمانداری کا سودا مناسب داموں بیچا اور کامیابی سمیٹی۔اس اخبار کی ایک اور بڑی خوبصورتی یہ کہ یہاں تنخوا مل جاتی ہے۔عموما اخبارات کے ملازمین یہ نہیں پوچھتے کہ تنخواہ کتنی ہے ان کا سوال ہوتا ہے ملتی بھی ہے یا نہیں۔میرا بھی یہی سوال عامر محبوب سے تھا بقول عامر محبوب اگر دس کو نہیں تو پندرہ کو ہم سب کو تنخوا ہ دے ہی دیتے ہیںبات سن کر میرے سامنے بڑے بڑے جغادری بونے نظر آئے میں ایک صحافی کی داستان غم پڑھ کر حیران ہوا اس کے اخبار کا مالک بڑا لائق فائق تھا حکومتی منصب ایسا

پایا کہ کسی کو کم کم ملا ہو گا۔لیکن جب وہ کسی ملعونہ کی حمائت کی وجہ سے اس جہان سے رخصت ہوا تو لوگوں نے ایک دوسرے کو مبارک بادیں دیں اس نے نو ماہ تک لوگوں کو تنخواہ نہیں دی اس کے بیٹوں سے کسی نے کہا واجبات ادا کریں تو جواب ملا ساڈا ابا مر گیا توانوں تنخواہ دی پئی اے۔
دیکھئے یہ تنخواہ دار بڑے ضرورت مند ہوتے ہیں محلے کی دکان کے پیسے دودھ والے کی رقم پہلی تاریخوں کو ہی دینے ہوتے ہیں۔میں نے میاں صاحب نواز شریف کے ساتھ اچھے دن گزارے ہیں اگر مجھ سے پوچھیں کہ آپ کا کیا مسئلہ ہے تو میں کہوں گا کہ اخبارات کے ظالمان سے انہیں وقت مقررہ پر تنخواہ لے کردیں پیمرا کو چاہئے کے وہ ان معاملات کو بھی دیکھے ۔تنخواہ داروں پر کم از کم یہ ظلم نہ کریں کہ مہینے کے آکری دن کو کہا جائے کہ بل جمع کرائو ۔کوشش کی جائے کہ بجلی کا بل مہینے کی آخری تاریخوں کی بجائے درمیان میں لے لیا جائے جرمانے سے تو بچت ہو جائے گی مگر جہاں نیت ہی جرمانہ کرنے کی ہو تو وہاں یہی کچھ ہو گا۔اس کے پیچھے جو بد دیانت ذہن ہے جی چاہتا ہے ہزار جفت بر سر ایں شیطان کروں۔

ان تاریخوں میں جن دنوں یہ تنخواہ دار لوگ روکھی سوکھی کھا رہے ہوتے ہیں بل آ جاتے ہیں۔ویسے ہم ہیں ہی ایسی قوم جو جوتیاں مارنے والوں کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہیں سزا معافی کا مطالبہ نہیں کرتے۔جموں کشمیر بھی واویلا کرتا رہتا ہے بجلی یہاں پیدا ہوتی ہے لاگت ساٹھ پیسے اور ان کشمیریوں کو بیچی جاتی ہے چھ روپے میں۔منگلا کی رائیلٹیکیا میٹرو پر چڑھ گئی ہے حق دار کو حق دیا جائے۔اور کچھ نہیں تو وزیر امور کشمیر ان کے لئے آسانیاں ہی پیدا کروا دیں۔میر پور کے اجڑے ہوئے لوگ بریطانیہ چلے گئے رائلٹی کا مطالبہ ادھر ہی ہے۔ اسی لئے تو جنتا اپنی زمینیں سرکار کو نہیں دیتی کہ انہیں معاوضہ نہیں دی اجاتا ڈیموں کے لیئے لوگ زمینیں کیوں دیں منگلا اور تربیلا والے ابھی تک لٹکے ہوئے ہیں۔ میں اس موقع پع اپنے ان قارئین کا بھی شکر گزار ہوں جو کالم پڑھتے ہیں اپنی آراء سے آگاہ کرتے ہیں

ایک کمال کے کالم نویس نے تو قومی اخبار کو اسی وجہ سے خیر باد کہہ دیا۔بیرون ملک مقیم کشمیریوں کے لئےجو آواز جموں کشمیر بلند کر رہا ہے ۔پاکستانی اور کشمیری ان کے معترف ہیں میں بھی شکر گزار ہوں سعودی عرب میں میری تنظیم حلقہء یاران وطن آپ کی جد و جہد کو سلام پیش کرتی ہے۔اس موقع پر میری گزارش ہے کہ جموں و کشمیر کے قارئین کے مسائل کو ترجیحی بیادوں پر حل کیا جائے خاص طور پر اوورسیز کشمیریوں اور پاکستانیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔خلیج میں چالیس پاکستانی ہیں ان میں میرے خیال میں دس لاکھ تو کشمیری ہوں گے آزاد کشمیر اسمبلی میں انہیں نمائندگی دینے کے لئے یہ اخبار آواز بلند کرے اور نہیں تو کشمیر کونسل مین انہیں سیٹ دی جائے۔اس اخبار کو چاہئے کہ وہ کشمیر کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان جو گوجری ہے اسکولں میں نچوں کو پڑھائی جائے۔

یہ کس قدر اچھی روائت ہے کہ کشمیر ایڈیٹرز کونسل یا سوسائٹی کے صدر عامر محبوب نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے صدارت کی ذمہ داریوں سے معذرت کر لی۔ ورنہ یہاں تو لگ زمین سے لگ رہے ہوتے ہیں تو صدارت نہیں چھوڑتے کچھ تو ہسپتال کے بستر سے لگ کر اگلے جہاں چلے گئے لیکن عہدہ نہیں چھوڑا وزارت امور کشمیر کے شیخو، کوہالہ پل تو دیکھنے گئے ہوں گے انہیں اب کشمیر کے مسائل کا بھی پتہ چل گیا ہو گا۔ وہاں کے پڑھے لکھے لوگوں کے مسائل کو حل کرنے میں ان کی مدد کریں آئینی معاملات اپنی جگہ این ایف سی ایوارڈ میں کشمیریوں کا حصہ رکھا جائے۔ہر چیز کے لئے اسلام آباد کی دیکھنا ایک احساس محرومی کو جنم دے رہا ہے۔گلگت بلتستان کا بھی یہی رونا ہے ۔

میں نے عامر محبوب سے باتوں باتوں میں یہ پوچھا کہ پاکستان کا کون سا دور حکومت کشمیریوں کے لئے بہتر تھا میں حیران ہوا انہوں نے مشرف دور کو بہترین قرار دیا۔ یہ جمہوری حکومتوں کے لئے ایک سوال ہے؟ ان کا کہنا تھا مشرف ملتے تھے کشمیری ان سے سوال کیا کرتے تھے مطلوب انقلابی نے تو سخت سوالات بھی اٹھائے۔سچ پوچھیں پورے پاکستان نے اتنے تگڑے لیڈر نہیں پیدا کئے جتنے ایک چھوٹے سے خطے نے متعارف کرائے سردار ابراہیم سردار عبدالقیوم صاحبزادہ اسحق ظفر کی مثال کم کم ہی ملے گی۔
یہ کچھاریں اب بھی خالی نہیں جاوید بڈھانوی مطلوب انقلابی لطیف اکبر سردار خالد ابراہیم سردار عتیق احمد خان اشفاق ظفر اور اس صف میں عبدالرشید ترابی جیسے کئی نام ہیں۔اللہ تعالی کشمیریوں کو آزادی نصیب فرمائے۔آزادی کے بیس کیمپ میں بہار اترے۔
میری دعا ہے کہ جموں کشمیر اس کے جملہ ذمہ داران قارئین نمائندے رپورٹرز تقسیم کنند گان سب سلامت رہیں۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں