8

اصل دہشت گرد یہ بھینسے ہیں

ہمارا ملا بیچارہ روٹی کی تلاش میں مانسہرہ وزیرستان فاٹا اور پنجاب کے دور دراز علاقوں سے نکل کر اللہ کی کتاب پڑھا کر پیٹ بھرتا ہے۔یہ دنیا کی سب سے بڑی این جی او کا ورکر ہے جو لاکھوں بچوں کو چھت روٹی اور کپڑا دے رہی ہے اسے خدا را بد نام نہ کیجئے۔اصل دہشت گرد یہ بھینسے ہیں جن کا ذکر میں آگے چل کر کروں گا۔

ویسے تو گالی ہم ملا کو دیتے ہیں جاہل اجڈ اور وحشی کا بھی خطاب اسی کے لئے چن رکھا ہے دہشت گردی کی ایک تصویر یہ بنا کر پیش کی گئی ہے کہ لمبے بال چترالی پٹی کی ٹوپی کمر پر کارتوسوں کی پیٹی ہاتھ میں بندوق۔ دنیا بھر کی بد امنی اس شکل کے ساتھ وابستہ کر دی گئی ہے۔ کسی ایئر پورٹ پر ہوں بس میں یا کسی عوامی جگہ پر بچے سہم سے جاتے ہیں ۔کیا یہ سچ ہے؟جی کسی حد تک اس لئے کہ ہمارے دشمنوں نے سنت رسولﷺ اور ان جیسی صورت بناکر دہشت گرد اس معاشرے میں داخل کر دئیے ہیں ۔ان کو تخلیق کیا گیا ہے۔چند بے حس بے ضمیر لوگ جو بعض اوقات مسلمان بھی نہیں ہوتے یہ روپ دھار کر ہماری خوشیاں غارت کر رہے ہیںلیکن کسی نے یہ نے بتایا کہ اللہ کی سنت پر پورا اترنے والے اس دھرتی پر پیار اور محبت کے پر چارک کوئی اور ہیں۔سخت سردیوں میں برف جمے پانیوں سے وضو کرنے والے اللہ کی کتاب کو سینے سے لگائے مسجدوں سے ازانیں بلند کرنے والے یہ عظیم لوگ کیوں بدنام کر دیئے گئے.

آئیں میرا ساتھ دیں ہم جواب دیں گے ان کالے ضمیر والے لوگوں کا جن کا اللہ کے بندوں اور نبیﷺ کے مصلے کے وارثوں سے لڑائی ہے۔میں بے عمل مسلمان سہی مگر میں یہ ظلم نہیں دیکھ سکتا ۔یہ منحوس لوگ ہر پارٹی میں ہیں قلم پکڑے ہوئے بھی ہیں ٹی وی کے اینکر سیاسی پارٹیوںمیں گھسے یہ شیطانی پلے میرے بھی دشمن آپ کے بھی اللہ اور اس کے رسول کے تو یہ ہیں ہی دشمن۔

قارئین کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آج کے دور کی سب سے بڑی دہشت گردی کی ابتدا امریکہ سے ہوئی ہندوستان میں تامل لوگوں نے خود کش بمبار تیار کئے۔چلیں چھوڑیں اس بحث کو مین آج آپ کو ایسے دہشت گردوں سے متعارف کروانا چاہتا ہوں جو اپنے آپ کو بڑا پڑھا لکھا سمجھتے ہیں کہلواتے ہیں ہمارے تعلیمی اداروں میں ہمارے بچوں اور بچیوں کو پڑھاتے ہیں۔لیکن وہ مذہبی انتہا پسندی کی آگ بھڑکاتے ہیں دین سے دوری کا سبق دیتے ہیں آپ ہود بھائی کو دیکھ لیجئے فرزانہ باری کا مطالعہ کر لیں عاصمہ جہانگیر کو سٹڈی کریں ۔ان تازہ خدائوں میں بڑا خدا سلمان حیدر ہے پچھلے دنوں اس کے اغواء کی خبر آئی کے اسے ایجینسیوں نے اٹھا لیا ہے۔

اس کے کالے کرتوت جب دیکھے تو ان ایجینسیوں کا شکریہ ادا کر نے کو جی چاہتا ہے۔پاکستان کے قانون کے مطابق ریاست کسی کو تفتیش کے لئے نوے دن تک زیر حراست رکھ سکتی ہے۔میں کبھی بھی اس قسم کے قانون کی حمائت نہیں کرتا اس لئے کہ اس قانون کا غلط استعمال کسی بھی شریف آدمی کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سلمان حیدر جیسے لوگ پاکستان میں مذہبی نفرت پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں ان کو کون پکڑے گا؟میں مسنگ پرسنز تحریک کا ساتھی بھی ہوں لیکن ان بے ضمیروں کی سرزنش کون کرے گا؟

ان کے عقیدے اور ان کے خیالات پر دل کھول کر بھی بات نہیں کرنا چاہتا کہ میری بات سے اشتعال نہ پیدا ہو۔لیکن جو شخص سوشل میڈیا پر بھینسا نامی پیج چلاتا ہو اور اس میں امہات الموئمنین کے لئے بکواسیات کی آخری حد تک چلا جاتا ہو تو اس کا کیا علاج ہو گا۔ہماری بد قسمتی دیکھئے کہ ہم اللہ کے پیارے رسول حضرت عیسی کا بھی اتنا ہی احترام کرتے ہیں جتنا پیارے نبی اکرم ﷺ کا کیا جاتا ہے۔لیکن جب پیارے نبی کے خاکے بنائے جاتے ہیں تو ان بے ضمیروں کی مذہبی سوچ انہیں منع نہیں کرتی اور وہ اپنے تئیں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔آقا ﷺ کے نام پر کئی لوگ شہید ہو گئے ایک قانون توہین رسالت کا بنا اسے ایک شخص نے سر عام کالا قانون کہا جب اس نے یہ بات کہی تو اس سے اشتعال پید اہوا اور اس کے نتیجے میں سلمان تاثیر سر عام قتل کر دیا گیا۔

اسے کس نے کہا تھا کہ ایک ملعونہ جس نے آقائے نامدار پر رکیک حملے کئے اسے عدالت میں جا کر ملے ۔کسی کو شائد یہ یاد ہو نہ ہو کہ اس کے ابا محمد دین تاثیر علامہ اقبال کے ساتھ مل کر غازی علم دین شہید کے جسد کو لاہور لا کر دفن کرانے میں مصروف رہے ۔رنگیلا رسول کتاب چھاپنے والے حد کر دی تو نوجوان غازی علم دین نے اسے جہنم واصل کیا خود علامہ اقبال نے اس جرائت پر اسے خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ترکھاناں دا منڈا ساڈے کولوں کو بازی لئے گیا جئے(ترکھانوں لا لڑکا ہم سے بازی لے گیا) دیکھئے اس چیز کا کوئی مستقل حل نکالا جائے پاکستان کو اسلامی کانفرنس میں قرارداد پیش کر کے اس مسئلے کو اقوام متحدہ لے جا کر پابندی لگوانی چاہئے کہ دنیا کے تمام مذاہب کے پیشوائوں کی تو ہیں جرم ہے۔جس طرح یہودیوں کی سوچ کو تحفظ فراہم کیا گیا اسی طرح ہمارے نبیﷺ کی عزت و توقیر کی پاسداری ہونا چاہئے.

اب ناموس صحابہ اور امہات المومنین کی عزت و توقیر کی پاسداری بھی بہت ضروری ہے۔ہم کہتے تو اپنے آپ کو مسلمان ہیں لیکن معاف کیجئے ہم میں سے کچھ لوگ صحابہ اور امہات المومنین پر بہتان باندھتے ہیں۔سلمان حیدر کا پیج بھینسا کھول کر دیکھئے روشنی ملاحظہ کیجئے موچی پڑھئے یہ سب عجیب نام ہیں حوالدار ان سب میں توہین امہات المو منین موجود ہے۔

کوئی جبران نامی شخص ہے اس کے خیالات دیکھ لیں یہ سب موم بتی مافیا ہے یہ سیاسی پارٹیوں میں گھسے ہوئے ہیں ایک پڑوسی ملک کا پیسہ استعمال کرتے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو خراب کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ان پر نظر رکھئے انہیں دیکھئے یہ غریب مظلوم کی بات کریں گے مگر اس کے پیچھے ان کے عزائم اتنے قبیح ہیں کہ کانوں کو ہاتھ لگانے کو جی چاہتا ہے۔اصل دہشت گرد یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اے پی ایس کے بچوں کو شہید کیا یہ ان کا دوسرا روپ ہیں ایک کی لمبی داڑھی دوسرے کی جینز مقصد سب کا ایک، اسلام اور پاکستان کی بیخ کنی کرنا ہے۔

ان لوگوں کے مکروہ مقاصد پاکستان کو ہر لحاظ سے ناکام بنانا ہیں ایک نوجوان لڑکے اقبال مسیح کے نام پر پاکستان کی ہینڈ کارپٹ انڈسٹری کا بیڑہ غرق کیا گیا ایک وقت تھا ہم ایرانی قالین کو پچھاڑ چکے تھے اور پھر ہوا کیا؟انسانی حقوق چائلڈ لیبر کے نام پر اس عظیم انڈسٹری کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔یہ فٹ بال کے پیچھے بھی آئے لیکن اللہ کا کرم ہوا سیالکوٹی تاجر صنعت کار سمجھدار نکلے انہوں نے ان بچوں کی مائوں کو نوکری دے دی۔ان کے نزدیک قصور میں بچوں کے اور زیادتی کوئی معنے نہیں رکھتی مگر اقبال مسیح کو مزدوری کرانا جرم لگا۔پاکستان کا برا چہرہ پیش کرنے پر شنوئے کو آسسکر دے دئے گئے جب کے امریکہ میں خواتین کا سب سے زیادہ استحصال ہوتا ہے وہاں کی فلم کو کوئی نہیں سراہتا۔

اللہ کا کرم ہوا کہ سوشل میڈیا سامنے آیا ورنہ یہ ہمارے اخبار کے مالکان ٹکے ٹنڈ بک جایا کرتے تھے اور ہماری آواز کو کوئی آگے نہیں پہنچایا کرتا تھا۔ہم عہد کرتے ہیں کہ اللہ کے فضل سے اس عظیم میڈیا کو پاکستان اور اسلام کے لئے استعمال کریں گے اور اس ملک کو تباہ کرنے والوں کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے۔ہمیں چھاپو یا نہ چھاپو۔ہم وہ لوگ تھے جو مجبورا چورون اور لتیروں بلیک میلروں کو ظفر علی خان کہتے رہے۔نہ چھاپیں کالم رکھیں اپنے اخبار اپنے پاس(میں بلیک میلروں کی بات کر رہا ہوں)

ہم ان ملالہ زئیوں ناصر جبرانیوں ہود بھائیوں عاصمہ جہانگیریوں فرزانہ باریوں اور سلمان حیدروں سے نپٹ لیں گے ۔اصل دہشت گرد یہ ہیں ۔میں نے جدہ کے الحیات اخبار میں ۲۰۰۰ میں پڑھا تھا کہ جرمنی میں طالبان تیار ہو رہے ہیں یہی وہ ظالمان ہیں جن کے ختنے بھی نہیں ہوئے اور افغانستان میں پکڑے گئے۔ ہمارا ملا بیچارہ روٹی کی تلاش میں مانسہرہ وزیرستان فاٹا اور پنجاب کے دور دراز علاقوں سے نکل کر اللہ کی کتاب پڑھا کر پیٹ بھرتا ہے اسے خدا را بد نام نہ کیجئے۔اصل دہشت گرد یہ بھینسے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں