میئرآف راولپنڈی

پاکستان مسلم لیگ (ن)کی حکومت اور پارٹی نے جہاں عوامی فلاح کے کئی منصوبے دیئے وہاں عوامی فلاح کے لئے گراس روٹ لیول پر قیادت بھی فراہم کی پاکستان میں راولپنڈی شہر کو اعزاز حاصل ہے کہ خالصتاََایک ’’کارکن ‘‘کو راولپنڈی کا’’ سلطان ‘‘بنایا گیا۔ یقیناًباقی اضلاع میں بھی شاید اس طرح کا کارکن آیا ہو مگر مجھے اس کی معلومات نہیں ہیں۔راولپنڈی میں مسلم لیگ (ن)اور سردار نسیم لازم و مزلوم ہیں،یہ ممکن نہیں کہ انکا رشتہ جدا ہو،اچھے حالات ہیں،یا پھر تکلیف دے سردارنسیم نے 1985 سے M.S.F اور یوتھ ونگ کے پلیٹ فارم سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔آزاد کشمیر کی مارشل قوم ’’سدھن ‘‘قبیلے کے سرخیل ہیں۔ راولپنڈی میں ان کے بزرگ ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے وابسطہ تھے اور ہیں۔سردار نسیم کو بے شمار اعزازات ملے ہوں گے،مگر میں سمجھتا ہوں کہ سفید پوش متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکن ہیں جنہوں نے سیاست کو ذریعہ روزگار نہیں بنایا۔سردار نسیم کو شاید ایسااعزاز نصیب ہوا جو کہ پورے پاکستان اور خاص طور پو پنجاب میں سیاسی کارکن اور راہنما کو نصیب نہ ہوا ہوگا۔کسی نہ کسی میئر کا کوئی نہ کوئی MNA ،MPA ،سینٹر یا پھر پارٹی کے سینئر راہنما سے عزیز داری اور رشتہ داری ہو گی۔

میئر کے الیکشن میں دھڑے بندیاں ،گروپ بازی بھی تھی۔میئر کے الیکشن میں کئی پنجاب اور مرکز آمنے سامنے آئے۔صوبائی مرکزی قیادت کی دعوے داری نظر آئی۔فیصل آباد میں تو باقاعدہ P.T.I کی حمایت حاصل کی گئی ۔صوبائی اور مرکزی قیادت اور وزراء آمنے سامنے آئے۔راولپنڈی کو اعزاز حاصل ہوا کہ جب سردار نسیم کا نام اعلیٰ قیادت جو کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف ،وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے سامنے آیا تو کوئی چوائس نہ تھی،فوراََ قرعہ ’’سردار نسیم ‘‘ کے نام کا نکلا۔ضلع کونسل کے چئیر مین اور وائس چئیر مین کا فیصلہ نہ ہو سکا ،صرف جناب چوہدری نثار علی خان کا بیان آیا کہ ضلع کونسل کے چئیر مین کا حق گوجر خان کا ہے اور راجہ اخلاص کو اہمیت دی گئی کہ وہ فیصلہ کریں،وائس چئیر مین راولپنڈی کے لئے حافظ عثمان عباسی اور کہوٹہ سے بلال یامین ستی کا نام لیا جا رہا ہے۔راولپنڈی شہر کے سردار نسیم کو اعزاز حاصل ہے کہ صوبائی اور مرکزی قیادت کی حمایت کے ساتھ جناب چوہدری نثار علی خان کی حمایت حاصل ہے،پاکستان کے شاید واحد مئیر ہیں جنکو وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے ایوان وزیر اعظم بلایا ،مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ مسلم لیگ اور شہر کے لئے کام کریں گے۔

راولپنڈی شہر کے علاوہ اسلام آباد کے Mayor بھی ایک اچھی چوائس ہیں،وہ اسلام آباد کے مئیر کے علاوہ قائمقام چیئر مین CDA بھی ہیں۔اسلام آباد ،راولپنڈی اور مری کے لئے وزیر اعظم جناب نواز شریف خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔2018 الیکشن میں صرف ایک سال کا عرصہ باقی ہے۔راولپنڈی کے دو حلقے NA-55/56 جو کہ مسلم لیگ کے گڑھ تصور ہوتے ہیں یہاں سے شکست ہوئی۔اسطرح ٹیکسلا ،واہ کینٹ سے بھی مسلم لیگ کو شکست ہوئی۔اسلام آباد NA-48 سے مسلم لیگ کو جنرل الیکشن اور ضمنی الیکشن میں شکست ہوئی۔NA-49 میں سخت مقابلے کے بعد مسلم لیگ کامیاب ہوئی۔اسلام آباد میں مسلم لیگ کی کوئی تنظیم نظر نہیں آتی ،اس کے مقابلے میں راولپنڈی میں سردار نسیم کے علاوہ حنیف عباسی الیکشن ہارنے کے باوجود انتہائی متحرک اور ترقیاتی کاموں میں بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔اسی طرح شکیل اعوان جو کہ MNA کا الیکشن ہار گئے مگر اپنے حلقے اور راولپنڈی میں مسلم لیگ کی نمایاں آواز ہیں۔اس طرح MPA راجہ حنیف عباسی بھی متحرک ہیں ۔مذکورہ بالا چاروں راہنماؤں میں قدر مشترکہ ہے کہ گراس روٹ لیول سے اور سفید پوش متوسط طبقے سے تعلق ہے۔سردار نسیم کی وجہ سے راولپنڈی شہر کے اندر مسلم لیگ مضبوط ہو گئی مگر ایک سیاسی کارکن کے طور پر انکے دروازے مسلم لیگ کے کارکنوں اور عوام الناس کے لئے ہمیشہ کھلے ملیں گے۔راولپنڈی صدر سے فیض آباد تک اگر ترقیاتی کام اور عوامی فلاح کے منصوبے جاری رہے ،وقت پر مکمل ہوئے اور عوام کو اسکے فائدے میسر آئے تو 2018 کا الیکشن مسلم لیگ ضرور جیت جائے گی۔مسلم لیگ اور نواز شریف کو سیاسی میدان میں کبھی زیر نہیں کیا جا سکا۔ہمیشہ مسلم لیگ (ن) محلاتی سازشوں کا شکار ہوئی۔

کبھی عدلیہ سے لڑائی ،کبھی فوج سے محاذ آرائی،مسلم لیگ (ن) اپنے وقت سے قبل اقتدار سے الگ ہوئی۔مگر شائد اب ایسا نہ ہو۔راولپنڈی میں 2013 ؁ء کے الیکشن پارٹی کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے ہارے۔مسلم لیگ میں واضع گروپ بندی تھی۔جو کہ ضلع کونسل کے الیکشن میں نظر آرہی ہے، چیئر مین ضلع کونسل کے الیکشن میں ،راولپنڈی میئر کے الیکشن میں بھی نظر آئی ،راولپنڈی میئر کے دیگر دو امیدوار آج بھی بلکل الگ ہیں۔جن میں ایک میئر کے امیدوار کو Depty Mayor کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔بہر حال سردار نسیم کو راولپنڈی شہر کی دستار پہنائی گئی انکو تمام لوگوں اور کارکنوں کو ساتھ لیکر چلنا ہو گا،آئندہ الیکشن میں مئیر راولپنڈی کا کردار بنیادی ہو گا،جہاں بہت نامی گرامی لوگ راولپنڈی کے میئر رہے وہاں مسلم لیگ ایک ادنیٰ کارکن اور ’’جیالے‘‘کو راولپنڈی کا سلطان بنایا،جو کہ کارکنوں کے لئے امید بہار ہے۔مسلم لیگ نے راولپنڈی اور اسلام آباد میں کام تو بہت کرائے،صرف میٹرو بس سروس سے لاکھوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ہسپتال،اسکول ،سڑکیں،رنگ روڈاور بے شمار ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔

جس کابراہ راست فائدہ صرف عوام کا ہے۔زیروپوائنٹ سے روات سگنل فری روڈ جو کہ 23 کلو میٹر ہے،جس سے تقریباََ اسلام آباد کی 10 سے زائد یونین کونسل مستفید ہوں گی،لاکھوں لوگوں کو فائدہ ہو گا۔اسلام آباد کے 422 اسکولوں کو 200 نئی بسیں وزیر اعظم پاکستان نے دی،5 ارب کا ترقیاتی فنڈ صرف CDA کو دیا۔اسلام آباد کلب سے بہارہ کہو تک روڈ کو اضافی لائن کے ساتھ چوڑا کیا جا رہا ہے،NHA سڑک بنائے گی۔بہارہ کہو بائی پاس بن رہا ہے۔میئر اسلام آباد کو قائمقام چیئر مین CDA لگا دیا ہے،مگر ائیرپورٹ سے اسلام آباد آتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ شائد تاریکی کا راج ہے، ائیر پورٹ سے غیر ملکی آتے ہیں۔پہلا تا ثر ملتا ہے کہ اندھیروں کا راج ہے،شائد لوڈ شیڈنگ ہے حالانکہ بجلی کا بحران ختم ہو گیا ہے۔سردار نسیم میئر راولپنڈی کے لئے اب T-20 کا میچ ہے ،صرف 365 دنوں میں انکی کارکردگی نظر آنی چاہئے،حکومت کے کاموں کی تشہیر ہونی چاہئے،TV ٹاک شو میں صرف NON ایشو کا دفاع نہ کریں ،اپنی کارکردگی بیان کریں۔محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف یقیناًمبارکباد کے مستحق ہیں،کہ راولپنڈی میں ایک ’’کارکن‘‘ کو نوازا ۔جتنے پھول اور مبارکبادیں راولپنڈی کے میئر کو ملیں شائد ہی کسی اور کو ملیں ہوں۔

Well Done Mayor of Rawalpindi

خالد قریشی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں