8

الناس علی دین ملوکھم

لوگ اپنے بادشاہوں کے راستے پر چلتے ہیں۔ چودھری طارق گجر گجرانوالہ سے سابق ایم پی اے رہے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے نائب صدر بھی تھے۔ کوئی پندرہ سال پہلے جدہ آئے تو مجھ سے کہنے لگے چودھری صاحب آپ کدھر تحریک انصاف میں چلے گئے ہیں اس وقت ممتاز کاہلوں سینئر نائب صدر پنجاب پی ٹی آئی بھی پیپلز پارٹی میں تھے۔ان کے گھر گجر صاحب سے تفصیلی ملاقات ہوئی۔میرا کہنا تھا اللہ کرے گا وہ دن بھی آئے گا آپ عمران کے ساتھی ہوں گے وقت آ گیا ہے دونوں تحریک انصاف میں ہیں۔ہمارا کام دعوت و تبلیغ کا تھا جو ملا دیتے رہے اور لوگ آئے تو اپنی مرضی سے مگر جن جن کے دروازے کو کھٹکھٹایا انہیں جلد یا بدیر پی ٹی آئی میں پایا۔ جہلم سے چودھری شہباز حسین ہوں ایبٹ آباد سے سردار شیر بہادر یا جناب شاہ محمود قریشی اور جناب جاوید ہاشمی اور بے شمار ان تک انصافی دعوت پہنچائی اور بار بار پہنچائی۔

جمعے کے روز طارق گجر کے والد محترم کا سالانہ ختم شریف ہے۔ ہم جو آقا محمد ﷺ سے پیار کرنے والے ہیں اس قسم کی تقریبات پر محفلیں سجاتے ہیں نعت خواں نعتیں پڑھتے ہیں اور ہم محبت رسولﷺ میں جھوتے ہیں۔ اللہ پاک نبی اکرم ﷺ کا سچا پیروکار بنائے شرک سے بچنے کی توفیق دے آمین۔ ان کا کہنا تھا کہ چودھری صاحب اللہ نے سب کچھ دے دیا ہو اولاد جائداد اقتتدار اور اس کے بعد چوری کرے تو اس بندے کا محاسبہ تو مجھ جیسے گنہگار سے زیادہ ہو گا۔ پکڑ اس لئے زیادہ ہو گی کہ ایک طرف اللہ تعالی نے دنیا کی نعمتیں دیں اور وہ لوگ رب ذوالجلال کی مہربانیوں کو پس پشت ڈال کر غلط طریقوں سے مال کماتے رہے۔

آج ڈیووس میں جناب وزیر اعظم کرپشن کے موضوع پر اظہار خیال فرما رہے تھے۔عمران خان نے سچ کہا ہے کہ یہ ایسا ہی ہے کہ الطاف حسین سے انسداد دہشت گردی پر تقریر کرائی جائے۔چیئرمین سادے ہیں انہیں یہ علم نہیں جو کوئی جس کام میں ماہر ہوتا ہے اس سے استفادے کے لئے بلایا جاتا ہے۔اگر الطاف حسین کو بلایا جاتا تو وہ بتاتے کہ کس طرح فوج کے میجر کو مارا جاتا ہے کیسے بوری بند لاشیں جمع کی جاتی ہیں اور کس طرح فطرانے اکٹھے کئے جاتے ہیں بعین اگر منی لانڈرنگ کی بات کی جائے تو چنن دین مرحوم کے بیٹے جناب اسحق ڈار کو بلایا جاتا کہ بتائیں کیسے منی لانڈرنگ کی یا پھر پروفیسر ڈاکٹر ایان علی کے سخن سنے جاتے بعین اسی طرح سامعین و ناظرین جو ڈیووس میں جانب وزیر اعظم کو سن رہے تھے.

انہیں بتایا گیا ہو کہ دنیا کے مشہور اخبارات میں نام کمانے والے ایک کرپٹ وزیر اعظم کو سنئے ان سے سوال کیجئے اور پوچھئے کہ ایک جانب ایک مائی بڑھیا ہسپتال کے ٹھنڈے فرش پر مرگئی ،ایک اداروں پر اعتماد کرنے والا انجینئر افتخار چودھری پنڈی کے شہر کے سب سے بڑے ہسپتال میں ساری رات ذلیل ہوتا رہا اور اسے ایک علاج کے لئے معمولی دوائی نہیں مل سکی ۔ جناب وزیر اعظم اگر میں ڈیووس میں ہوتا تو آپ سے ضرور پوچھتا کہ اللہ تعالی نے آپ کو اولاد دی ان کی عمر دراز ہو مگر یہ بتائیے کہ وہ امیر کیسے بنے؟ یہی سوال شمی کپور ودھاتا فلم میں دلیپ کمار سے پوچھتا رہا کہ تو امیر کیسے بنا؟

حضور یہی سوال اس غموں کی ماری پاکستانی قوم کا ہے کہ جب آپ کو ایک جمہوری فاشست نے ایک فونڈری بند کر کے آپ کو کنگلا کیا تو دبئی میں کارخانہ کیسے لگ گیا؟ لوگوں کو تو علم ہی نہیں کہ جب وہ مل بیچی تو جدہ میں سٹیل مل جو دبئی والی مل سے چار گنا بڑی تھی کیسے لگ گئی کیسے محمدیہ پلازہ کے فلور لے کر دفاتر بنے کسی طرح گاڑیوں کی فلیٹ خریدے گئے؟ اور مکہ مکرمہ کے پرانے روڈ میں عزیزیہ مل کیسے بنی؟اس سے کیا کمائی ہوئی؟کون تھے جو انہیں چلاتے رہے کیا اس کا سٹاف انڈین نہیں تھا؟کیا وہ مل مطبقانی گروپ کو گھاٹے میں نہیں بیچی گئی؟میرے سوال کا جواب جدہ میں رہنے والے مسلم لیگی دوست دے دیں مجھے کہہ دیں کہ میں جھوٹا ہوں۔ حضور !میں پھر طارق گجر کی بات کروں گا جس نے مجے ہلا کے رکھ دیا کہ ایک انسان کو دو وقت کی روٹی کے علاوہ چاہئے ہی کیا ہوتا ہے۔

یقن کیجئے میں جس نواز شریف کو جانتا ہوں وہ تو طائف کے محنت کش محمود الحسن کی جانب سے راڈو گھڑیاں ۲۵۰۰ ریال اور دیگر تحائف اپنے نام پر لینے پر بھڑک اٹھتے تھے۔ جو ایک مزدور کے شکوے پر تلمااٹھے تھے جس نے مزدوری پر شکوہ کیا تھا؟ آپ بار بار دعائیں کروایا کرتے تھے کہ اللہ مجھے پاکستان لےجا اور میں برسر اقتتدار آیا تو زرداری کا لوٹا ہوا مال ملک لے کر آؤں گا غریبوں کی زندگیاں آسان بنا دوں گا۔

میاں شہباز شریف تو ہاتھوں کو چکیاں کاٹتے تھے کہ میں پنجاب کو بدل کے رکھ دوں گا۔ جس دن اخبار میں خبر چھپی کی ساہیوال کی ایک بچی نے ڈاکوئوں سے لوٹے جانے پر شہباز شریف کو پکارا تھا تو آپ کے اندر ایک محمد بن قاسم جاگ اٹھا تھا۔ حضور کچھ بھی نہیں بدلا یہ قرض کی مئے لے کر جو میٹرو بنی ہیں ان کے کمیشن سے لوگوں نے لندن میں جائدادیں بنائی ہیں۔ یہاں کے ایک شکست خوردہ ایم این اے قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ اگر میرے نام پر کوئی جائداد ملے تو میں الیکشن چھوڑ دوں گا۔

وہ بھی سچے تھے انہوں نے بھی بے نامی جائدادیں بنائی ہوں گی جس طرح آپ کے نام کوئی جائداد نہیں ہے اسی طرح ان کے نام بھی نہیں ہے۔میاں صاحب یہاں جمہوریت کے لئے قربانیان یاد دلانے کی بات نہیں ہیں لیکن آپ کو یہ علم ہے ناں کے آپ سے تعلقات کی وجہ سے فوجی آمروں نے ہمارے روزگاروں پر ڈاکہ ڈالا عظمت نیازی کے والد اور میری ماں اسی دکھ سے دنیا سے گئیں۔حضور یہ سب کچھ اپنے ضمیر کو سنتے ہوئے کیا تھا آپ پر کوئی احسان نہیں لیکن کیا یہ کرسی اتنی ظالم چیز ہے کہ جو آپ سے ایک خط عافیہ کے لئے نہیں لکھنے دیتی۔

ان لوگوں کے حقوق کا کیا ہو گا جو سعودی عرب میں مر مٹ گئے اچھے معاوضوں کی نوکریاں گئیں فیکٹریاں کفیلوں نے قبضے میں لے لیں۔(خواجہ آصف کا کزن خواجہ امجد مکہ مکرمہ میں فیکٹری اور بی ایم ڈبلیو کا مالک تھا) عظمت نیازی کی کمپنی میں چار سو بندے کام کرتے تھے کہیں رحیم یار خان میں کھجل ہو رہا ہے خواجہ امجد معمولی نوکری کر رہا ہے مرزا آفتاب مدینہ منورہ میں جاب لیس ہے۔نعیم بٹ پتہ نہیں سرگودھا میں کس حال میں ہے۔اس کی والد بیمار ہوئی تو ڈکٹیٹر کے وزیر نے علاج کروایا۔حضور اس ملک کو اس کی دولت لوٹا دیجئے۔

آپ کے پاس تو اب بڑی جائیدادیں ہیں۔مدینہ منورہ میں ہزاروں ایکٹ زمین بھی حسین نواز کی ہے اور اللہ کا دیا کچھ بہت ہے سنا ہے دانوب بھی آپ ہی کی ہے۔میں کہتا ہوں آپ ساری دنیا کے خزانوں کے مالک بن جائیں لیکن اپنی حلال کمائی سے بنیں۔طارق گجر صاحب آپ کا شکریہ ۔مجھے پورا یقین ہے کہ میرا اللہ میرا رب پاکستان پر کرم کرے گا۔آپ کی ان اچھی باتوں نے متآثر کیا ہے۔نیک اولاد صدقہ ء جاریہ ہے۔میں گجرانوالہ آئوں گا ویسے بھی سیٹھ رشید صاحب بھی اس جہاں سے چلے گئے ہیں میرا ایک عزیز شہزاد امان اللہ جوان العمر اب اس دنیا میں نہیں۔بھائی جان امتیاز کی صحت بھی ٹھیک نہیں۔ماسی جی کو بھی سلام کرنا ہے اور تو اور بڑے قبرستان میں دفن قبلہ والد صاحب اور والدہ صاحبہ کی قبر پر بھی حاضر ہونا ہے
الناس علی دین ملوکھم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں