7

بھونکتے رہئے ہم گزر جائیں گے

ویسے جاوید ہاشمی نے سچ ہی کہا ہے کہ عمران خان کا دماغی معائینہ ہونا چاہئے۔اس سے میں نہیں پوری قومی متفق ہے کہ ایسے شخص کا کے دماغ کو ضرور دیکھا جائے ۔ جو تمام زمینی خدائوں سے بیک وقت ٹکر لئے ہوئے ہے۔جو ہر بار ایک بند گلی میں چلا جاتا ہے اس کے ساتھ کے دوست اور ساتھی بھی پریشان ہو جاتے ہیں کہ اب گئے کے گئے لیکن عمران خان اس بھنور سے نکل ہی جاتے ہیں ایسے دماغ کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔عمران خاں کا تو ہوہی جائے گا لیکن اس کے مخالفین کیوں نہیں معائینہ کرواتے اس لئے کہ انہیں معلوم ہے کہ بھوسہ ہی بھوسہ ہے جو ان سردیوں میں خوب بکے گا۔ چوہتر کے آئین کے تناظر میں ہمیں ان بے ضمیر سیاست دانوں کو بھی اس مشاہدے سے گزارنا ہے جو کھاتے پاکستان کا ہے اور اسی کی تھالی میں گند بھی کرتے ہیں۔نام نہاد کانگریسی ملائوں کے ساتھ ڈالر گرل کے سپانسرز کو بھی دیکھئے۔میں ابھی پیپلز الائینس کی تقریب سے واپس لوٹا ہوں مجھے وہاں ایک صاحب کہتے سنائی دئے کہ ہمیں پانامہ سے کوئی غرض نہیں ہمیں اپنے مسائل دیکھنا ہیں ۔ایسے عقل سے پیدل لوگوں نے اگر پاکستان کو نقصان ہی پہنچانا ہے تو واہگہ پار جا کر دشمن کی فوجوں میں بیٹھ کر گولے چلائیں ادھر کیا کرتے ہیں پانامہ اس ملک کے لاکھوں اور کروڑوں کی دولت کو چرا لے جانے کو پکڑنے کا کیس ہے چار سو ستر ارب کی کرپشن کو آپ سمجھتے ہیں کچھ نہیں ہیں.

ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلی نظر آتا ہے

اور ہمارے میڈیا میں بیٹھے چند لوگوں کو جنہیں نمل کالج کے گریجوئٹس طلباء کے چہروں پر پھیلی مسرت نظر نہیں آئی انہیں عمران خان کا طرز تخاطب نظر آیا نئے پاکستان کے خواب کو دھندلانے کی اس مذموم کوشش کو سعی لاحاصل ہی کہوں گا۔ جو عمران خان کی ایک اوئے پر تڑپ اٹھتے تھے انہیں مریم اورنگ زیب اور سعد رفیق کی خوش گفتاری نظر نہیں آئی،میں ان دونوں کے لئے ٹھیک ہی تو کہا تھا.

کھوتا عقل دی الف تے پڑھ کے ریس کرن لگا اے وڈے قاریاں دی
چوئی سر چنبیلی دا تیل مل کے محفل پھدی پھرے کنواریاں دی

تحریک انصاف کو فرنٹ فٹ پر کھیلنا ہے یہاں لکھنوی انداز نہیں چلیں گے میڈیا میں ان لوگوں کو بھیجا جا رہا ہے جو نون لکیوں کے سامنے ٹائیں ٹائیں فش ہو جاتے ہیں۔دیکھیں نہ میرا پروگرام ان نون لیگیوں کے ساتھ اللہ کے کرم سے جارحانہ دفاع کرتے ہیں۔

غالبا ۲۰۰۸ کی گرمیوں کی بات تھی ہم لوگ میڈیا کے لوگوں کو لے کر میانوالی جا رہے تھے۔وہاں نمل کالج کی افتتاحی تقریب تھی۔مہمان خصوصی اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تھے مہمانوں میں احسن اقبال بھی تھے جو اس وقت وزیر تعلیم تھے۔اس فنکشن کی نظامت کے فرائض حامد میر اور انجینئر افتخار چودھری نے مل کر انجام دیے اس قافلے میں اور بہت سے صحافیوں کے ساتھ فیصل جاوید خان بھی تھے جو اس وقت ایف ایم ریڈیو کے صدا کار تھے۔نقاش عربی اور رفیق پی ٹی آئی کے پرانے بھی اسی بس میں تھے جس میں صحافیوں کی ٹیم شامل تھی۔

نمل کالج کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا تھا ایک ایسی جگہ جو بے آب و گیاہ تھی ۔گرمی اتنی الاماں الحفیظ۔ہم سب پریشان تھے کہ خان صاحب نے کس جگہ کا انتحاب کر لیا ہے۔میں نے میرپور متھیلو میں اپنی زمینیں بھی دیکھی تھیں جہاں کلراٹھی زمین نے ہمارے سات سال چرا لئے۔مجھے اس زمین پر گزارے دن یاد آ گئے جہاں گرمی نے انسانوں کی ہوا اکھیڑ دی تھی مجھے لگا کہ یہ جگہ اس میر پور متھیلو سے ہزار گنا بری ہے۔ہر لحاظ سے بری ۔سفید پوڈر آگ برستاتی گرمی کے ہاتھوں چولہے کی راکھ نظر آتا تھا۔افتتاحی تقریب کے دوران ہی اس خیمے میں بیٹھے لوگوں میں سے کسی نے شور شرابہ کر دیا پتہ چلا یہ جو زمین ہے اس کے مالکان میں سے ایک دو لوگ ہیں جنہیں زمین کی رقوم کے لین دین سے اختلاف ہے۔یہ اختلاف گھریلو تھا جو اس خیمے میں لے آئے تھے۔ہم نے نمل کو گھوم پھر کر دیکھا۔عمران خان کے علاوہ بریڈ فورڈ یونیورسٹی کی ایک ذمہ دار خاتون بھی آئی ہوئی تھیں ۔ہمیں یہ جان کر دلی خوشی ہوئی کہ عمران خان نے کھیل اور صحت کے میدان میں جو معرکے مارے ہیں اب وہ شعبہ ء تعلیم میں بھی ایسا ہی کام کرنے جا رہا ہے۔

مجھے وہاں عبدالرزاق دائود جیسے سرمایہ دار بھی نظر آئے جو عمران خان کے اس نیک کام میں مدد کرنے جا رہے تھے۔میں ایک ٹیکنیکل تعلیم یافتہ ہوں مجھے علم ہے کہ ہمارے بچے جو تعلیم حاصل کرتے ہیں خاص طور پر جو تین سالہ ڈپلومے جو یہاں کے ٹیکنیکل بورڈ دیتے ہیں ان کی اندرون ملک اور بیرون ملک کیا وقعت ہے۔مجھے یہ جان کر بڑی خوشی ہوئی کہ ہمارے بچے فائنیل ایئر کا ڈپلومہ یا ڈگری بریڈ فورڈ سے لیں گے جو ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔

آج سے سات سال پہلے وہ ایک خواب نظر آتا تھا مگر میں نے دیکھا کہ عمران خان جو کرنا چاہتا ہے وہ کر گزرتا ہے لوگ اس کے پراجیکٹس کے لئے دل کھول کر امداد دیتے ہیں۔اتنی امداد کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔

دو روز پہلے اسی نمل کالج کو نمل یونیورسٹی کی شکل میں دیکھا گرچہ اس بار میں اس تقریب کی نظامت کرنے نہیں جا سکا لیکن مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ وہ ایک ادارہ جس کے افتتاح کے موقع پر میں موجود تھا آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔

اس بار اس کے اس ملین ڈالر کام کو گہنانے کے لئے میرے صحافی دوست اور میڈیا عمران خان کی اس بات کو لے اڑے ہیں کہ عمران خان نے زمین مالکان کو دھمکایا ہے ۔چلو کوئی گل نئیں اور بہت سے تیروں میں ایک اور تیر کا اضافہ سمجھ کر برداشت کر جاتے ہیں،لیکن ایک بات ضرور کہوں گا کہ میانوالی میں جو کچھ ہوا وہ گند ڈالنے کی نون لیگی مکروہ کوشش تھی۔اس کے پیچھے عمران خان کی خالی کردہ نشست حاصل کرنے والا جسے شائد میانوالی کے باہر کوئی ایک بھی صاحب الرائے نہ جانتا ہو اس کا ہاتھ ہے اور ظاہر ہے اس قسم کے ہاتھوں کے پیچھے تیز انگلی والا ہاتھ ہوتا ہے۔۔اس زمین کو جس کو دوٹکے کی کوئی نہیں خریدتا تھا راتوں رات گلبرگ کے نرخوں کا مطالبہ کس کے کہنے پر کیا گیا؟کون تھا جو اس ویرانے کو ایف ۶ کی قیمتوں کے برابر قرار دے کر منہ پھاڑ پیسوں کا مطالبہ کرنے پر سلو برادری کو ہلہ شیری دے رہا تھا۔

ہو کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔خود تو کوئی پرائمری اسکول بھی اپنے ابے کے نام پر نہیں بنا سکے اگر کوئی بین الاقوامی معیار کی درس گاہ بنانے جا رہا ہے تو اس کے راستے میں روڑے اٹکا نے کی مکروہ کوشش کر رہے ہو۔کیا عمران خان اس زمین کو ہتھیا کر وہاں اپنے لئے رہائش گاہ بنا رہے تھے یا وہیں کے غریب بچوں کے لئے ایک اسٹیڈیم بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔یاد رہے عمران خان وہاں مدینۃ العلم بنانا چاہتے ہیں جسے عرف عام میں ایجوکیشن سٹی کہتے ہیں۔
کوئی طرم خان عمران خان جیسے کارنامے تو نہیں کر سکا لیکن ایک قبیح حرکت کر کے اسے زچ کر نے کی کوشش ضرور کی جا رہی ہے۔اور ہمارے میڈیا میں بیٹھے چند لوگ جنہیں نمل کالج کے گریجوئٹس طلباء کے چہروں پر پھیلی مسرت نظر نہیں آئی انہیں عمران خان کا طرز تخاطب نظر آیا نئے پاکستان کے خواب کو دھندلانے کی اس مذموم کوشش کو سعی لاحاصل ہی کہوں گا۔

عمران خان نے جو کرنا ہے اس نے کر لیا۔اس نے اپنے اس گندے لہجے کے ساتھ ایشیا کا ایک معتبر نام شوکت خانم کینسر ہسپتال دے دیا اس نے پشاور کے لوگوں کو اس سے مستفید کرنے کی ٹھانی تو کر دکھایا۔اس نے اپنے اس بدتہذیبابنہ رویے کے ساتھ قوم کو نمل دے دیا۔میں آپ بھائیوں کو چیلینج کرتا ہوں کیہ کوثر و تسنیم میں دھلی زبان کے میاں نواز شریف کو قذافی سٹیڈیم میں کھڑا کریں اور ان سے کہلوائیں لوگو میں میاں شریف کے نام پر ایک پرائمری اسکول بنانا چاہتا ہوں مجھے دس لاکھ دے دیں جواب میں گو نواز گو کے نعرے تو ضرور لگیں گے کوئی ایک آنہ بھی نہیں دے گا۔۔شائشتگی کے حامل اور نرم خوکے فضل الرحمن کو بھی کھڑے کر کے دیکھ لینا اس کو بھی ٹٹھ ملے گا۔ہاں البتہ او نواز شریف کہنے والا اگر کرال چوک میںکھڑا ہو کر کہہ دے کہ میں نے کل غوری ٹائون میں ہسپتال بنانا ہے تو تاجی کھوکھر بھی کروڑوں دے دے گا۔

قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے مت لگائو اے میرے دانشور دوستو! کام کی بات کرو۔کس نے میرے ملک کی قسمت میں غربت لکھ دی ؟کس نے موٹر وے میں سے کمیشن بنائے؟ کون میٹرو کے نام پر غریبوں کا مال کھا گیا۔خدا قسم اس ملک کو اوئے کہنے والوں کی ضرورت ہے،اس میسنے ٹھگوں سے وہ بد تہذیب بہتر ہے جسے اس کے دشمن بھی کہیں کہ یہ امانت دار ہے۔میں ایک پروگرام میں تھا مجھے نون لیگ کے ایم این اے نے کہا عمران کو سیاست نہیں آتی مگر مجھے پورا یقین ہے اسے بد دیانتی بھی نہیں آتی۔

ہے کوئی اس سے بڑی گواہی۔رکھو پاس اپنے یہ مشورے تاویلیں کہ عمران اپنے لہجے بدلے۔میں ایک بار اورکہتا ہوں کہ مجھے جدہ کے نون لیگی دوست نے کہا کہ ٹی وی مباحثے میں جب لوگو اعتراض اٹھائیں کہ آپ لوگ نونغنیوں کو چور کیوں کہتے ہو؟تو جواب دینا کہ چور کو چور نہ کہوں تو موتی چور کا لڈو کہوں۔

نہیں چاہئے ہمیں وہ حرام خور لیڈر جس کے منہ سے تو پھول جھڑتے ہوں لکھنوی معاشرے کا نمائیندہ لیکن عمل میں وہ ڈاکو ہو جو اس ملک کے غریبوں کے مال کو ماں کا دودھ سمجھ کر پی جائے۔

کاش کہ تم لوگ یہ پوچھتے کہ کتنے جوان فارغ التحصیل ہوئے کتنوںکو نوکریاں ڈگری سے پہلے مل گئیں،کیا آپ نے غریب ماں کا وہ بیٹا نہیں دیکھا جس کے ہاتھ میں ڈگری تھی اور کہہ رہا تھا میں نے بریڈ فورڈ یونورسٹی سے ڈگری لی ہے جو ایک خواب سے کم نہیں تھا اس کی ماں سے جب نمائندے نے پوچھا تو اس نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بعد عمران خان کو دعائیں دیں۔یہ اوئے کہنے والے کو ایک غریب کی دعا تھی جسے ان جیسی ہزاروں مائوں نے دعا دی۔سار ے اخلاقی معیار سب ضابطے سارے اسٹینڈرڈ عمران خان کے لئے رکھ دو۔اسے اس ترازو سے تولو جس کے پلڑے کے نیچے رائے ونڈی باٹ لگے ہوں ۔

آج سارا میڈیا عمران خان کو گالی یا اس کی تعریف میں مگن ہے اس لئے کہ انہیں علم ہے کہ اسے گالی دیں گیں تو سرکار کے دربار میں رسائی ہو گی اور اس کی تعریف کریں گے تو شائد بنی گالہ سے ستائش ملے گی۔

مگر سچ پوچھیں عمران خان کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ اس کام میں وقت ضائع کرے ،شائد وہ اس کام کو کسی اور شوکت خانم کسی اور نمل میں لگانے میں مصروف ہے۔اسے اپنے ووٹر کی بھی پرواہ نہیں اسی لئے وہ این اے ۵۶ میں نہیں آتا کہ اسے پورا یقین ہے اللہ اس کی کوششوں کو دیکھ رہا ہے جو وہ اس قوم کے لوگوں کے لئے کر رہا ہے۔اور ہمارے میڈیا میں بیٹھے چند لوگ جنہیں نمل کالج کے گریجوئٹس طلباء کے چہروں پر پھیلی مسرت نظر نہیں آئی انہیں عمران خان کا طرز تخاطب نظر آیا نئے پاکستان کے خواب کو دھندلانے کی اس مذموم کوشش کو سعی لاحاصل ہی کہوں گا۔ چند روز پہلے سعد رفیق اور دانیال عزیز جو کچھ فرما رہے تھے اسے خیام کی رباعی کہوں یا سعدی کے اقوال زریں۔عمران خی ایک اوئے کسی کو بری لگتی ہے لیکن ہڈیاں پھنکنے والی بات کو میڈیا بھی خاموشی سے پی گیا۔

شیخ رشید نے کیا خوب کہا تھا کہ آپ بھونکتے رہئے ہم گزر جائیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں