اسلام آباد پر، وزیر اعظم کی تشویش؟

وزیر اعظم پاکستان کی اسلام آباد کی تعمیر و ترقی اور اسکے مسائل کے حل کے لئے خصوصی دلچسپی ہے۔گذشتہ دنوں میٹرو بس ملتان کے افتتاح کے لئے ایوان وزیر اعظم سے ائیر پورٹ بذریعہ ہیلی کاپٹر جاتے ہوئے Express Way پر ٹریفک کا رش دیکھ کر فوری طور پر ICT انتظامیہ کو ہدایات جاری کیں کہ فوری طور پر ٹریفک کے رش کو کم کیا جائے ،اس وقت لوگ اپنے دفاتر ،اسکول اور کالج جاتے ہیں۔

اس طرح اسلام آباد کے اسکولوں کو 200 بسیں دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میئر اسلام آبادکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہاسلام آباد میں عوامی نمائندوں کا ادارہ قائم ہو چکا ہے۔عوام کی بہتری کے لئے اقدامات ہونے چاہئیں۔جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر،صفائی کا فقدان کا بھی وزیر اعظم صاحب نے نوٹس لیا۔ائیر پورٹ سے اسلام آباد آتے ہوئے مین روڈ ز کی لائیٹوں کا بھی وزیر اعظم صاحب نے خصوصی نوٹس لیا۔

ایئر پورٹ سے ملکی اور غیر ملکی جب اسلام آباد آئیں تو اندھیروں کا راج ہوتا ہے،ایک وقت تھا کہ اسلام آباد گردونواح اور خاص طور پر سیاحتی مرکز مری سے روشن اور چمکتا نظر آتا تھا،مگر اب نہیں۔گذشتہ ایک سال سے بلدیاتی اداروں کے قیام کے بعد اسلام آباد میں کوئی واضع اور خوشگوار تبدیلی نہ آئی ۔اگر اسلام آباد میں کوئی ایکشن نظر آیا تو صرف معزز عدلیہ کے نوٹس پرI-11 کی کچی آبادیوں کے خلاف ایکشن ہوا تو صرف اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر، اس طرح Non-Confirming پر رہائشی علاقوں سے اگر کمرشل استعمال پر گھروں کو نوٹس ملے اور Seal ہوئے اور کمرشل سرگرمیاں ختم ہوئیں تو سپریم کورٹ کے واضع احکامات پر جو کہ آج تک CDA باقاعدہ سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کراتی ہے،CDA حکام ان احکامات کی روشنی میں بعض جگہ غیر ضروری کاروائی بھی کراتے ہیں۔

Red Zone میں سر سید میموریل لائیبریری کے بلڈنگ میں ایک عدد پرائیویٹ یونیورسٹی قائم ہے۔جو کہ شائدکئی سال سے ہے اس کو بھی یقینانو ٹس ملے ہوں گے اور عدلیہ سے Stay Order بھی ملا ہوا تھا۔مگر عین اس وقت جب طلبہ کے امتحانات چل رہے تھے اتوار کے دن جب چھٹی ہوتی ہے،CDA حکام نے مذکورہ یونیورسٹی کو Seal کر کے طالب علموں کے مستقبل کو داؤپر لگادیا۔لاکھوں روپے سا لانہ فیس ادا کرنے والے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ،CDA والوکوئی تو خوف خدا کرو۔تقریباََ 50 ہزار کنال CDA کی اکوائر زمین ناجائیز قابضین کے پاس ہے۔G-12 پورا سیکٹر ایوارڈ یافتہ ہے مگر صرف سٹام پیپرز پر خرید و فروخت ہو رہا ہے۔

کشمیر ہائی وے جو کہ آنے والے دنوں میں VVIP روڈ ہو گی،جہاں میٹرو چلے گی۔ملکی اور غیر ملکی بین الاقوامی ائیرپورٹ جو کہ انٹرنیشنل ائیر پورٹ ہو گا،اس ائیر پورٹ سے اسلام آباد داخل ہوں گے تو G-12 بے ہنگم سیکٹر جہاں نا جائز قا بضین اپنی مرضی سے تعمیرات کرا رہے ہیں،کیا تا ثر پیدا ہو گا؟۔CDA اس اہم شاہراہ پر تعمیر ہونے والی ناجائز تجاوزات کے لئے کسی عدلیہ کے احکامات کی منتظر ہے؟اسلام آباد کی کچی آبادیوں کو کیا حل ہو گا؟۔اگر سپریم کورٹ نے متبادل انتظام کے بغیر ان کچی آبادیوں کو بے دخل کرنے سے منع کیا یا پھر جہاں اور جیسے ہیں وہی پر بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی تو CDA کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ ان کچی آبادیوں کو بنیادی سہولتیں دیں؟۔اگر اسلام آباد شہر کے اندر جائز اور نا جائز اُن 44 عدد کچی آبادیوں کو CDA کی سرکاری زمین پر مالکانہ حقوق ملیں گے۔

تو سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ جن متاثرین کی آبائی اور جدی زمینیں اونے پونے حاصل کیں،وہ عدالتوں میں نہیں جائیں گے،ہم اپنی آبائی زمینوں کو نہیں چھوڑتے اور نہ ہی سیکشن 4 کے تحت دیتے ہیں۔کیونکہ ہمارے آباؤ اجداد کی قبریں یہاں پر ہیں،اگر متاثرین اسلام آباد واپس آنا شروع ہو گئے، اپنے آبائی قبرستانوں کو آباد کیااور جنھوں نے قبضے نہیں چھوڑے وہ کبھی نہیں چھوڑیں گے۔CDA نے کیا حکمت عملی بنائی ہے؟۔اسلام آباد کے زونII- ،زون III- ،زونIV- ،اور زونV- میں سینکڑوں ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں، جنکے پاس CDA کا NOC نہیں ہے۔انکو CDA کے دائرہ اختیار میں لانے کے لئے کیا حکمت عملی ہے۔بنی گالہ جو کہ راول ڈیم کے گردونواح میں ہے سپریم کورٹ نے واضع حکم دیا ہے کہ وہاں Sewarage کا پانی ڈیم میں نہ جائے اور ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائیں۔اسلام آباد کی Modern کچی آبادی جہاں بغیر منظوری کے اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے ،نکاسی آب کا کوئی انتظام نہیں۔

زیر زمین پانی کا لیول 50 فٹ پر ہے،CDA نے کیا قانون سازی کی ہے۔اسلام آباد شہر کے اندر کمرشل جائیدادوں کی لیز کے لئے کیا منظوری دی ہوئی ہے؟۔لاکھوں روپے صرف سٹریٹ لایئٹوں کا بل جاتا ہے،مگر روشنی مین روڈ پر بھی نہیں ،جسکا جناب وزیر اعظم نے نوٹس لیا۔سگنل فری روڈ جسکا افتتاح جناب وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کیا تھا ،اس موقع پر جناب وزیر اعظم نے اسلام آباد کے شہر یوں کو نوید سنائی تھی کہ 23 کلو میٹر زیروپوائنٹ سے روات مکمل ہو گی اور عوام مستفید ہوں گے۔تقریباََ 2 لاکھ افراد روزانہ سفر کرتے ہیں۔اسطرح وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا بہارہ کہو روڈ کے بائی پاس اور چوڑئی ہو گی اور اسلام آباد کے میئر اور پھر انکو قائمقام چیئر مین کے اختیار دے کر عوام کو ریلیف نہیں ملتا تو اس سارے کام کا فائدہ کیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے H-16 اور I-17 کے متاثرین کی ادائیگی نہ کرنے پر CDA کے تمام اکاؤنٹس بند کر دئے۔50 یونین کونسلوں کے چیئر مین میئرساتھ ہیں ،عوامی مینڈیٹریٹ انکو حاصل ہے۔متاثرین کے مسائل کیوں حل نہیں ہو رہے؟۔

جناب چیئر مین اسلام آباد شیخ عنصر عزیز صاحب آپ خود متاثرین کے وفد سے ملاقات کیوں نہیں کرتے؟۔CDA نے زمین اکوائیر کی تو پیمنٹ کی ہے تو الاٹ بھی کریں۔جناب والا سیکٹر I-14 سے I-16 CDA کے سیکٹر ہیں،ہزاروں الاٹیوں نے کروڑوں ادا کئے ،کم از کم ڈبل روڈ ہی کارپٹ کریں۔اس سیکٹر کے بجلی پولوں سے کروڑوں روپے کی بجلی کی تاریں چوری ہو گئیں،IESCO سویا ہوا ہے؟۔مذکورہ سیکٹر علاقہ غیر ہیں جہاں سے صرف 5کلو میٹر کے فاصلے پر پاکستان کا سب سے بڑا ائیر پورٹ جو کہ 30 ہزار کنال رقبے پر محیط ہے،زیر تعمیر ہے۔جناب وزیر اعظم نے 14اگست 2017 ؁ء کو اس ائیر پورٹ کا افتتاح کرنا ہے،CDA سویا ہوا ہے؟۔اگر وزیر اعظم پاکستان کو اسلام آباد کی صورتحال پر تشویش ہے تو عوام کا کیا حال ہو گا؟۔جناب چیئر مین اور میئر صاحب ،اپنے دفتر سے باہر آئیں اور صورتحال کا نوٹس لیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ آپکا ’’نوٹس ‘‘ لیا جائے۔
Thanks Prime Minister To Getting Concern About Islamabad

خالد قریشی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں