ٹرمپ کا جنون اور پاکستان کا مستقبل

امریکہ کے نو منتخب صدر Donald Trump نے سات اسلامی ممالک کے شہریوں کو امریکہ آنے پر پابندی لگائی۔جسکی وجہ سے جہاں تہذیبوں اور مذاہب میں ٹکراؤ کا خدشہ ہے وہاں اسلام اور اسلام مخالف قوتوں میں محاذ آرائی بڑھے گی۔امریکہ جیسا ملک جو کہ انسانی حقوق کا المبردار ہے،انتہا پسندی کا خاتمہ چاہتا ہے،جس ملک میں انسانوں سے زیادہ جانوروں کے حقوق ہیں،قانون کی پاسداری ہے ایسے جمہوریت پسند ملک میں جہاں تقریباََ 200 سال سے انسانی رائے کا احترام کیا جاتا ہے،وہاں جمہوریت مستحکم اور پائیدار ہے، ساری دنیا ایسی جمہوریت کی مثا لیں دیتی ہے،وہاں کی عوام نے اور انتخابی نظام نے ایک ایسے جنونی اور انتہا پسند شخص کو صدر منتخب کیا جو کہ تقریباََ 200 سال کے جمہوری اور انسانی حقوق کہ المبرداری کے بعد آج کہتا ہے کہ امریکہ صرف ’’امریکیوں‘‘کا ہے۔کہاں امریکہ ساری دنیا کے لئے تھا ،ایک جدو جہد کے بعد ’’کالے‘‘اور ’’گورے‘‘ کا فرق اتنا ختم ہوا کہ وہ ’’کالا‘‘ امریکی جس کے لئے ایک وقت میں امریکہ کے ریسٹورنٹ ’’بار روم ‘‘ ،’’شراب خانہ‘‘ اور’’جوا خانہ ‘‘ کے مین دروازوں پر لکھا ہوتا تھا’’Dogs & Blacks are Not Allowed ‘‘۔ایسے امریکہ نے ترقی کی اور انسانوں میں تضاد ختم کیا تو ایک ’’کالا‘‘ امریکہ کا صدر اور فوج کا جنرل بنتا ہے،وزیر خارجہ بنتا ہے،ایسے میں امریکہ میں ایک ایسا صدر آیا جو کہ انتہا پسند ہے۔

امریکہ کے درروازے ساری دنیا خاص طور پر پاکستان کے لئے بند کرتا ہے۔پاکستان میں اس کے اثررات مرتب ہو رہے ہیں۔UNO میں بھارتی درخواستوں کو Vito بھی کیا ۔پاکستان کے پالیسی سازوں اور پاکستان میں مذہبی جماعتوں کو پاکستان کی سلامتی اور بین الاقوامی پوزیشن کو مد نظر بھی رکھنا ہے۔امریکہ،یورپ،برطانیہ اور دیگر ممالک کے بارے میں پالیسی مرتب کرتے ہوئے بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔امریکہ اور دیگر ممالک کا پاکستان سے تعلقات صرف پاکستان کے Intrest پر ہی قائم نہیں ہو سکتے بلکہ ان ممالک کے خدشات کوبھی دور کرنا ہو گا۔اگر امریکن صدر ’’ First America ‘‘ کہتا ہے تو ہمیں بھی ’’Frist Pakistan ‘‘ کہنا ہو گا۔پاکستان کے گردونواح امریکی مفادات کا تحفظ صرف ’’امداد‘‘ پر ہی نہ ہو بلکہ وہاں مقیم پاکستانیوں کے مفاد میں بھی ہونا چاہئے ۔امریکی صدر ٹرمپ کے ایک سپورٹر ساجد تا رڑ بھی ایک پاکستانی ہیں،جو کہ یقیناًپاکستان کے لئے بہتر خدمات سر انجام دے سکتے ہیں،ایسے پاکستانیوں سے کام لیں کہ وہ پاکستان کا Soft Image بتائیں۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات خوشگوار بنائیں۔پاکستان کی حکومت تمام صورتحال کا نوٹس لے۔

پاکستان کے قیام کے وقت بعض دور اندیش راہنما جن خدشات کا اظہار اور پیشن گوئی کرتے تھے آج حرف با حرف دررست ثابت ہو رہی ہیں۔ابوالکلام آزاد نے اپنے انٹرویو میں جو کہا اور وہ ’’چٹان ‘‘میں شائع ہوا۔مرحوم سورش کشمیری نے انٹرویو کیا اور بھر اپنی کتاب میں بھی اسکا ذکر کیا۔ابو الکلام آزاد نے جن خدشات کا اظہار کیا آج باحیثیت قوم اسکو غلط ثابت کرنا ہو گا۔مگر موجودہ حالات میں ایسا ہوتا ممکن نظر نہیں آتا۔مرحوم سورش کشمیری کی کتاب کے اقتسابات کے مطابق مولانا ابو الکلام آزاد نے کہا کہ جب تک قائداعظم اور لیاقت علی خان زندہ ہیں اس وقت تک مشرقی پاکستان کا اعتمادمتزلزل نہیں ہو سکتا۔یعنی کہ انکے خیال کے مطابق انکے بعد کوئی ایسا لیڈر نہیں جو کہ پاکستان کو متحد رکھ سکے ،لیکن دونوں راہنماؤں کے بعد ایک چھوٹا سا واقعہ بھی ناراضگی اور اضطراب پیدا کر سکتا ہے اور کہا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ مشرقی پاکستان کے لئے بہت طویل مدت تک مغربی پاکستان کے ساتھ رہنا ممکن نہیں ہو گا۔دونوں خطوں میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں سوائے اس کے کہ دونوں طرف رہنے والے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔انھوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کہیں بھی مسلمان پائیدار سیاسی اتحاد پیدا نہیں کر پائے،عرب دنیا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔م

شرقی پاکستان کی زبان ،رواج،رہن سہن اور مغربی پاکستان کی اقدار سے مکمل طور پر مختلف ہیں۔پاکستان کے قیام کی گرم جوشی ٹھنڈی پڑتے ہی اختلافات سامنے آنے شروع ہو جائیں گے۔جو جلد ہی اپنی بات منوانے کی حد تک پہنچ جائیں گے‘‘۔ابو الکلام آزاد کے مطابق عالمی قوتوں کے مفادات کی جنگ میں یہ اختلافات شدت اختیار کر یں گے اور پاکستان کے دونوں حصے الگ ہو جائیں گے۔مولانا ابو الکلام آزاد یہ بات اپریل 1946 ؁ء کو اپنے ایک انٹرویو میں کہہ رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد ’’مغربی پاکستان ‘‘ خطے میں موجود تضاد ات اور اختلافات کا میدان جنگ بن جائے گا۔یعنی کہ مغربی موجودہ پاکستان جس طرح بنا ہوا ہے۔آج کل پنجاب،سندھ ،کے پی کے اور بلوچستان کا قومیائی تشخص بیرونی مداخلت کے دروازے کھول دے گا۔وہ وقت دور نہیں ہو گاجب عالمی قوتیں پاکستان کی سیاسی قیادت میں موجود مختلف عناصر کو استعمال کر کے اس کے حصے بخرے کر دیں گی۔

جیسا کہ بلکان اور عرب ریاستوں کے ساتھ کیا گیا تھا اس وقت ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے آپ سے یہ سوال کریں گے کہ’’ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا‘‘،اصل معا ملہ یقینی طور پر مذاہب کا نہیں بلکہ معاشی ترقی کا ہے،مسلم کاروباری قیادت کو اپنی صلاحیت اور ہمت پر شکوک و شبہات ہیں۔مسلمان کاروباری حضرات کو سرکاری سر پرستی اور مہربانیوں کی اتنی عادت پڑ چکی ہے کہ وہ نئی آزادی اور خود مختاری سے خوفزدہ ہیں۔وہ دو قومی نظریے کی آڑ میں اپنے خوف کو چھپاتے ہیں اور ایسی مسلمان ریاست چاہتے ہیں۔جہاں وہ بغیر کسی مقابلے کے معیشت پر اپنی اجارہ داری قائم کر سکیں۔یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہو گا کہ وہ کب تک اس فریب کاری کو زندہ رکھ سکیں ۔پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو مولانا نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اپنے قیام سے ہی پاکستان کو بہت سنگین مسائل کا سامنا رہے گا جن میں شامل ہیں۔

(1)کئی مسلم ممالک کی طرح پاکستان کی نا اہل سیاسی قیادت فوجی آمروں کی راہ ہموار کرے گی۔
(2 )بیرونی قرضوں کا بھاری بوجھ ہو گا۔
(3 )پڑوسیوں سے دوستانہ تعلقات کا فقدان اور جنگ کے امکانات ہوں گے۔
(4 )داخلی شورش اور علاقائی تنازعات ہوں گے۔
(5 )پاکستان کے صنعتکاروں اور نودولتیوں کے ہاتھوں قومی دولت کی لوٹ مار ہوگی۔
(6 )نودولیتوں کے استحصال کے نتیجے میں طبقاتی جنگ کا تصور پیدا ہو گا۔
(7 )نوجوانوں کی مذہب سے دوری اور عدم اطمینان اور نظریہ پاکستان کا خاتمہ ہو جائے گا۔
(8 )پاکستان پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے عالمی قوتوں کی سازشیں بڑھیں گی۔

اس صورتحال میں پاکستان کا استحکام دباؤ کا شکار رہے گا۔مسلم ممالک اسے کسی بھی طرح کا تعاون فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔مولانا ابو الکلام آزاد کے خدشات 100 فیصد درست ثابت ہو رہے ہیں۔آج پاکستان میں محب وطن قوتوں کو متحد ہونا گا،آج وہی نظام مستحکم ہوگا،جس نظام کی پاکستان کو ضرورت ہے۔پاکستان کی تباہی میں اگر وجہ نمبر (1)ہے،تو صرف ’’کرپشن ہے‘‘ ،نمبر (2) سستا اور جلدی’’انصاف‘‘ کی فراہمی کا نہ ہونا ہے،(3) ’’بیرونی قرضوں سے نجات نہ لینا ‘‘ ہے،(4) پاکستان کو بیرونی ممالک کی آما جگاہ اور تجربہ گاہ بنانا ہے،(5) اپنے ہمسائیوں میں جو ممالک ہیں بھارت، افغانستان،ایران،چین اور روس کے ساتھ دوستانہ اور خوشگوار تعلقات استوار نہ کرنا ہے ۔بھارت سے کشمیر سمیت تمام تنازعات پر قابل عمل حل تلاش کیا جائے۔امریکہ ،برطانیہ اور یورپ کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے جائیں۔امریکی صدر کا جنون یقیناًدنیا کا کل ہے۔اس لئے دنیا کے ساتھ ہم اپنی شرائط پر نہیں،باہمی اعتماد کے رشتے پر چل سکتے ہیں۔سب سے پہلے ’’Pakistan ‘‘ہمارا قومی نعرہ ہونا چاہئے۔پاکستان کو مضبوط ،خوشخال،بنانا ہر پاکستان کا فرض ہے۔

خالد قریشی کےکالم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں