Aqeel-Tareen

اب ہر پاکستانی نے لڑنا ہے

(گزشتہ سے پیوستہ )سندھ اور بلوچستان سمیت قبائلی علاقوں سے پانچ ہزا ر لوگوں سے رائے لی گئی ۔پاکستان کے 75اضلاع کے لوگوں سے سیاسی جما عتوں کے با رے میںپوچھا گیا جن میں شہری اور دیہی افراد شا مل ہیں ، اس حوالے سے گھروں میں موجود لو گوں سے بھی پو چھاگیا ، جبکہ خواتین کو بھی سروے میں شا مل کیا گیایا د رہے کہ آئی آر آئی کے سروے میں پاکستان کے سیاسی قا ئد ین میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو مقبول لیڈر قرار دیا گیا ، نواز شریف کی مقبولیت 63فیصد قرار دی گئی ، تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان مقبولیت میں 39فیصد ووٹوں کے ساتھ دوسرے اور پیپلزپا رٹی کے بلا ول بھٹو تیسرے نمبر پرآئے !تیسرا سب سے اہم ایشو یہ ہے کہ کشمیر کے حوالے سے بہت با ریکی سے پا کستان کی قربانیوں پر کشمیری عوا م کا انداز فکر تبدیل کیا جا رہاہے جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے ، کشمیر اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں ، لیکن کشمیریوں کے اندر یہ تا ثر پھیل رہا ہے کہ شاید پاکستان کی کشمیر میں دلچسپی نہیں !اب تو یہ بھی کہا جا نے لگ پڑ اہے کہ اگر کشمیر کا مسئلہ پاکستان کشمیریوں کی خا طر حل نہیں کر نا چا ہتا تو پھر اس پانی کیلئے ہی حل کردے جس کی بندش کی دھمکی مودی نے دی ہے !یہ ایک خوفناک سوچ ہے جس کا کا ئونٹر ضروری ہے ، یہ وہ کام ہے جو انڈین کامیابی سے کر چکے ہیں ،ہما را کشمیر کے ساتھ زمین ، کسی دریا ، یا قطعہ اراضی کی وجہ سے تعلق اور محبت نہیں !بلکہ ہما را عشق کشمیر اور ہمارا جنون سرینگر ہے !ہما را کشمیر سے قلب، روح اور جسم کا سا رشتہ ہے ، کشمیریوں سے ہم کلمہ طیبہ ، اور ایما ن کے مشترکہ بندھن سے بند ھے ہو ئے ہیں ، لہذا اگر کسی مقام پر کشمیریوں کو پاکستان کی مجبوری سمجھ نہیں آتی تو انکو سمجھانا چا ہئے !انشا ء اللہ کشمیر یوں کی منز ل بہت نز دیک ہے ، انکو کسی بھی طرح کے برے گمان سے بچ کر منزل تک پہنچنا چا ہئے ، کیونکہ جب تک انکی پاکستان سے لا زوال محبت اور اعتبا ر و اعتماد کا رشتہ ہے اس وقت تک کو ئی بھی انکو آزادی کے سفر سے ہٹا سکتا ہے نہ کو ئی انکو اس منزل کے قریب آنے سے روک سکتا ہے !لہذا ثا بت قدمی اور صبر ہی وہ وا حد ہتھیا ر ہو تا ہے جو آزادی کے متوالوں کو ساز شوں اور تقسیم سے بچا تا ہے !
قا رئین کرام !
گز شتہ سا ت دنوں میںایک با ر پھر وطن عزیز لہو لہان ہوگیا ہے ،ایسے لگتا ہے کہ دھما کوں کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ تا ثر یہ دیاجا ئے کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلا ف جنگ جیتی نہیں آئی ہے،دہش ت گرد ابھی بھی نہ صر ف منظم ہیں بلکہ وہ طاقت ور بھی ہیں !اسکا دوسرا مقصد یہ ہے کہ چین اور روس کو یہ پیغام دیا جا ئے کہ وہ جس سی پیک پر اربوں ڈالرز کی سرما یہ کا ری کرنے جا رہے ہیں اسکی سیکیورٹی ابھی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے !اس کے ساتھ ساتھ سب سے بڑی تکلیف جو پاکستان دشمنوں کو ہے وہ اسکے معاشی اہدا ف ہیں جس کے چرچے وا شنگٹن سے لیکر دو بئی اور کا شغر تک ہیں !اب دیکھنا یہ ہے کہ اس نئی لہر کو روکا کیسے جا ئے اور انکے آپریٹو تک کیسے پہنچاجا ئے ؟یہ تو طے ہے اسکے ڈانڈے مولوی فضل اللہ تک جا تے ہیں جو ہزاروںپاکستانیوں کا قا تل ہے !سب سے پہلے توپاکستان کو انٹیلی جینس یا کما نڈو ایکشن میںاس نا سور کا خا تمہ کر نا چا ہئے تا کہ اسکا نیٹ ورک تبا ہ کیا جاسکے !بہت سارے جذباتی دوستوں کی طرح میں بھی یہ چا ہتا ہوں مولوی فضل اللہ اور اس جیسے پاکستان دشمنوں کو افغانستان کی سرزمین میں گھس کر ما را جا ئے لیکن اس سے قبل ہم کو یہ دیکھناہو گاکہ کہیں یہ ہم کو اس نہج پر سوچنے اور ایکشن کی طرف لے جا نے کی سازش تو نہیں !اور اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو اس سے کس کو فا ئدہ اور کس کو نقصان ہو گا؟یقینا انڈیااس چال کے پیچھے ہے ۔ہم کو ماضی کی طرح اس امتحان سے بھی سرخرو ہو کر نکلنا ہے اور وہ اسی صورت ممکن ہے کہ ہم اپنی فوج اور حکومت پر اعتماد رکھیں اور تھنڈے دل و دما غ سے ہر سازش کا سامنا کرنا ہو گا! اس سے پہلے ہم کو اس عوامل پر نظر دوڑانا ہو گی جس نے فوجی و سیاسی حکمت عملی کو وقتی طور پر سبکی سے دو چار کیا !ہم کو یہ یا د رکھنا چاہئے کہ کو ئی بھی دشمن اس وقت حملہ کرتا ہے جب صف بندی تبدیل ، یا شفٹ چینج ہو رہی ہو !امجھے اس با ت کا اندازہ نہیں کہ جس ٹیم نے آپریشن ضرب عضب ترتیب دیا یا نیشنل ایکشن پلان کو لیڈ کیا وہ کہاں ہے؟کیا وہ جنرل راحیل شریف کے بعد بھی فنکشنل ہے یا انکو ہٹا دیا گیا اور اگر انکو ہٹا دیا گیا ہے تو کیا نئے آنیوالوں نے انکے تجربے سے کو ئی فائد ہ اٹھا یا ہے ؟یا وہ اپنی حکمت عملی میں مصرو ف ہو گئے ہیں !مجھے لگتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب کو کما نڈ کر نیوالی تجربہ کا ر ٹیم ادھر ادھر ہو گئی ہے جس کی وجہ سے چین آف کما نڈا ور پالیسی میں تسلسل شا ید برقرا رنہیں رہا جس نے دہشت گردوں کو دوبا رہ آکسیجن لینے کا موقع فرا ہم کر دیا !یہ ایک تیھوری ہے لیکن اگر کہیں ایسا ہو ا ہے تو اسکو فوری طور پر ٹھیک کرنیکی کی ضرور ت ہے !اسی طرح اگر طورخم بارڈر کو manageکرنے کے با وجود دہشت گردو ں کا آزاد ی اور سہولت سے آنا جا نا ہے اور وہ ہم کو لہو میں نہلانے میں کا میا ب ہو جا تے ہیں تو پھر دنیا کے اس سب سے بڑے با رڈر کو دیوار لگا کر سیل کردینا چا ہئے !اور اس پر پو ری قو م فوج اور حکومت کی پشت پر ہو گی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم کو سی پیک ، گوادر اورملکی ترقی کو انجوا ئے کرنا ہے تو پھر سب سے پہلے ملکی سلامتی کو درپیش اس مسئلے کو حل کر نا ہو گا، اگر وزیر اعظم میاں نواز شریف کرا چی سے پشا ور موٹر وے بنا سکتے ہیں تو پھر افغان با رڈر کو سیل بھی کیا جا سکتا ہے ! کیونکہ یہ جنگ چومکھی ہے اور اس نے ابھی چلنا ہے ، جس طرح قوم نے بم دھماکوں ِ ِ،دشمن کی تڑیوں اور کا ری ضربا ت لگنے کے با وجود ترقی اور خوشحالی پر کو ئی کمپرو ما ئز نہیں کیا اسی طرح شا ید دشمن بھی نئی سٹریٹیجی لیکر آیا ہے !بلاشبہ یہ لڑا ئی ہم نے جیت لی ہے اور اسکو مینٹین بھی رکھنا ہے ، اس کیلئے فوج کو وہ اعتماد دوبا رہ دینا ہو گا جو اے پی ایس پشا ور پر حملے کے بعد دیا تھا ، ہم کو اپنی تنقید اور تحفظا ت کے نشتر کو ایک ایمرجنسی سمجھ کے اپنے اندر دبا کر فورسز کو empowerکرنا ہو گا !فوجی عدالتوں کی توسیع میں ٹال مٹول بھی شا ید اس نئی لہر میں اضافے کی وجہ بنی ہے !ہم کو کم از کم اگلے پانچ سال تک یہ تصور کرلینا چا ہئے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں اور اس سے نمٹنے کیلئے فو ج کو اختیارات دینا ہو نگے ۔ بہت سا رے دیگر دانشوروں کی طرح میں بھی اس حق میں ہوں کہ آُپریشن بے رحمانہ اور صوبا ئیت اور سیاست کے اثر سے با لاتر ہو کر کرنا چا ہئے ، یہ یا د رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ وقت ہے کہ ہم اس مائینڈ سیٹ کو ہم شکست دے دیں !اس کیلئے میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ، ہر شہری کو اس زمہ دا ری کا احسا س دلانا چاہئے کہ وہ اپنے ارد گرد نظر رکھے اور کسی بھی مشکوک شخص کوسپیئر نہ کرے اور پولیس کو اطلا ع کرے ، کیونکہ یہ جنگ صرف حکومت ، فوج ، پولیس، رینجرز نے اکیلے نہیں لڑنی اسکو ہر پاکستانی نے لڑنا ہے !