ایس پی سردارغیاث گل کو بڑوں نےطلب کرلیا

جرائم پیشہ افراد کی معاونت اور کرپٹ پولیس افسروں کی پشت پناہی کرنے والے ایس پی کی بڑوں کے سامنے پیشی۔اب کیا ہوگا؟

ایس پی ڈاکٹر سردار غیاث گل، سابقہ ایس پی صدر سرکل راولپنڈی اور مو جودہ ڈی پی او حافظ آباد، کل بروز بدھ پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ کمیٹی کے چئیرمین ایم پی اے چوھدری اقبال ہوں گے۔

ویسے تو ایس پی کے “وردی میں جراہم” کی فہرست بہت لمبی ہے مگر کمیٹی میں ان سے جواب طلبی ہو گی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی راولپنڈی سے سپیشل سیٹ پر منتخب ہونے والی خاتون ایم پی اے ثوبیہ ستّی پر وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو لکھی گئی ایک چٹھی میں لگائے جانے والے بے جا الزامات بارے میں۔شاطر ایس پی اپنا دفاع کیسے کرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر زرائع کا کہنا ہے کہ ایس پی سردار غیاث گل اس بار بُری طرح پھنسے ہیں۔

قبل ازیں ایم پی اے ثوبیہ ستی نے پنجاب اسمبلی میں تحریک استحقاق پیش کی تھی جس میں انھوں نے اسپیکر کو لکھا کہ ایس پی ڈاکٹر سردار غیاث نے اپنے منظور نظر کرپٹ انسپکٹر ملک آصف نواز (سابقہ ایس ایچ او تھانہ روات راولپنڈی/جس کے خلاف اینٹی کرپشن ایسٹیبلشمنٹ راولپنڈی ریجن میں ایک مقدمہ 34/15درج تھا) کو بچانے کے لیے ان کے خلاف وزیر اعلی پنجاب کو مورخہ 13 نومبر 2015 کو ایک چھٹی نمبری PA/4114 لکھی جس میں لکھا کہ میں سنگین جراہم میں ملوث افراد اور ڈکیتوں کی پشت پناہی کرتی ہوں اور انہیں پناہ دیتی ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ایس پی کے لگائے گئے الزامات سے ان کے خاندان کے وقار کو سخت ٹھیس پہنچی ہےاور اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ اس تحریک کو اسمبلی میں کاروائی کے لیے پیش کیا جاہے اور اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو میں رکنیت سے استعفی دوں گی وگرنہ دوسری صورت میں ایس پی کے خلاف سخت کاروائی کی جاہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایس پی نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور ان کا مؤقف نہ سنا۔

ایم پی کی اس تحریک کو اسمبلی کی کاروائی میں پیش کیا گیا اور اسپیکر نے لاء منسٹر سے جواب طلب کیا جس پر لاء منسٹر رانا ثناء اللہ خان نے اسپیکر کو بتایا کہ انھوں نے اس سارے معاملے کو دیکھا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایس پی نے اس تفتیش میں جو ہماری معزز ممبر کے متعلق جو تحریر کیا ہے وہ بالکل unwanted ہے اور اس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ ایس پی نے اپنے اختیارات اور اپنی پوزیشن سے بھی تجاوز کیا ہے لہٰذا اس تحریک استحقاق نمبر 2/17 کو استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دیں۔

یہاں یہ امر واضع رہے کہ ایس پی ڈاکٹر سردار غیاث گُل نے راولپنڈی میں اپنے دور تعیناتی میں جرائم پیشہ افراد، منشیات فروشوں، جسم فروشی کے دھندے میں ملوث افراد اور دوسرے عناصر اور کرپٹ ماتحت پولیس افسروں کی نہ صرف کھُلم کُھلا پشت پناہی کی بلکہ ان صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے اور انہیں پابند سلاسل کی جہنوں نے ایس پی کے کالے کرتُوتوں کو عوام کے سامنے لایا۔