aqeel-tareen

خوف و دہشت کاخاتمہ….دشمن کی اصل موت

دہشت گردوں کا سب سے پہلا مقصد کسی بھی قوم میں اپنا خوف پیدا کرنا ہو تا ہے !اسکے بعد وہ اسی خوف کی بنیاد پر اپنے وہ مخصوص مقاصد حاصل کرنیکی کوشش کرتے ہیں جس کیلئے وہ آئے ہو تے ہیں !یہ تو اب ایک کھلا راز بن چکا ہے کہ پاکستا ن میں ہو نے والی ہر قسم کی دہشت گردی کے پیچھے وطن عزیز کو کمزور کرنے اور اسکو ترقی سے روکنے کی ساز ش کا رفرما ہے. دشمنان پاکستان کی سا زش کا توڑ صرف اور صرف اس دہشت کی چادر کو تننے سے پہلے ہٹانا ہے اگر ہم نے روزمرہ کی زندگی میں اس دہشتگی کی چادر کو اوڑھ لیا تو پھر یہ یا د رکھئے کہ ہماری سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے اور ہما ری آزادی خدا نخواستہ ہما رے ہا تھوں سے پھسل رہی ہے. پاکستان کو الحمداللہ… سی پیک کی شکل میں ایک ایسا دہشت گردی پروف انجن میسر آگیا ہے کہ شا ید اب ہما رے دشمنوں کے دانت کھٹے ہونا شروع ہو جا ئیں. دیکھا جا ئے تو افغانستان جنگ کے نام پر شروع ہو نیوالی خونی لہرکو دشمن نے کامیا بی سےاسلام آبا د کی کامیا بیوں کے خلاف استعمال کرنا شروع کردیا ہے. پراکسی واراب اس قدر کھل کرہونے لگ گئی ہے کہ نئے اتحادوں کی تشکیل کی ضرورت محسوس کی گئی ہے.

امن کے چند بہتر مہینے دیکھنے کے بعد خو نی بلا ئیں ایک با ر پھر اپنا کام دکھا گئیں ہیں!لیکن حکومت وقت اور پاک فوج نے ملک میں اقتصادی کا نفرنس کا انعقاد کراکر اور لاہو ر میں پی ایس ایل کا اعلان کرنے اس سوچ کو شکست دے دی ہے جسکا خیال تھا کہ انہوں نے پاکستان کو خو ن میں نہلا کے قوم کو یر غما ل بنا لیا ہے. اگر چہ اس پر پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ جنا ب عمران خان نے مخالفانہ سوچ کا اظہار کر کے خوب نیک نامہ کما ئی اور پہلی با ر انکو اس معاملے پر اپنے بڑے اتحادی شیخ رشید کی مخالفت بھی مول لینا پڑی. اس وقت قوم کو ایسی لیڈر شپ کی ضرورت ہے جو ملک کے اندر سے خوف کا خاتمہ کرے اور دنیا کو بتا ئے کہ دہشت گرد ہما ری شہ رگ پر چھرا رکھ کے بھی ہم کو خوف زدہ نہیںکر سکتے.

شا ید یہی وجہ تھی بہا رد قوم نے پہلی با ر یک زبان ہو کر عمران خان کی تھیوری کو جھٹلا دیا ہے ، ان کے اس بیا ن کے ناقد بھی خوب ہیں کہ ایک دوست نے لکھا ہے کہ اگر ا س میچ کو آپ پی ٹی آئی کے جلسے میں تبدیل کر دیں توپھر عمران خان کو وہ پا گل پن نہیں بلکہ جنون لگے گا کیونکہ اس فیصلے سے ن لیگ اور خاص کر میاں نواز شریف کا گراف اوپر گیا ہے تو پھر کیسے یہ ممکن ہو سکتاہے کہ اس ملک کی روایتی سیاست کے تحت عمران خان ایک اچھے اور قوم کو یکجا کر نے والے کام کی تعریف و توصیف کرتے؟میں تواس با ت پر بھی حیران ہوں کہ پاکستان پیپلز پا رٹی جیسی پا رٹی نے پی ایس ایل کی مخالفت نہیں کی جن کے خون میں سڑی ہو ئی بدبو دار سیاست دہائیوں سے رچی بسی ہے اور ایک روشن خیا ل جما عت کا سربراہ اس کھیل کی مخا لفت کررہاہے جسکی ترقی اور با دشا ہا نہ زندگی اس کھیل کے مرعون منت ہے !ہونا تویہ چاہئے تھا کہ انصافین یہ اعلان کرتے کہ اس میچ کی سیکیورٹی ہما رے زمے ہے ، دیکھتے ہیں کون ما ئی کا لال اس میچ کو روکتا ہے ؟لیکن انہوں نے اس جنون اور یوتھ کو بھی اپنا مخالف بنا لیا جو انکا پنا تھا !یہاں سوال یہ ہے کہ اگر ہم دہشت گردوں کے اس ایجنڈے کو خود ہی تکمیل کا شرف بخش دیں تو پھر ہما ری قومی حمیت اور وقار کہاں گیا ؟

قارئین کرام!
بہادر قومیں جنگوں میں بھی کھیل کے میدانوں اور تعلیم کے تسلسل کو متاثر نہیں ہو نے دیتی اور ایک ہم ہیں کہ ہم قربانیوں کی تا ریخ رقم کرنے کے با وجود ہم اپنا نام بزدلوں کی فہرست میں لکھوانا چاہتے ہیں!کیا یہ پاک فو ج کی بڑی کامیا بی نہیں کہ اس ملک میں آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان نے بم بنانے والی فیکٹریاں اور خودکش جیکٹ بنانے والوں کا کامیابی سے خا تمہ کیا ؟اور کیا یہ ہما رے لئے با عث اطمینان نہیں کہ حکومت اور فوج کی حکمت عملی سے اب یہاں موجود مدارس خود کش بمبا روں کا خام مال تیا ر کرے والے کا رخا نے نہیں رہے ؟ یقینا پاک فوج نے وہ کا میابیا ں حاصل کی ہیں جس نے دہشت گردی کے کینسر کو حقیقت میں جڑوں سے اکھاڑا ہے.

اگر سیہون شریف اور لا ہور خودکش حملوں کے تفتیشی حقائق کو دیکھا جائے تو پتہ یہی لگتا ہے کہ دشمن کے بہت کم سہولت کا ر یہاں موجودہیں. ہم کو اس مشکل گھڑی میں سندھی ، پختون ، پنجا بی اور بلوچی کی اصطلاع سے نکلنا ہو گا، کچھ ٹی وی چینلز اور سیاستدانوں نے پنجاب اور کشمیر سمیت کمبنگ آپریشن کو پختونوں کے خلاف ہو نے کا تا ثر دینا شروع کیا ہے جو کہ تبا ہ کن با ت ہے ، پختون ہما رے بھا ئی اور فخر ہیں ، لیکن جس کے پاس شنا خت نہیں ہوگی یا جسکی سرگرمیاں مشکوک ہو نگی تو وہ چاہے پشتون ہویا پنجابی اسکو بھگتنا پڑے گا ، میں آئی جی پنجاب مشتا ق احمد سکھیرا اس با ت کی تا ئید کرتاہوں اور انکے اس بیان کو اس آپریشن کو متنازعہ بنا نے کی کوشش کرے والوں کیخلاف بڑی دلیل سمجھتا ہوں جس میں انہوں نے بتا یا کہ دو سو سے زا ئد دہشت گردوں کو پنجاب پولیس نے مقابلے میں مارا اور ان میں زیا دہ تر پنجابی طا لبان شا مل تھے.

ہم کو یہ با ت سمجھ لینی چا ہئے کہ دہشت گردی خلا ف ہم یہ جنگ جیت چکے ہیں ، اس کے کچھ اور فیز اور رنگ شا ید ہم کو اگلے کئی برس تک کچوکے اور زخم لگا تے رہیں لیکن یہ یا د رکھنا چا ہئے کہ ہم نے ا س لڑا ئی میں ہمت نہیں ہا ری اور آج اللہ رب العزت کے کرم سے پاکستان ایٹمی کے بعد معاشی قوت بننے جا رہاہے. اقتصادی تعاون تنظیم کا اجلاس پاکستان میں ہونا بھی اسکی بڑی کامیا بی ہے ، ہم کو ان کامیابیوں کے تسلسل کیلئے ریاست اور اسکے اداروںکا ساتھ دینا چا ہئے ۔کیونکہ دشمن کے پاگل پن کا جواب کبھی کبھا ر جنون اور عزم سے دینا ہو تا ہے اورہم نے یہ پیغام اور جواب دشمن کو دے دیا ہے ، اور آخر میں ایک با ت کہ انڈیا اس با ت پر بہت خوش ہے کہ اس نے راء کا چیف ایک بلوچستان ایکسپرٹ لگا لیا ہے جو اسلام آبا دکوٹف ٹائم دے گا لیکن وہ اور اسکے دوست یہ بھول گئے ہیں کہ پاکستان کا ایک ایک سپاہی انڈین ،افغان اور اسرائیل ایکسپرٹ ہے لہذا انڈیا والوں بچو…ہم سے.