Engineer Iftekhar Choudhary

9

جوانوں کوپیروں کااستاد کر

کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ پی ٹی آئی کو تھریک انصاف ہی شکست دے سکتی ہے۔جتنی ٹانگیں ہم ایک دوسرے کی کھینچتے ہیں اگر تعمیری کاموں میں لگا دیں تو نون لیگ کیا اس قسم کی درجن بھر پارٹیاں بھی ہماری پینتی پینٹھ کی نمبر پلیٹ ہی نہ پڑ سکیں۔ہمارے گھوڑوں کے شراروں میں یہ فرسودہ پارٹیاں گم ہو کر رہ جائیں۔کچھ بھی ہو پی ٹی آئی کو سنبھلنا ہو گا اگر مقابلہ ٹھگوں سے ہے تو ان کی کارستانیاں سمجھی جائیں۔تازہ ترین ٹھگی دیکھئے پی ایس ایل کے نام پر گو نواز گو سے بچنے کے لئے ساری ٹکٹیں گھر میں ہی رکھ لیں۔جوان تو پھر جوان ہیں ناں جو جوان پی ٹی آئی میں نہیں لوگ اس کی ذہنی صحت کے بارے میں فکر مند ہو جاتے ہیں۔ وہ ہمارا سرمایہ ہیں۔کبھی کبھی قریبی رشتے ان لمحات کو بھی دیکھنے کو ترستے ہیں جن کے لئے انسان بینائی بچا رکھتا ہے۔

جنوری کی شام کو میرے بیٹے نوید افتخار چودھری اور اس کے قابل فخرٹیم جو ہر لمحہ زبیر خان نیازی سے ہدائت لیتی رہی نے انصاف یوتھ ونگ راولپنڈی کا ایک تکریمی جلسہ کیا جس میں ضلع کی تمام تحصیلوں کے صدور اور سیکریٹری آئے تھے۔مجھے ایک ہفتہ پہلے کہا گیا کہ آپ نے نہیں آنا یہ تقریب ہم جوانوں کی ہے ۔میں نے حامی بھر لی۔میں اسے گزشتہ چار ماہ سے سرگرمی سے دیکھ رہا تھا اس دوران نوید کو ڈینگی نے آن گھیرا اس کی بیگم کو بھی ایک عارضے نے جکڑ رکھا۔
وہ کوٹلی ستیاں یا مری سے ڈینگی لایا ہسپتال گیا ایک ماہ تک بستر پر پڑا رہا میں نے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں کرب دیکھا ماں ایک بار پھر تڑپی اللہ نے ہمیں بیٹا واپس دے دیا اس کا لاکھ لاکھ شکر۔بستر سے اٹھ کر پھر وہ میدان میں موجود تھا دفتری مصروفیات اپنی جگہ وہاں کا بوجھ اور ضلع بھر میں یوتھ ونگ کی سرگرمیاں اس دوران بلدیاتی انتحابات بھی آئے اس نے جان لڑا دی الیکشن کوئی اور لڑ رہاتھا مگر اس نے اپنے گھر کو انتحابی دفتر بنائے رکھا۔

میری اس دن شاہ محمود قریشی صاحب سے ملاقات تھی میرے بعد اس کا ٹائم تھا میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جیب میں لے کر گیا وہ اپنی۔اور باہر آ کر کہنے لگا میں ایک کنونشن کر رہا ہوں جس میں یوتھ کے نمائندے ہوں گے اور کوئی نہیں ہو گا آپ بھی نہیں۔مجھے کوئی اختلاف نہ تھا البتہ کہا ہمارے چیف نعیم الحق ضرور ہوں گے انہین ضرور بلائے گا(کاش وہ ہوتے تو انہیں بھی اپنے برخوردار پر ناز ہوتا)
میں جی ۸ فور سے اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا تو مجھے ۱۹۸۸ یاد آ گیا ۲۷ سال پہلے بلکہ ۱۹۷۴ بھی ۴۱ سال پہلے میں اس جذبے کو دیکھ رہا تھا جو گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی لاہور میں تھا میں سبز شرٹ پہنے ایشیا سبز کے نعرے لگایا کرتا تھا۔۱۹۸۸ میں انجینئرنگ کمیونٹی جدہ کو بنایا حفیظ اللہ نیازی بھی ساتھ تھے۔

میں نے کسی سے نہیں کہا البتہ ایک دو دوستوں سے بات کی ڈر لگا رہتا تھا کہ نوجوانوں کا فنکشن ہے چلے جانا دیکھ لینا۔افضل، اجمل، اور صدام میرے پاس کام کرتے ہیں تینوں کو بھیجا ان بچوں نے بینیرز لگائے۔بھانجہ عابد اپنے دوستوں کے ساتھ گیا۔
میں نے اس روز شاہ محمود قریشی صاحب کو جوانوں سے خطاب کرتے سنا ۔دل راضی ہو گیا میں نے محسوس کیا پی ٹی آئی بانجھ نہیں وائس چیئرمین ایک نائب اعلی کا کردار کچھ اس قدر خوبصورتی سے نبھاہ رہے تھے کہ کبھی دل پے ہاتھ رکھتا کبھی جان پے۔یقینا منہ سے پھول جڑتے تھے ایک باپ کے لئے اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے اپنے جان نشین کو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی جگہ اپنے ساتھ دیکھے۔

میں نے ایک بار نوید جب وہ تین سال کا تھا کو جدہ میں اپنے گھر میں اپنے جوتوں میں پائوں رکھتے آہستہ آہستہ چلتے دیکھا اور دعا کی کہ وہ وقت کب آئے گا کہ بیٹا میری جگہ لے گا۔اسے موروثیت کہہ لیجئے یا پدری شفقت۔ مجھے آج سردار عبدالقیوم یاد آ گئے۔میں خبریں کے ساتھ تھا۔جدہ کے سپنزر ہوٹل میں ان سے میں نے سوال کیا کہ آپ اپنے بیٹے کی بے جا حمائت کرتے ہیں وہ تو کوئی اچھی شہرت یا قابلیت نہیں رکھتے کہیں یہ پدری شفقت تو نہیں بے ساختہ جواب دیا چودھری صاحب سیاست میں نہ پدری شفقت کام کرتی ہے اور نہ ہی مادری ۔

ساتھ ہی وہ اپنے جدہ میں مقیم معتمد خاص اور میرے پیارے دوست عبدالطیف عباسی سے کہا جب عتیق جدہ آئے تو چودھری صاحب سے ملوانا۔مرد درویش کی بات سچ تھی میں نے سردار عتیق احمد خان سے نشست کی اور جب عبدالطیف عباسی کے عزیزیہ والے گھر کی سیڑھیاں اتر رہا تھا تو میں قائل ہو گیا کہ وہ سچے تھے۔یہ اللہ کا کرم ہوتا ہے کہ اولاد قابل نکلے میں نے یہ کرب بیگم کلثوم کی آنکھوں میں دیکھا اور میاں نواز شریف کے چہرے سے بھی۔کیا ان کا دل نہیں کرتا کہ حمزہ کی جگہ ان کا بیٹا لے کبھی وہ کیپٹن صفدر آگے کرتے ہیں کبھی مریم۔ میاں نواز شریف کے بیٹے حسین نواز سے بھی ملا ہوں اور اس وقت سردار عبدالقیوم پھر یاد آئے کہ واقعی پدری اور مادری شفقتیں کوئی چیز نہیں ہوتیں۔یہ اللہ کی دین ہے حسین نواز دے دے یا عتیق احمد خان۔

میں نے اس پارٹی کو ۲۰۰۷ میں جائن کیا اور نوید نے ۲۰۱۲ وہ اپنے تئیں جوانوں میں مگن رہا اور میں مدر ونگ میں۔یہ عمران خان کا انتحاب تھا کہ مجھے جدہ سے واپس لائے۔اور بھری محفل میں کہا اسے پیسوں کی ضرورت تھی تو میں نے اسے سعودی عرب ایکسپورٹ کیا اور اب مجھے اس کی ضرورت ہے تو امپورٹ کر لیا ہے۔

میں نوید کی بیمار ماں کے ساتھ بیٹھا وہ کلپ دیکھ رہا تھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین نے کہا میں نے اپنی تیس سال سے زائد سیاست میں نوجوانوں کا ایسا منظم اجتماع نہیں دیکھا جو آج انصاف یوتھ ونگ راولپنڈی نے نوید افتخار کی قیادت میں منعقد کیا ہے۔ نوید کے پیارے چچا سجاد چودھری نے یہ کلپ ریکارڈ کیا۔شاہ جی! نظریاتی نوجوانوں کے اس عظیم الشان اجتماع کے انعقاد پر نوید کو بار بار مبارک باد دے رہے تھے۔

میں منتظر تھا نوید کی تقریر کا جب اس نے یہ کہا کہ شاہ جی نے میرا بار بار نام لے کر یہ ثابت کیا ہے کہ آپ سب خراج تحسین کے مستحق ہو۔در اصل زبیر خان نیازی آصف محمود سردرا طیب اور سارے صدور و سیکریٹری اس میں شامل تھے۔اس نے اسناد کی تقسیم میں بھی ڈنڈی نہیں ماری اپنے فرسٹ کزن عابد مختار گجر تک کو نہیں آگے کیا اس لئے کہ اس طرح حق تلفی ہوتی۔
میں اگر نوید کا باپ نہ ہوتا تو یقینا اس فنکشن میں نعیم الحق صاحب کی نمائندگی کرتا اور نوجوانوں سے اقبال کی باتیں کرتا انہیں فلسفہ ء خودی بتاتا۔میں تحریک پاکستان میں نوجوان طلباء کے کردار کی بات چھیڑتا۔جوان ہمارا سرمایہ ہیں جلسوں کی رونق نہیں۔

سات جنوری کی شام منعقدہ تقریب میں شامل آفرین ہے ان نوجوانوں پر جو اس اہتمام سے بیٹھے کہ مجھے لگا شائد آج کاکول میں کوئی پاسنگ آئوٹ تقریب ہے۔(ہو سکے تو کلپ دیکھ لیجئے گا)
شاہ جی نے سچ کہا کئی دہائیوں سے ایسی تقریب نہیں دیکھی گئی۔میرا بیٹے سے یہی کہنا تھا کہ جوانون کو کہتے رہنا کہ تم ہی عظیم ہو منظم ہو۔یقینا ہمارے نوجوان اسی طرح کے ہیں۔مجھے ایک بار پھر انصاف یوتھ ونگ کی پنڈی کی تنظیم کو سلام پیش کرنا ہے۔وہاں ایک ایسے نوجوان کی بات بھی ہوئی جس کا مرنا جینا ہی پی ٹی آئی ہے ۔

سیف اللہ نیازی جس کی تعریف میں شاہ جی رطب اللسان تھے یقینا یہی وہ جوان ہے جو ہم جیسے پیروں کا ستاد ہے۔نظریاتی کارکنوں کا پی ٹی آئی میں شکائت بکس یہی ہے جو ہر ایک کو ایک امید دے کر روانہ کرتا ہے۔ میں یہ کلپ جناب شیخ رشید کو بھیج رہا ہوں اس کمنٹس کے ساتھ پی ٹی آئی میں ایسا بھی ہوتا ہے۔سچ پوچھیں تو ہمارے جلسے جوانوں کے کیا مدر ونگ کے ہلڑ بازی کا شکار ہوتے ہیں ۔خود خان کو بڑی کوفت ہوتی ہے ۔انہیں بھی بتا رہا ہوں کے تحریک انصاف میں ہمیں تنظیم کی اشد ضرورت ہے۔ شائد پی ٹی آئی کے اس قسم کے نوجوانوں کے بارے میں اقبال نے کہا تھا
جوانوں کو پیروں کا استاد کر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں