aqeel-tareen

وزیراعظم صاحب، لالچی لوگوں سے جان چھڑوائیں..!!

اب تو یہ با ت سا منے آچکی ہے کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں پر پانامہ لیکس کا جا دو کچھ زیا دہ ہی سر چڑھ کے بولا اور بات عدالتوں اور حکومت گرانے تک جا پہنچی. لیکن میری یہ انفا رمیشن اور تجزیہ ہمیشہ سے رہاہے کہ پانامہ گیٹ سکینڈل سے شریف فیملی سرخرو ہو کے نکلے گی. سیاسی پنڈتوں کی نظروں میں پانامہ نے پاکستان کی سیاست کے رخ کا تعین کرنا ہے. لیکن پاکستان پیپلز پا رٹی اورتحریک انصاف کے موقع پرست” بلوں” کیلئے بری خبر یہ ہے کہ اگر کو ئی اور انہونی نہ ہو ئی تو نواز شریف نے اگلی حکومت کی بہا ریں بھی دیکھنی ہیں.

شا ید اس با ر ان کے حصے میں خیبر پختونخوا بھی آجا ئے کیونکہ فاٹا ریفامز کے بعد اگر بارڈر مینجمنٹ کرنی ہے تو اس کیلئے وفاق اور صوبا ئی حکومت کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے. پانامہ گیٹ کے ساتھ میاں نواز شریف کئی حکومت کو کئی مزید چیلنجز کا سامنا بھی کرنا ہے. ان کو اپنے ارد گرد بہت سا رے عناصر کی” صفائی ” بھی کرنا ہو گی. ان کو اس وقت جو سب سے بڑا کریڈٹ اور سپورٹ ہے وہ انکی صاحبزادی اور نوجوانوں میں مقبول خاتون مریم صفدر(مریم بی بی اور ان کا مستقبل پرایک الگ آرٹیکل جلد لکھوں گا) سیاسی جان نشین کے طور پر انکا ہر معاملے میں ساتھ دینا ہے.

اس وقت ایسٹیبلشمنٹ کے نزدیک پانامہ اور ڈان لیکس دونوں مردہ گھوڑے ہیں جن پر پٹے ہو ئے سیاسی عنا صر نہ صرف سیاست کر رہے ہیں بلکہ وہ اس کی آڑ میں خود کو زندہ بھی رکھے ہو ئے ہیں ، جہاں تک تعلق ہے فاٹا کے “کے پی” میں ادغام کا تو یہ دیر آئید درست آئید والا معاملہ ہے جو بہرحا ل پاکستان کی اکائی کو مضبوط کرے گا ،اس پر ہما رے دشمن سخت برہم ہیں لیکن وہ کچھ کرنے کے قا بل نہیں رہے ، یہ فیصلہ بھی جی بی کو صوبہ بنانے جیسا ہے جسکو پا رلیمنٹ کی توثیق کے بعد کوئی چھیڑ نہیں سکے گا. اب اگر فاٹا کے علاقے میں بلدیاتی انتخابا ت کرادئیےجا ئیں تواس کام میں مزید نکھار آسکتا ہے.

وزیرا عظم میاں نواز شریف کا لا ہور میں پاکستان سپر لیگ کرانے کا فیصلہ بھی اگرچہ بہت سارے “کم بختوں” کو ہضم نہیں ہوا لیکن وہ بھی ایک سپرکلاس اور مدبرانہ و جرات مندانہ فیصلہ ہے. جسکی تحسین اہلیان پاکستان نے کی ہے. ایک عرصے کے بعد پاکستان میں ایک میگا سپورٹس ایونٹ کرانا یقیناًلیڈرشپ کے وژن کا نتیجہ ہے. آج میں ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا جسمیں دنیا میں بم دھماکے ہونے والے ممالک میں ہندوستان دوسرے نمبر جبکہ پاکستان چوتھے نمبر پر بتایا گیا. اسکے باوجود اگر پاکستان دنیا بھر میں خطرناک ملک ہے تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ اسمیں ہما رے میڈیا کا زیا دہ قصور ہے جو دھماکوں کو “ریٹنگ نیوز” تصور کرکے سارا دن ملک کا بینڈبجا تا ہے.

میں سمجھتا ہوں کہ فوج اس وقت سول سیٹ اپ کے پیچھے پوری قوت اور نیک نیتی کے ساتھ کھڑی ہے کہ سب نے اپنے اپنے کام با نٹ لئے ہیں ۔ سیکیورٹی فوج کی زمہ داری ہے تو معاہدے اور معیشت کومضبوط کرنا حکومتی زمہ داری ہے !اس وقت فوج سیاسی سیٹ اپ سے مطمین ہے اور موجودہ سیٹ اپ کے حوالے سے انکا خیال ہے کہ لیڈر شپ اور سیاسی جما عتوں کی موجودہ لاٹ میں سے ن لیگ سب سے بہتر ہے جو ملکی معاملات کو اچھے طریقے سے چلا رہی ہے. اسکے با وجود ادارو ں کی مضبوطی سب کا مطمع نظر ہونا چاہئے !سیاستدانوں ، جرنیلوں اور لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے لیکن اداروں نے رہنا اور اس ملک کو درست ٹریک پر چلاناہے.

قا رئین کرام..!!!
جہاں تک تعلق ہے میاں نواز شریف کا تو اب انکو انکے مخالفین ، فوج اور عالمی برادی ایک میچور ، اور جذبا تی لحا ظ سے مضبوط لیڈر سمجھنا شروع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے انکے سیاسی حریف خوف کا شکا ر ہیں ، اوپر سے میاں نواز شریف کو لوگوں ، عالمی دنیا ، فوج ، اور دوست و دشمنوں سے با ت کرنے اور انکو Tackleکرنیکا ایسا سلیقہ بھی آگیا ہے جو کسی بھی بڑے لیڈر کی اضا فی خوبی تصور کیا جا تا ہےاوران کا کما ل یہ ہے کہ انہوں نے اس وقت تک جو ٹیم بنا ئی ہے وہ انتہا ئی پروفیشنل اور محنتی ہے. جہاں تک تعلق ہے کہ اگر کو ئی قوت اس پر کا م کر رہی ہے کہ میاں نواز شریف کو ما ئنس کرکے ن لیگ کو چلایا جا ئے یا انکو نا اہل قرار دے دیا جا ئے تو وہ بہت بڑا disaster ہو گا. اس سے جہا ں ن لیگ کی بقا ء خطرے میں پڑ جا ئیگی وہاں ملک میں لیڈرشپ کا قحط پڑ جا ئیگا ، اگرچہ وزیر اعلیٰ پنجا ب میاں شہبا ز شریف ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں لیکن وہ ایک اچھے لیڈر ابھی تک نہیں بن سکے کہ وہ پوری پا رٹی کو چلا سکیں !پنڈتوں کا یہی خیال ہے کہ میاں نواز شریف تمام چلینجز سے بخوبی نکل جا ئیں گے.

اگرچہ میاں صاحب Man of all crises رہے ہیں اور وہ ان سے نکل بھی رہے ہیں ، لیکن ان کو اپنے اردگرد موجود اس مضبوط ” فوادی “حصا ر کوتوڑنا ہو گا جو ان میں اور پارٹی لیڈرشپ میں بہت زیا دہ خلیج کا با عث بن رہاہے ، اور اب تو دبے لفظوں میں یہ با تیں بھی شروع ہو گئی ہیں کہ کہیں فواد حسن فواد کا یہ حصار انکی پارٹی اور انکی فیملی میں کو ئی رنجشیں ہی نہ پیدا کر دے. اسلام آبا د کے چا ئے خانوں اور نجی بیٹھکوں میں اس با ت کا تذکرہ بھی ہونے لگا ہے کہ فوادحسن فواد کی راولپنڈی میں کیا کروڑوں کی کو ئی پراپرٹی بھی ہے ؟ کروڑوں کا پراپرٹی بزنس بھی ہے ، لوگ سوال پوچھتے ہیں کہ اتنی دولت کی ریل پیل کیسے اور کہاں سے بنا ئی گئی؟

شنید ہے کہ ملک کے ایک انویسٹی گیٹیو صحا فی کے پاس اس حوالے سے بہت کچھ ہے اور آنے والے دنوں میں ان سےنا جائز ذرائع سے اکٹھی کی جا نیوالی دولت کی پوچھ گچھ بھی ہو نیوالی ہے.ایک پٹیشن کسی فورم پر موجود ہے جسکی تصدیق نہیں ہو سکی. لیکن اس پر تحقیق ہو رہی ہے کہ “وزیراعظم میاں نوازشریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد (جو ارب پتی بن چکے ہیں) کے خلاف تحقیقی پٹیشن کے مطابق، راولپنڈی میں فواد حسن فواد نے حیدر روڈ پرموجود ایک کمرشل پلاٹ کا جی پی او صدر کے سامنے ایک دوسرے کمرشل پلاٹ کے ساتھ تبا دلہ کیا جس کا مالک گل زرین خان ہے جو شہر کا ممتاز امیر ترین شخص ہے. صدر والا پلاٹ حیدر روڈ والے سے زیا دہ قیمتی ہے. فواد حسن نے گل زرین خان کو یقین دلایا ہے کہ وہ حیدر روڈ والے پلاٹ کا15کروڑ کا ٹیکس معاف کرادینگے ۔ جس پر ڈیل پکی ہو گئی۔

اب فواد حسن فواد صدر والے پلا ٹ پر آٹھ منزلہ پلازہ بنا یا ہے جس کیلئے فوادحسن فواد نے جے ایس بینک کو اپنے نام پر ترپن کروڑ کا قرض دینے پر مجبور کیا۔ جے ایس بینک ان جہانگیر صدیقی صاحب کا ہے جو آصف علی زرداری کے قریبی ہیں اور انکے صاحبزادے علی جہا نگیر صدیقی نے ایک بڑے میڈیا گروپ کے ما لک میر فیملی میں شا دی کی ہے. اب صورتحال یہ ہے کہ گل زرین کو دئیے جا نیوالے پلا ٹ کا پندرہ کروڑ تاحال معا ف نہیں ہو سکا ، شنید ہے کہ گل زرین خان نے فواد حسن فواد کے بھا ئی کو دھمکی دی ہے کہ یا تو اسکو پندرہ کروڑ دئیے جا ئیں یا یہ رقم حسب وعدہ معا ف کرا دی جا ئے ورنہ وہ یہ معاملہ پریس میں لے آئیگا اور اس کیلئے وہ ایک بڑی پریس کا نفرنس بھی کرے گا ” کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اگر میاں نواز شریف کو کبھی کوئی برانام سہنا پڑا وہ تو وہ یہی موصوف ہو نگے، میری وزیراعظم میاں نوازشریف اور خاص کر انکی سیاسی جا نشین مریم نواز کو یہ تجویز ہے کہ وہ فواد حسن فواد جیسی اس بیما ری سے میاں صاحب کی جان چھڑوائیں اور ہو سکے تو انکی مانیٹرنگ بھی کی جا ئے.

کیونکہ کہایہ جا رہا ہے کہ یہ “صاحب “شریف برادران کے درمیان خلیج کا با عث بھی بن سکتے ہیں ۔ لہذا میاں نوازشریف کو بھی اس حوالے سے محتاط رہنا ہو گا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم میاں نواز شریف کے ارد گرد ایسے بے لوث ، وفادار اورقابل لوگوں کو ہونا چاہئے جو لالچ و طمع سے پاک ہوں. ملک میں اداروں کے قابل افراد کی رائے پر مشتمل فیصلوں کو رائج ہو نا چاہئے نہ کہ “فوادی “سوچ سے متاثرہ فیصلوں کو، کیونکہ وزیر اعظم ہاؤس میں کسی لالچی کے بیٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ ملکی سلامتی خطرے میں ہے. فوری طور پر فواد حسن فواد کے خلاف متعلقہ محکمے انکوائری کریں اور پراپرٹی کے حوالے دودھ کا دودھ اور پا نی کا پا نی کریں.