sharyar khan

وکیل، ڈاکٹر اور مولوی اینکرز ۔۔ہائے قیامت

بس اب اسی بات کی کسر رہ گئی تھی، جیسے چور کو شہر کی دربانی پر مامور کر دیا جائے، شور کیسا؟۔۔ جن کو ہمارے سامنے جوابدہ ہونا چاہئے وہ سوال کرنے کھڑے ہیں۔

پہلے پہل۔۔ ایک ڈاکٹر آیا، کمال کی گفتگو کرتا تھا، بہت مذہبی معلوم پڑتا تھا۔۔ کیسا نیک محسوس ہوتا تھا، لوگ سوچتے تھے اس سے بہتر مسلمان اور وہ بھی ٹی وی چینل پر۔۔ نہیں مل سکتا ۔۔ اس ایک ڈاکٹر کی بات میں اتنا اثر تھا کہ لوگ سمجھتے تھے واقعی وہ درست کہہ رہا ہے کہ 2012 تک قیامت آنے والی ہے۔

اس دوران ہم پر کتنی ہی قیامتیں گزرگئیں مگر اف نہ کیاکیونکہ سب سوچتے تھے ابھی تو قیامت آنا باقی ہے۔ پھر وہ ڈاکٹر کسی اور چینل میں چلا گیا تو قیامت کا موضوع غائب ہو گیا لیکن وہ ڈاکٹر کے بجائے نجومی بن چکا تھا۔۔۔ ریٹنگ میں بھی چھکے چوکے لگاتا تھا۔ حکومت نے قابو کیا اور اس ڈاکٹر کو پی ٹی وی کے علاج کے لیے ایک ہی وقت میں ایم ڈی اور چیئرمین بنا دیا۔

پی ٹی وی کی تو حالت مزید بگڑ گئی مگر ایک سال کی ایڈوانس تنخواہ لے کر خود ڈاکٹر صاحب کا اچھا علاج ہوگیا، ان کے چہرے سے مذہبیت ، اخلاقیات اور سچائی کا ماسک اترگیا۔ اب وہ دنیا کو قیامت سے ڈرانے کے بجائے حکومت کو ڈرانے لگے۔ نجومی بنے بھی تو شیخ رشید جیسے ۔۔ کبھی کوئی پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ ہر دوسرے روز بتاتے حکومت آج گئی کہ کل۔۔ مگر حکومت پانچ سال پوری کر کے گئی۔

اس ڈاکٹر کی ڈاکٹری کی دھومیں مچ جانے کے بعد کافی سارے ڈاکٹر مختلف ٹی وی چینلز پر نمودار ہونے لگے۔۔ ڈاکٹروں کی کامیابیاں دیکھ کر دیگر شعبے کے افراد کو بھی شوق چرایا اور وہ اپنے اپنے دھندے چھوڑ کر اینکر بننے کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔

خیر۔۔ان کا تعلق چاہے کسی بھی شعبہ سے تھا خواہش سب کی ایک ہی تھی حکومت گرانا۔۔ اس دوڑ میں جتنے بھی آئے ، ان کی پیش گوئیاں غلط ہونے کے باوجود بھی لوگ ان کو پسند کرتے ۔۔ ریٹنگ چھت پھاڑ کر باہر نکلتی رہی۔

دو اینکرز کی وڈیو لیک ہو گئی جس میں وہ ملک کے سب سے بڑے بلڈر کا انٹرویو کر رہے تھے جس کا مقصد اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی مٹی پلید کرنا تھا۔۔ اس انٹرویو میں وہ بلڈر بتا رہا تھاسوال کیا کرنے ہیں اور وہ پیرا ٹروپر اینکرز انہیں بتا رہے تھے انہیں جواب کیادینا ہیں۔

دنیا بھر میں وہ وڈیو وائرل ہوئی کچھ دنوں کے لیے دونوں اینکرز شرمندہ بھی ہوئے ہوں گے مگر آج وہ پھر ایک چینل سے نکل کر دوسرے چینل میں اس طرح جاتے ہیں کہ طوطا مینا بھی اتنی جلدی کسی ایک ڈال سے اڑ کر دوسرے پیڑ کی ڈال پر نہیں بیٹھتے ہوں گے۔

یہ بھی کچھ نہیں تھا کیونکہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ بیرون ملک سے ڈھیروں دولت کما کر لانے والے ایک شخص نے ملک کا سب سے بڑا میڈیا گروپ بنانے کا اعلان کیا، اعلان کرنے کے بعد باری باری تمام بڑے چھوٹے چینلز سے بڑے بڑے نامور صحافی اور اینکرز بھرتی بھی کر لیے۔ ایک ایک کی جگہ تین تین لوگ رکھے گئے پیکج بھی شاندار تھے۔

پھر ایک سازش ہوئی اور چینل بند کروا دیا گیا، ہم سب نے مل کر اس چینل کی بندش کے خلاف تحریک چلائی، کسی اور کی نیت کا تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن میں نے دل سے ہر جگہ آواز اٹھائی۔۔ تحریک تو کامیاب نہ ہو سکی مگر چینل کے خلاف بننے والے کیس وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہوتے گئے اور یوں چینل دوبارہ شروع ہوا۔ میں بہت خوش تھالیکن یہ خوشی عارضی تھی۔

سکرین میں رنگ بھرے تو سب نے دیکھااس میں مذہبی پروگرام کرنے والے ایک مذہبی ڈاکٹر کو کرنٹ افیئرز کا پروگرام دے دیا گیا۔۔ پھر مختلف اداکاروں کو بلایا گیا اور انہیں بھی کرنٹ افیئرز کے پروگرام تھما دیئے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اداکاروں نے اخلاقیات کا جنازہ کے ساتھ ساتھ ہم ایسے افراد جنہوں نے اس چینل کی بحالی کے لیے زور لگایا ان کی چیخیں بھی نکال دیں۔

اداکاروں تک بھی ٹھیک تھا، بلبلے والے نبیل تک بھی کچھ آرام تھا مگر اب تو پی پی پی دور کے سابق وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ بھی اس چینل پر پروگرام کر رہے ہیں جبکہ شنید ہے دو مرتبہ آئین توڑنے والے ڈکٹیٹر پرویز مشرف بھی آئین، سیاست اور اخلاقیات پر پروگرام کریں گے۔

اس سے بھی زیادہ ڈراؤنی خبر یہ ہے کہ قبلہ آصف علی زرداری بھی کرپشن روکنے کے حوالہ سے ہفتہ وار پروگرام کریں گے، ویسے ٹھیک بھی ہے کرپشن کی روک تھام کے جتنے طریقے اور جتنے آئیڈیاز اپنے زرداری صاحب کے پاس ہوں گے وہ تو روزانہ بھی پروگرام کریں تو کئی برس تک وہ نت نئے طریقے بتا سکتے ہیں۔۔

عین ممکن ہے پروگرام کی معاون نامور ماڈل ایان علی ہوں کیونکہ کرپشن پر کوئی بھی پروگرام ان کی شمولیت کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا، ویسے کتنا اچھا لگے گا حسب حال کے عزیزی کی طرح زرداری صاحب جگتیں لگائیں اور ایان علی معاون کے طور پر ہنستی رہے۔

کوئی دوست کہہ رہا تھا مذکورہ چینل میں بڑے بڑے اینکرز کے بجائے اداکاروں، سیاست دانوں، وکیلوں، علمائے کرام کو رکھ کر مالک چینل صحافیوں اور اینکرز کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ چینل ان کے بغیربھی چل سکتا ہے۔

کوئی انہیں بتائے یہ انتقام وہ ان صحافیوں، اینکرز سے نہیں لے رہے جو انہیں مشکل وقت میں چھوڑ کر چلے گئے تھے بلکہ وہ ان لوگوں کو مایوسی کی جانب لے جا رہے ہیں جنہوں نے وہ بند چینل کھلوانے کے لیے زور لگایا۔۔

خدا کے لیے کوئی انہیں بتائے اس انتقام سے ان لوگوں کا نقصان نہیں ہو رہا جنہوں نے انہیں چھوڑا بلکہ اس سے ان کے اپنے ادارے کی ساکھ تباہ ہو رہی ہے جسے وہ بڑے مان اور بہت چاہ سے لانچ کر چکے ۔

سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں اور مولویوں سے دیگر چینل بھیپروگرام کروا رہے ہیں ان سے بھی دست بستہ گزارش ہے ماچس ہاتھ لگنے کا مطلب یہ نہیں کہ جنگل کو ہی آگ لگا دی جائے۔سوچتا ہوں کہوں تجھ سے مگر ۔۔۔ جانے دے۔