Muhammad Khalid Qureshi

سول ایوی ایشن اور کوڑا کرکٹ؟

گذشتہ دنوں ایک بڑے قومی اخبار میں ’’پاکستان سول ایوی ایشن اٹھارٹی ‘‘ کا ایک اشتہار شائع ہوا جس میں لکھا گیا تھا ’’چھوٹا سا پرندہ کسی بڑے ہوائی جہاز کے گرانے کا سبب بن سکتا ہے، ہوائی اڈوں اور انکے اطراف کی صفائی ستھرائی کو یقینی بنائیں۔ ہوائی اڈوں کے اطراف میں کچرے کے ڈھیر پروازوں کے لئے شدید خطرے کا باعث ہیں۔پرندوں کے باعث ہوائی جہازوں کے ممکنہ حادثات کی روک تھا م کے لئے ہماری مدد کریں‘‘منجانب CAA۔

یقینا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے آگا ہی مہم ایک مثبت کوشش ہے،مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ذمہ داری پوری ہو گی،اس چھوٹی سی کوشش سے عوام میں شعور پیدا ہو گا ،ہوائی اڈوں کے گرد کچرے کے ڈھیر ختم ہوں گے؟۔سول ایوی ایشن کا ہی ایک عدد اشتہار تھا کہ فتح جنگ نئے ائیر پورٹ سے 15 کلو میٹر کے گردونواح میں کوئی بلڈنگ ،تعمیرات اور ہائوسنگ سوسائٹی پراجیکٹ ’’CAA ‘‘ کے NOC کے بغیر نہیں بن سکتا ، کیا ایسا ہی ہے؟

مگر بغیر NOC کے بھی کام ہو رہا ہے،حقیقت اس سے بر عکس ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ اگر کوئی ائیرپورٹ کے گردو نواح میں گندگی پھیلا رہا ہے اور ’’Damping ‘‘ کر رہا ہے اور وہ بھی سرکاری ادارے تو عام آدمی سے کیا توقعات ہیں؟۔فتح جنگ نئے ائیر پورٹ کے گردونواح میں اگر تعمیرات اور ہائوسنگ پراجیکٹ بن گئے اور بن رہے ہیں تو آپ کیا کر رہے ہیں۔کیا ایسے ایریا کو Red Mark کیا گیاہے؟،جو کہ 15 کلو میٹر کے اندر آتا ہے،وہاں زمین کی خرید فروخت پر پابندی ہے؟،وہاں زمین ٹرانسفر/ رجسٹری/ انتقال پر پابندی ہے؟

ایک جانب سول ایوی ایشن کہتی ہے کہ NOC حاصل کریںاور دوسری جانب جازب نظر اشتہار ات ہیںکہ نئے ائیر پورٹ کے نام پر پلاٹ فروخت کرتے ہیں،کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟،CAA کے مطابق نئے ائیر پورٹ کے گرد تین کلو میٹر سیکورٹی کے پیش نظر کوئی تعمیرات نہیں ہو سکتی۔Funalایریا جہاں پر جہاز ٹیک آف اور لینڈنگ کرے گا وہاں ساڑھے چھے سے سات کلو میٹر تک بلڈنگ Hight کو محدود کیا ہے 46 فٹ تک اور 28 فٹ تک ہے،اگر کوئی پراجیکٹ Funal ایریا میں نہیں وہاں تعمیرات پر پابندی نہیں ہے، اور ہائوسنگ سوسائٹیاں بن گئی،اگر تعمیرات ہوں گی تو انکو ختم کرنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ہمیشہ اہم منصوبوں کے لئے کم از کم 50 سال کی منصوبہ بندی ہوتی ہے جیسا کہ انگریز کرتا تھا۔

واہ کینٹ آرڈینینس فیکٹری آج سے 60 سال قبل تعمیر کی گئی، اس فیکٹری کو جو کہ POF کے نام سے جانی جاتی ہے صرف سیورج سسٹم کو دیکھا جائے،آج سے 60 سال قبل ایسا سسٹم لگایا گیا جہاں اس گندے پانی سے کھاد تک بنائی جاتی ہے،باقی پانی کو الگ کیا جاتا ہے۔ وہاں پینے کے صاف پانی کا نظام آج سے 60 سال قبل بنایا گیا۔ مرکزی جامع مسجد کے سامنے Over Head واٹر ٹینک ہے۔ جو کہ تقریبا 10 لاکھ گیلن کا ہے، مگر جب بنایا گیا تو شاید اسکی ضرورت نہ تھی، ہمیشہ منصوبہ بندی 50 سال یا پھر آنے والے 100 سالوں کے لئے ہوتی ہے تا کہ جوں جوں آبادی میں اضافہ ہو تو ان منصوبوں کو توسیع دی جا سکے۔

اس طرح مر ی ہل اسٹیشن پر ایک سو سال قبل بغیر بجلی کے ڈونگا گلی کے قدرتی چشموں سے پانی لا کر ایک لاکھ گیلن کے تالابوں میں جمع کیا جاتا تھا،جو کہ آج بھی ساری مری شہر کی ضرورت پوری کرتا ہے۔ اس طرح اسلام آباد کی مرکزی سڑکوں کے اطراف 600 فٹ کا گرین ایریا چھوڑا گیا تا کہ جب آبادی میں اضافہ ہو تو سڑکوں کو کشادہ کیا جائے ،جیسا کہ اب ہو رہا ہے۔ اب اصل مسئلہ کوڑا کرکٹ کے ’’Damping Zone ‘‘ کا ہے اس سے قبل بھی اپنے کالم میں نشاندہی کی تھی.

CDA جو کہ اسلا م آباد کا ترقیاتی ادارہ ہے،آج بھی بہت سے حل طلب مسائل کی آمجاگاہ بن گیاہے۔جوں جوں آبادی کاتناسب بڑھ رہا ہے مسائل بھی اسی کے ساتھ تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں۔اسلام آباد کے شہریوں کی بنیادی ضرورتوں میں پانی ،بجلی ،صحت،تعلیم،جتنا اہمیت کی حامل ہیں اتنی اہمیت شہر سے کوڑا کرکٹ کا اکھٹا کرنا اور اس کو تلف کرنا بھی ہے۔صرف اگر اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ اسلام آباد کے شہر کا کوڑا کرکٹ اٹھانے اور اسکو ’’ Damp‘‘ کرنے کا جائزہ لیں تو حیران ہوں گے کہ گذشتہ 50 سالوں میں اس پرکوئی پیش رفت نہیں ہوئی ۔

گذشتہ چند سالوں سے قبل تما م اسلام آباد کا کوڑا کرکٹ سیکٹر H-11 میں زمین کو کھود کر اس میں ’’Damp ‘‘ کیا جاتا تھا، گردونواح میںشدید تعفن تھا، جس کی وجہ سے عوام عدالتو ں ،محتسب اعلیٰ اور EPA کے پاس گئے،آخر اسلام آباد کا گند (کوڑا کرکٹ) ’’Damp ‘‘ کرنا بند ہو گیا۔پھر CDA کے سیکٹر I-14 کے اندر ’’Damping ‘‘ شروع کی گئی جو آج تک جاری ہے۔گذشتہ تقریبا دس سالوں سے فتح جنگ کا کام شروع ہے اور اسی عرصہ میں I-14 میں کوڑا کرکٹ Damp ہو رہا ہے۔ سول ایوی ایشن والے آج صرف اشتہار دے کر خاموش ہو جائیں گے۔صرف ارباب اختیار ،سپریم کورٹ،EPA والے اتنا تو معلوم کر یں کہ نئے ائیر پورٹ کا Funal ایریا کون سا ہے؟۔ I-14 سیکٹر نئے ائیرپورٹ کے Take Off اور Landing یعنی کہ Funal ایریا میں آتا ہے ۔جہاں گذشتہ 30 سالوں کا کوڑ کرکٹ (Garbage )زیر زمین دفن کیا ہوا ہے وہاں چیل، کوے،پرندے آئیں گے کہ نہیں؟۔

اس طرح چک لالہ ائیر پورٹ کا ایریا دیکھیں،اسلام آباد ایکسپریس روڈ،کاک پل،سواں دریاسے کورال کے ایریا میں ذرا جا کر دیکھیں کہ کتنے Damping Zone بنے ہوئے ہیں،کہاں کہاں گندگی دفن نہیں ہے؟۔ہمارے نظام حصہ کا بن گیا ہے کہ پہلے مسئلہ پیدا کریں پھر مسئلے کا حل تلاش کریں۔اسلام آباد میں CDA والے اربوں روپے کے پلاٹ فروخت کرتے ہیں،سائیکل ٹریک بناتے ہیں۔زون III کے قوانین میں تبدیلی لا کر اس کو ہائوسنگ سوسا ئٹیوں کے لئے اجازت دے رہے ہیں، تا کہ قدرتی پہاڑوں کو تباہ کیا جا سکے اور پلاٹ بنا کر فروخت کئے جائیں۔ اسلام آباد میں مراعات یافتہ افراد اور مخصوص عناصر کو فائدہ دینے کے لئے قوانین بن رہے ہیں۔مگر ایک ایسا مسئلہ جسکا حل پاکستان کے کئی شہروں میں 50 سال قبل ہو گیا تھا،آج سول ایوی ایشن صرف اس بات کی تحقیقات یا پھر سروے کرائے کہ راولپنڈی ،اسلام آباد کی ایسی جگہوں پر کوڑا کرکٹ کیوں اور کب سے Damp کیا جا رہا ہے اور اس کے کیا اثرات گردونواح کے ماحول میں پیدا ہو رہے ہیں۔

EPA انوائیرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی ہے اور ماحولیات کی وزارت ہے،بے شما ر NGO ماحول کی بہتری کے لئے کام کر رہی ہیں،مگر صرف اپنے دفاتروں میں براجمان ہیں،صرف اتنا اشتہار خبردار + ہوشیار کا کہتے ہیں۔سپریم کورٹ آف پاکستان سے گذارش ہے کہ جس طرح مارگلہ کی پہاڑیوں پر نا جائز کریشر قدرتی ماحول کو تباہ کر رہے تھے،پہاڑوں کو ختم کر رہے تھے،ماحول گرد آلودہ کر دیا تھا اور ہزاروں لوگوںکو دمے کا مریض بنا دیا۔اس طرح سپریم کورٹ صرف ایک عدد So-Moto آبادیوں کے قریب Damping Zone نکا لیں،جہاں کوڑا کرکٹ زیر زمین دفنا یا جاتا ہے،اسلام آباد فیض آباد سے روات ایکسپریس ہائی وے کے ساتھ ساتھ جگہ جگہ کوڑا کرکٹ نظر آئے گا۔فیض آباد ،سوہان،کھنہ پل، کورال سے کلیم CNG سڑکوں کے کنارے ،کاک پل سے دریائے سواں کے کنارے بحریہ فیز4 کے سامنے PEPSI کولا کی فیکٹری تک نہ صرف کوڑا Damp ہوتا ہے بلکہ رات کے وقت ان کو آگ لگائی جاتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے اسکا سخت نوٹس بھی لیا۔اس طرح بھا ٹہ چوک I-14 ،مصریال روڈ،شیخ پور میں آج بھی لاکھوں ٹن کوڑا کرکٹ زیر زمین دفنایا گیا ہے۔جو کہ نئے ائیر پورٹ کے ٹیک آف اور لینڈنگ کاFunal ایریا ہے اور ایئر پورٹ کے 15 کلو میٹر کے گردونواح ہے جہاں کوئی تعمیرات کے لئے NOC چاہئے، CAA والوں سے وہاں Damping کا نوٹس کون لے گا؟۔EPA والوں سے گذارش ہے کہ صورت حال کا نوٹس لیں،عوامی آگاہی اور عوامی سماعت کریں،ماحول کو زہر آلود کرنے پر ایکشن لیں۔

CDA کے میئر اور قائمقام چیئرمین جناب عنصر عزیز صاحب سے گذارش ہے کہ صرف ایک عدد BOT کا اشتہار اخبارات میں دیں،کہ اسلام آباد کا کوڑا کرکٹ جمع کر کے خود کار مشینوں سے تلف کر کے کھاد بنانے کے لئے کمپنیوں کی ضرورت ہے۔ یا پھر صرف Japan اور China کی Embassy کو گذارش کریں کہ زمین CDA مہیا کرے گی ، کوڑا تلف کر کے کھاد، بجلی اور زراعت کے لئے استعمال کریں ۔ ماحول صحت مند بنائیں۔Safe Environment ۔