Israr Ahmad Rajpoot logo

اعجاز احمد کی صاحبزادی کی بڑی اننگز

کرکٹ کے میدان میں مخالف باؤلرز پر جھپٹ پڑنے اور “رنز مشین” کے نام سے جانے جانے والے سابق سٹار بلے باز اعجاز احمد کی صاحبزادی نیہا اعجاز نے تعلیمی میدان بواقع فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد (راولپنڈی کیمپس) میں زندگی کی بڑی اور یاد گار اننگز کھیلی اور جیتا گولڈ میڈل جس پر نہ صرف اس ہونہار اسٹوڈنٹ کے اساتذہ کرام خوشی سے نہال ہیں بلکہ نیہا کے والد سابق ٹیسٹ کرکٹر اعجاز احمد اور والدہ بھی خوش ہونے کے ساتھ ساتھ خدا کے حضور سر بسجود ہیں۔

جی ہاں، نیہا اعجاز نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیچلرز ان کمپیوٹر سوفٹ وئیر انجینئیرنگ میں یونیورسٹی بھر میں ٹاپ کیا اور ان کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں انہیں گزشتہ روز ایف یُو آئی کے آدیٹوریم میں منعقدہ کانووکیشن 2016 سوفٹ وئیر انجینئرنگ کی پرُ وقار تقریب میں سونے کا تمغہ عطا کیا گیا۔

ہونہار نیہا کو سونے کا تمغہ مہمان خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد نواز خان، مینیجنگ ڈائریکٹر فوجی فاؤنڈیشن و صدر ایف یُو آئی نےعنایت فرمایا جبکہ اس موقع پر میجر جنرل (ر) خادم حسین، ریکٹر ایف یُو آئی اور بریگیڈئیر (ر) ڈاکٹر اختر نواز ملک، ڈائریکٹر ایف یُو آئی راولپنڈی کیمپس بھی موجود تھے۔

کانووکیشن کے دوران کُل 256 گریجویٹس کو سندیں عطا کی گئیں جبکہ پوزیشن ہولڈرز طلبہ و طالبات کو ایک ایک سونےاور چاندی کا تمغہ، چار ڈسٹینکشن سرٹیفیکیٹس جبکہ 13 میرٹ سرٹیفیکیٹس دیے گئے۔

سٹیٹ ویوز سے بات چیت کرتے ہوئے ہونہار طالبہ نیہا اعجاز نے اس بڑی کامیابی پر اللہ تعالی کر شُکر بجا لایا اور کہا کہ ان کی اس تعلیمی میدان میں کامیابی کے پیچھے ان کے والدین کی دُعائیں اوراساتذہ کی محنت شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ روز 2 گھنٹہ مطالعہ کرتی تھیں البتہ اسائنمنٹس اور کوئز کے لیے بہت زیادہ تیاری کرتی تھیں۔ “اس دنیا میں انسان محنت اورلگن سے سب کچھ حاصل کر سکتا ہے”۔

انہوں نے کہا کہ وہ ابھی سوفٹ وئیر انجینیئرنگ میں کامسیٹس یونیورسٹی میں ایم ایس کر رہی ھیں اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد فیوچر میں وہ سوفٹ وئیر انجینئیر بننا چاھتی ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو تاکید کی کہ وہ پوری توجہ، محنت، لگن اور جانفشانی سے تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار بطریق احسن ادا کریں۔

خوشی سے سرشار نیہا کی والدہ نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ دنیا میں ترقی صرف اور صرف محنت اور اعلی تعلیم کے بل بوتے پر ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا عورت کی تعلیم ملکی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔

اعجاز احمد، نیہا کے والد، نے بھی بیٹی کی شاندار کامیابی پر اللہ کا شُکر ادا کیا اور کہا کہ وہ بہت خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ لڑکیوں کی اعلی تعلیم کے حق میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ نے انہیں چار بیٹیاں عطا کی ہیں جن کو انہوں نے تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی بڑی بیٹی ڈاکٹر ہے جبکہ نیہا سمیت تین بیٹیاں اعلی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔

اس سے قبل معروف کرکٹر اعجاز احمد کو آڈیٹوریم میں مداحوں کی بڑی تعداد نے گھیر لیا جن میں خواتین و حضرات اور نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شامل تھیں۔ انھوں نے ملک کے معروف کرکٹر کو اپنے درمیان دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا، ان کو بیٹی کی شاندار کامیابی پر مبارکباد دی اور ان کے ساتھ ڈھیروں سیلفیز اور تصاویر بنوائیں۔ اعجاز احمد بھی ملنساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مداحوں میں گھُل مل گئے۔

زیادہ تر کرکٹ کے مداحوں نے اس عظیم بلے باز کی 2 اکتوبر 1997 کو لاہور قذافی سٹیڈیم میں مصنوعی روشنیوں میں روایتی حریف انڈیا کے خلاف کھیلی گئی دھواں دار اننگ کو یاد کیا جس میں اس جارح بلے باز نے انڈین باؤلرز کا بھرکس نکالتے ہوئے صرف 84 گیندوں پر 139 رنز جڑے تھے جن میں بلند و بالا 9 چھکے بھی شامل تھے۔

بعض میڈیا کے رپورٹرز نے اعجاز احمد سے حال ہی میں منعقد ہونے والی پی ایس ایل 2 کے بارے میں سوالات کیے مگر کرکٹر نے اس موضوع پر بات کرنے سے معذرت کر لی۔

چند شائقین سے ان فارمل بات چیت کرتے ہوئے اعجاز احمد جو کہ آجکل دبئی میں ایک کرکٹ اکیڈمی میں کوچ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، کہا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کا فقدان ہے اور حکومت اور کرکٹ بورڈ کو اس جانب توجہ دینی چائیے۔ انہوں نے کہا پاکستان میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔