Muhammad Khalid Qureshi

بہارو پھول برسائو

گذشتہ دنوں ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کا کالم بہارو پھول بر سائو پڑھا،جس میں وزیر اعظم محمد نواز شریف کے حوالے سے لکھاتھامقدر کو نہیں اعمال کو مورد الزام ٹھہرانہ چاہئےاور بہت کچھ لکھا جا رہا ہے،تاریخی فیصلے کا پوری قوم کو انتظار ہے،پاکستان کی تاریخ میں عدالتوں نے تاریخی فیصلے دیئے۔

مولوی تمیز الدین کا فیصلہ بھی ایک تاریخ ہے،ذوالفقار علی بھٹو کا فیصلہ بھی تاریخی ہے۔محمد نواز شریف کو پھانسی کی جگہ جلا وطنی قبول کرنی پڑی ،محلاتی سازشیں بھی ہوتی ہیںاور فرمائشی پروگرام بھی،پاکستان کے طاقت ور ترین حکمران گمنام ہو گئے مگر ان طاقتور حکمرانوں کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگتی ہے تو نماز جنازہ کے لئے شائد چالیس لوگ نہ تھے اور خاندان کا کوئی فرد شریک نہ ہواجو کم از کم اتنا تو جنازے میں کھڑا ہو کر کہتا کہ اگر کسی کا کوئی لین دین ہے تو میں بطور وارث ادا کروں گا۔

مگر چشم فلک نے دیکھا کہ 10 ایپریل 1986 ؁ء ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو لاہور اُترتی ہیں تو پورا لاہور ان کے والہانہ استقبال کے لئے باہر آگیا،شائد ذوالفقار علی بھٹو زندہ ہوتے تو اتنی محبت اور پذیرائی نہ ملتی جتنی ان کی بیٹی کو ملی تھی،جتنی ناحق موت کی وجہ سے ملی اور موجود ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی بھٹو کے بعد تین دفعہ اقتدار میں آئی اور سندھ میں تو نا قابل شکست قوت بن گئی،مگر مقدر اور اعمال کا فیصلہ تو شائد تاریخ نے کر دیا ۔

ایک قبر گڑھی خدا بخش میں ہے اور ایک قبر فیصل مسجد کے پہلو میں ہے،گمنامی سے دفن ہونے والا بھٹو زندہ ہے،پورے اعزازات کے ساتھ جانے والے کی قبر پر ویرانی ہے،یہ فیصلے آسمانوں پر ہوتے ہیں۔آج کل ٹی وی ٹاک شو ز پر کہا جاتا ہے کہ کرپشن کا تابوت نکلے گا اور کبھی سیاسی تابوت کی بات ہوتی ہے.

پاکستان کی تاریخ میں اگر دیکھا جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ ادارے مضبوط ہوئے ،انکے فیصلوں اور کارکردگی نے پاکستان کو مضبوط کیا۔پاکستان کی عدالتوں نے تاریخی فیصلے کئے اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے، پاکستان کی عوام انصاف کے لئے عدالتوں کو دیکھتی ہے،عدالتوں نے مایوس نہ کیا۔

پاکستان میں ایسا منظر شائد کبھی نہ دیکھا گیا ہو گاکہ پاکستان وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی جب عدالت عالیہ میں پیش ہوں تو پاکستان کے منتخب وزیر اعظم اور فیصلے کے بعد صرف چند سیکنڈز میں معزول ہوگئے،حکومت وقت نے خندہ پیشانی سے فیصلہ قبول کیا ۔

افواج پاکستان نے اپنی عزت اور وقار میں بے پناہ اضافہ کیا اور کسی بھی سیاسی کھیل کا حصہ بننے سے اجتناب کیا یقینا مبارکباد کے مستحق ہیں۔کچھ لوگوں کے ذاتی فیصلے پورے ادارے کے فیصلے نہیں ہوتے،ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف جس رات مارشل کا فیصلہ ہوا تو جنرل فیض علی چشتی کور کمانڈر راولپنڈی تھے۔

مارشل والی رات جنرل چشتی کو اطلاع ملی کہ دھمیال ائیر بیس پر ایک عدد ہیلی کاپٹر کھڑا ہے مگر معلومات نہ تھیں،وجہ معلوم ہوئی کہ جنرل ضیاء الحق صاحب کی ہدایات پر کھڑا کیا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی کوشش میں ناکام ہوئے تو نکل جائیں گے،انسان سامان سو برس کا کرتا ہے مگر پل کی خبر نہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے اثرات یقینا آئیندہ سیاست پر مرتب ہوں گے،پاکستان میں ایسے فیصلے آئے جن سے مستقبل کے راستے متعین ہوئے۔قلم کاری کے ایک ادنیٰ سے لکھاری کے حوالے سے صرف اتنا عرض کروں گا کہ جتنا اہم معاملہ 14 اگست 1947 ؁ء پاکستان کے قیام کا تھا وہ بلکل اسی طرح تھا جس میں اللہ سبحان وتعالیٰ کی واضع حکمت شامل تھی کہ شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبال نے تصور پاکستان دیا اور پھر یہ بھی کہا کہ آج پاکستان کے لئے بانی پاکستان حضرت قائد اعظم سے بہتر لیڈر نہیں کوئی نہیں جبکہ تحریک آزادی پاک و ہند کے اس وقت کے چند عالم دین ،علماء کرام ،گدی نشین اور پیر صاحبان شریک تھے۔

پاکستان کے قیام میں اللہ سبحان تعالیٰ کی حکمت بلکل اسی طرح شامل تھی جس طرح فرعون کے گھر میں حضرت موسیٰؑ کی تھی۔انگریز حکمران اور ہندو قابضین کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ اور محمد ﷺ کے نام پر ملک کا قیام کسی معجزے سے کم نہ تھا،اس لئے آج پاکستان جس دور سے گذر رہا ہے اس کی اہمیت 14 اگست 1947؁ء سے کم نہیں ہے۔

پاکستان کے اندر سے C-PEC کا گذارنا ،گوادر کی تعمیر و ترقی ،اقتصادی ترقی اور آدھی دنیا کا ملاپ پاکستان کے ذریعے ہو رہا ہے۔ریاست جموں کشمیر کے ناقابل تقسیم حصے گلگت بلتستان کا صوبہ بنانے کی باتیں۔فاٹا کو صوبہ بنانا اور عوام کو تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنا وہاں کے عوام کو وہی حیثیت دینا جو باقی پاکستان عوام کی ہیں۔

ایسے حالات میں پاکستان کے دشمنوں کی سازشیں اپنے بام عروج پر ہیں ۔آج دنیا کی سپر پاور امریکہ اپنی ایک ایسی پالیسی دے رہا ہے جس میں First America کی بات کرتا ہے۔چین دنیا میں مشرق سے طلوع ہونے والے ایک ایسا سورج بن رہا ہے جسکی روشنی ساری دنیا میں محسوس ہو رہی ہے بلکہ اب اس کی ضرورت ہو گئی ہے۔

آج دنیا کو آنے والے کل کی ضرورت ہے۔دنیا کی ایک نئی کروٹ لیتی صورتحال پر پاکستان کو اپنا کردار ایک بہت اہم ترین کھلاڑی کے طور پر ادا کرنا ہو گا۔آج قوم کو اسی جذبے سے متحد ہونا ہو گا جس طرح 14 اگست 1947 ؁ء کو قوم ایک تھی۔پاکستان کے ادارے بھی یقینا ساری صارتحال کو پیش نظر رکھ کر ایسا کردار ادا کریں گے جس سے پاکستان کی ترقی میں پیش رفت ہوگی۔گذشتہ دنوں ایک ٹی – وی پروگرام میں راولپنڈی کے سابق ڈپٹی کمشنر سعید مہدی کا انٹر ویو چل رہا تھا۔

جسکی کسی نے تردید نہیں کی۔جسمیں انہوں نے بتایا کہ جب 1977 ؁ء 6 جولائی کو مارشل لاء لگ گیا اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو نظر بند کر دیا گیا تو ایک دن وہ آرمی ہائوس کے باہر آگئے اور صدر ضیا ء الحق سے ملاقات میں جب بھٹو نے راولپنڈی انتظامیہ کی شکایت کی، صدر جنرل ضیاء الحق نے D/C راولپنڈی سعید مہدی کو بلایا اور ڈانٹتے ہوئے کہا کہ تم کو معلوم ہیں کہ آج میرے کندھوں پر جو سٹار ہیں،میں آرمی چیف ہوں تو جناب ذوالفقار علی بھٹو کی وجہ سے ہوں،انکی ہر ضرورت کا خیال رکھا جائے،انکو نظر بند نہ رکھا جائے۔

جب ذوالفقار علی بھٹو جانے لگے تو صدر ضیا ء الحق انکو چھوڑنے باہر پورچ تک آئے اور بھٹو کو رخصت کرنے کے بعد ڈپٹی کمشنر راولپنڈی سعید مہدی نے پوچھا کہ سر میرے لیئے کیا حکم ہے تو مرد مومن،مرد حق ضیاء الحق نے فرمایا کہ آپ پنجاب گورنمنٹ کے ملازم ہیں انکے احکامات پر من و عن عمل کریں اور پنجاب گورنمنٹ کے واضع احکامات تھے کہ بھٹو کو نظر بند کریں۔

مگر صدر جنرل ضیاء الحق کے دل کے اندر کیا تھا؟،سابق گورنر مصطفیٰ کھر نے ایک واقعہ بیان کیا کہ بھٹو جب وزیر اعظم تھے تو ملتان تین روز نواب صادق قریشی کے گھر قیام کیا تو ہر وقت وہاں بارودی کور کمانڈر ملتان جنرل ضیا ء الحق وہاں موجود ہوتے تھے۔

جنکے محبوب اور احترام کے رویے سے ذوالفقار علی بھٹو بہت متاثر ہوئے اور بھٹو جب اسلام آباد جانے کے لئے جہاز میں بیٹھے اور جہاز نے ٹیک آف کیا تو جنرل ضیا ء الحق بغل میں سیکٹک دبائے بھٹو کو ہاتھ ہلا رہے تھے۔بھٹو نے نصرت بھٹو اور نواب صادق قریشی کو بتایا کہ مجھے نیا آرمی چیف مل گیا ،فیصلے آسمانوں پر ہوتے ہیں۔انسان صرف ذریعہ بنتا ہے۔بلکل درست بات ہے۔مقدر سے اہم اعمال ہوتے ہیں
بہارو پھول برسائو ۔۔۔۔۔میرا محبوب آیا ہے۔