پاکستان کا کا فراور بھا رت کا مسلمان

قیام پاکستان سے قبل کسی نے مولانا حسرت موہا نی سی پوچھا !حضرت آپ پاکستان کیوں نہیں شفٹ ہو جا تے !یہاں آ پ کی جان کو ہندو انتہاپسندوں سے ہر وقت خطرہ درپیش ہے !تو اس فرزند اسلام نے کیاخوب جواب دیا !کہ دونوں جگہ جذبا تی جنونیت کا دور دورہ ہے اور اپنی توہر دو جگہ پر جان کو خطرہ رہے گا یہاں رہے تو نجانے کب کو ئی ہندو انتہا پسند ” مسلمان “کہہ کر ما ر ڈالے ۔

پاکستان میں یہی کچھ کسی جو شیلے مسلمان کے ہاتھوں ہو سکتا ہے لیکن وہ مجھے گستاخ یا کا فر کہہ کر ما رے گا !میں سمجھتا ہوںکہ بھا رت میں رہ کر مسلمان کی موت مرنا بہتر ہے پاکستان میں رہ کر کافر کی موت مرنے سے !
سب سے پہلے تو ان گنت درود وسلام محمد عربیﷺ پر !انکی آل پرانکے ستاروں کی مانند صحابہ پر!ہماری جانیں !عزیز تر ہستیاں ان کی عزت و ناموس اور نام نامی پر لمحہ لمحہ قربان !اسلام امن سلا متی اور برداشت کا عملی نام ہے !جس قدر تحمل ، تحقیق ، صبر اور برداشت کی تلقین اسلامی تعلیما ت میں ہے ہو کسی اور مذہب میں نہیں

!نبی اکرمﷺخود صبر برداشت اور خبر کی تحقیق کرنے کا عملی نمونہ تھے !بہتان،الزام تراشی اور غیبت جیسی معا شرتی بیما ریوں کی پہلی با ر نشا ندھی اسلام نے ہی کی !اسلام نے حق اور با طل کو چھانٹ چھانٹ کر الگ کرکے دنیا کو ترقی ، امن اور انسانیت کی بہبود کے رستے پر لگا دیا !یہ اسلام ہی ہے جس نے قتل ناحق کواسلام کا نہیںانسا نیت کا قتل قرار دیااور یہ بتا دیا کہ اسلام سے بھی زیا دہ اگر کو ئی اللہ رب العزت کو عزیز ہے تو وہ ہے اسکی پیدا کی ہو ئی انسا نی جان !جسکی حرمت اور پاسبانی کیلئے!اسکو سیدھے رستے پر چلانے کیلئے ایک لا کھ چوبیس ہزار انبیا ء کرام کو بھیجا !وہی اللہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی مخلوق سے ستر مائوں سے زیا دہ پیا ر کرتا ہے !

اس میں کہیں اللہ رب العزت نے نہیں کہا کہ میں صرف مسلمانوں سے ستر مائوں سے زیا دہ پیا ر کرتا ہو ں اور کسی مسلمان کا قتل انسا نیت کا قتل ہے !میں نے کئی با ر یہ لکھا کہ جب تک مسلمان حاکم انسا نیت کی خدمت پر مصر رہے ۔ اللہ رب العزت نے انکو جاہ و جلال ، شرق سے غرب تک سلطنتوںاور حاکمیت سے نوازا!اور جیسے ہی وہ اسلام کی بنیا دی تعلیما ت دکھی انسا نیت کی فلاح و بہبود کو چھوڑ کر ذاتی آسا ئشا ت کی طرف متوجہ ہو ئے ان سے جا ہ و حشمت چھین لی گئی !پھر نہ کو ئی سلطان صلاح الدین ایوبی اس امت کو میسر آیا نہ کوئی محمد بن قا سم اور نہ ہی خا لد بن ولید جیسا فا تح !مغرب نے انسانی فلاح کیلئے کام کیا اور اللہ رب العزت نے انکو قسمت کا دھنی بنایا !
قا رئین کرام !

اتنے لمبی تہمید کا واحد مقصد یہ تھا کہ ہم اسلام سے بہت دور چلے گئے ہیں شا ید یہی وجہ ہے کہ ہم پر صیہونی و نصرانی ابا بیل ذخمی ذخمی کر رہے ہیں اور ہم کو سمجھ نہیں آرہی کہ ہما را قصور کیا ہے ؟ہم اندرونی طورپر انتہا ئی کھوکھلی قوم بن چکے ہیں جن کی اس وقت نہ اسلامی روایا ت ہیں اور نہ ہی مغربی !جس قوم کا ایک نو نہال ا یک درسگا ہ میں اپنے ہی دوستوں کے ہا تھوں ڈنڈوں اور لکڑی کے پھٹوں سے ، لاتوں اور گھونسوں سے دردنا ک موت کے گھاٹ اتا ر دیا جا ئے وہاں پر کس قسم کا نصاب تھا، کس قسم کا ماحول پیدا اور کس قسم کی تعلیم دی جا رہی ہو گی !مشا ل خان کی موت اصل میں
ہما رے معا شرے ، ہمارے اندر کے ایمان کی موت ہے !میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں دی جا نیوالی تعلیم ڈیفیکٹو ہے ۔

یہ انسان نہیں درندے پیدا کر رہی ہے ۔ اگر یہی وا قعہ کسی دور دراز کے گو ٹھ یا علا قے میں رونما ہو تا تو شا ید ہم اسکو کم علمی کہہ کر نظر انداز کر سکتے تھے ۔ ہم مشال خان کی موت کا نو حہ لکھ کر خاموش ہو سکتے تھے ، ہم اسکو لوگوں کی اسلام سے محبت کے نام پر خود کو تسلی دیکر اس سے بر ی الذمہ ہو سکتے تھے!لیکن یہاں سوال ہے تحقیق کر کے لشکر کشی کے بنیا دی اسلامی اصول کا !یہاں سوال ہے ہما رے تعلیمی نظام میں خرابیو ں کا !یہاں سوال ہے ولی خا ن یو نیورسٹی کے ان مجرم اسا تذہ اور انتظا میہ کی نا اہلی ، نا لا ئقی اور مجرما نہ غفلت کا کہ جن میں تحقیق اور معاملے کی سنگنینی کی نو عیت کے تعین کی capacityکا فقدان تھا !جو انتظا میہ اور وی سی آج مشال کو بے گنا ہ قرار دے رہے ہیں

انہوں نے اس خوفناک اور لہو کو منجمد کر دینے والے وا قعے سے قبل اس سچ کو طشت از بام کیوں نہ کیا ؟اس پر صوبا ئی حکومت اور خود وفا قی حکومت بھی اتنی ہی ملزم ہے کہ اسلام آبا د ہا ئیکورٹ کے معزز جج جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے چیخ و پکا ر کو سنا جا تا ، گستاخان کی ویب سا ئٹس کو بند کر دیا جا تا تو شا ید مشال خان کا جعلی فیس بک اکا ئونٹ بھی کسی تحقیق کے مرحلے سے گز ر کو اس نوجوان کی معصومی کا گواہ بن جاتا اور وہ ان ظالموں کے ظلم کا شکار نہ بنتا !یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون ان دو ہزار سے زا ئد نا بینا اور کم علم ” مسلمانوں”کا ٹرائل کرے گا جنہوں نے سٹیٹ کی رٹ کو چیلنج کیا ؟کیا کسی بھی اسلامی معا شرے میںکسی کو بھی خود ہی قا ضی اور خود ہی منصف بننے کی اجازت دیکر کسی کی بھی جان لینے کی اجا زت دی جا سکتی ہے ؟

مشال خان اگر گستاخ تھا تو اس پر بھی توہین اسلام قا نون کے تحت مقدمہ بنا کر اسکا ٹرائل کیا جا ئے اور اسکیلئے تمام سا ئنسی علوم آزما کے احقیقت تک پہنچا جا ئے !اور وہ وا قعی گستاخ نکلتا ہے تو پھر اسکی لاش کو قبر ے نکال کر اسکو قانون کے مطابق دوبارہ پھا نسی دی جائے لیکن اسکے ساتھ ساتھ ریا ست کے قانون اور مشال کے قتل کے الزام کا مقدمہ بھی چلایا
جا ئے اور اسمیں یونیورسٹی انتظا میہ ، اور اس جھتے کو نا مزد کیا جا ئے اور انمیں سے تحریک چلانے ، ڈنڈے ما رنے اور انکو ہلہ شیر ی دینے والوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور پھر جو اسمیں قصور وار پا ئے جائیں انکو بھی مشال خان کی نعش کیساتھ لٹکا دیا جا ئے تا کہ ریا ست انصاف کے تقاضے پورے کر سکے !
قا رئین کرام !
میری ان سطور سے محترمہ مریم نواز ، بلاول بھٹو زرداری ، اور ان جیسے نوجوان لیڈرز سے گز ارش ہے کہ آپ اس ملک میں برداشت ، تحقیق ، اور سچ کی تلاش کی طرف قوم کو لیجا نے کا کو ئی روڈ میپ دیں !ہم یہ تو کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس دنیا کی سب سے زیا د ہ یوتھ ہے !ہم یہ تو کہتے ہیں کہ پاکستا ن کے پا س قدرتی وسا ئل ہیں ، پا نی ہے ، سمندر ، صحرا دریا ، پہاڑ ، برف پوش چوٹیاں ، خوبصورت و سرسبز میدان ہیں !لیکن کیا ہم نے سوچا کہ اس ملک میں بسنے والوں کی ہم کیسی تربیت کر رہے ہیں ؟

کیا کسی نے تحقیق کی کہ نوجوان نسل کی زہنی حالت کیسی ہے ؟کیس کسی سیاسی لیڈر نے سوچا یا پو چھا کہ میرے کم سن بچوں کی صحت اور تعلیم کیلئے کیسا نظام وضع کیا گیا ہے ؟کیا کسی نے پو چھا کہ ہم نے اپنی نئی نسل کے زہن میںکونسی فکری فصل کا شت کر رہے ہیں !ہما ری بد قسمتی یہ ہے کہ مجھ سمیت ہما ری نوجوان نسل کے ہیروز شاہ رخ خا ن ،مائرہ خان ، فواد خان ، شترو گن ، امیتابھ ، آرنلڈ،وین ڈیم ہیں ۔

بہت کم کے ہیرو منٹو ،مولانا رومی ،بو علی سینا ، ارسطو، کولمبس، ڈاکٹر قدیر، ڈاکٹر اسلام ، ڈاکٹر عمر سیف، مرحوم ارفع کریم ہیں !
میں سمجھتا ہوں کہ اگر مریم نواز ،بلاول ، آصفہ ، حمزہ شہباز ، عمران خان نے عوام کا ہیرو بننا ہے تو وہ قوم کی زہن سازی او ر کردار ساز ی پر زیا دہ توجہ دیں کیونکہ کردار اور برداشت کے بغیر کو ئی معا شرہ رہنے کے قابل ہو تا ہے اور نہ ہی دوسروںکے لئے قابل قبول !