پانامہ فیصلہ :جمہوریت ایک با ر پھر بچ گئی

پانامہ کیس کافیصلہ ابھی ہوا نہیں !اس کا پا رٹ ٹو چند دنوں میں شروع ہو گا ۔واقعتا سپریم کو رٹ نے اسکو مرنے نہیں دیا اور اس پر خود کو ئی فیصلہ دینے کے ملکی اداروں کی جی آئی ٹی بنا کر خود کو سیاسی کچھڑی اور گندگی سے بچا لیا !اس ملک میں نیب اور ایف آئی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے زریں خیالات سے ہم سب وا قف ہیں !اس لئے اس پر یہ سوال اٹھا یا جا سکتا ہے کہ جو بوجھ انصاف کا بول بالا کرنے والے نہ اٹھا سکے وہ کیسے یہ ادارے اٹھا سکتے ہیں

جن کی استعداد کا ر اور پرفا رمنس پر ہمیشہ سوالات اٹھائے گئے اور انکو تقریبا نکما اور ختم کر دینے کے ریما رکس بھی دئیے جا تے رہے !کیا ہم یہ پوچھ سکتے ہیں کہ سپریم کورٹ تمام وسا ئل رکھنے اور اس کیس کے زرے زرے سے واقف ہونے کے باوجود کیوں اتنا مبہم فیصلہ سنا کر گئی ؟جو حال سوشل میڈیا پر اس فیصلے کا ہو رہا ہے یقینا اس سے معزز عدا لت واقف ہو گی’

عام آدمی کو تو اس فیصلے سے نہ پہلے سروکا ر تھا اور نہ آگے ہو گاکیونکہ عام آدمی کی یہ سوچ ہے کہ ملک کو آگے بڑھنے دو!اس کو بریکیں نہ لگا ئو !ترقیاتی کا م ہو نگے تو انکو روزگا ر ملے گا ، انکو روٹی ملے گی !حکومتیں ٹوٹیں گی ،فیصلے آئینگے تو اس اس پر خرچ ہو نے والی پا ئی پا ئی اس کی ہڈیوں سے گو دے سے نکالی جا ئیگی !لہذا اس کی صرف ایک ہی سوچ ہے کہ اسکو روٹی ، کپڑا، بجلی اورمکان چا ہئے !با قی سب کی سیاست جا ئے بھا ڑ میں !

قا رئین کرام ! میں سمجھتا ہوں کہ ن لیگ کو جشن کا حق اس لئے بھی ہے کہ انہوں نے اس سوچ اور ٹرینڈ کو ما ت دی ہے کہ جو بھی حکومت بنے اسکو کسی بھی معاملے پر پھنسا کر گھر بھیج دیا جا ئے یا پھر اسکو چلنے ہی نہ دیا جا ئے ! مٹھا ئیاں با نٹنا انکا حق ہے !کیونکہ انکا وزیر اعظم نا اہلی سے بچ گیااور سب جانتے ہیں کہ اگر میاںنوواز شریف ایک با ر نا اہل قرار پا جا تے تو مسلم لیگ ن دوبا رہ کبھی سر نہ اٹھا سکتی ، اسمیں کو ئی شک نہیں کہ میڈیا اور عمران خان نے اس معاملے میں جو hypeبنا ئی ہو ئی تھی اس کی موجودگی میں موجودہ فیصلہ ن لیگ کیلئے ٹھنڈے ہو ا کے جھونکے کے مترادف تھا !کہ ان کیخلا ف ملک کی سب سے بڑی عدا لت کو ئی بھی ثبوت حا صل کرنے میں ناکام ہو گئی.

میں سمجھتا ہوں کہ سپریم کو رٹ کی طرف سے جے آئی ٹی کا بنانا اس با ت ا ثبوت ہے کہ انکے پاس اس کیس کے حوالے سے ناکافی ثبوت تھے اور وہ نواز شریف کو اس کیس سے بری بھی کرنا چا ہتے تھے لیکن انہوں نے سیاسی گندگی سے دامن بچانے کیلئے ایک ایسا رستہ چنا کہ پی ٹی آئی بھی خوش ہو گئی کہ مزید تفتیش اور تلا شی ہو گی اور ن لیگ بھی خوش ہو گئی کہ انکے ساتھ یو سف رضا گیلانی والا کام نہیں ہوا !اس سار ے قضیئے میں جو اصل میں مبا رک با د کی مستحق ہیں وہ ہیں

وزیر اعظم کی صا حبز ادی جن کو ڈس کو الیفا ئی کرنے کی سرتوڑ کوشش کی گئی ، سب سے زیا دہ ان کی کفالت اور آف شور کمپنیوں میں شیئرز کے حوالے سے سوالات کئے گئے لیکن انکو کلین چٹ دی گئی جس پر سب سے زیا دہ انکو مبا رک با د دینی بنتی ہے کہ اصل میں وہ اس سا رے قصے میں ٹارگٹ تھیں!بہرحال اب چونکہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنے گی جو یقینا سیاسی جما عتوں کی مشاورت سے بنے گی !تو اسکی فا ئنڈنگز کو سب کو ماننا ہو گا ۔

میں سمجھتا ہوںکہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم سے تیرہ سوالا ت پوچھ کر پرچہ بھی آئو ٹ کردیا ہے اور جے آئی ٹی کو لا ئن بھی دے دی ہے کہ وہ ان خطوط پر چلے گی تو معاملہ حل ہو جا ئیگا !میں نہیں سمجھتا کہ تحقیقا تی ٹیم ان سوالا ت کو نظر انداز کر دیگی جو سپریم کورٹ نے floatکئے ہیں !کچھ لوگوں کا خیا ل ہے کہ وزیرا عظم کو مستعفی ہو کر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا چا ہئے کیونکہ ٹیم ایک وزیر اعظم سے سوال کیسے پو چھے گی ؟تو میرا اس پر جواب یہ ہے کہ کیا عمر فاروق اور اور ہما رے کئی نامور اسلامی حکمران قا ضی کی عدالت میں پیش نہیں ہو ئے ؟

میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف اگر بطو ر وزیراعظم اس ٹیم کے سامنے پیش ہونگے تو اس سے اداروں کا وقار ، اعتماد بڑھے گا ، عام آدمی کو یہ پتہ ہو گا کہ اگر ملک کا وزیراعظم ایف آئی اے ، نیب ، اور آئی ایس آئی کے ایک عام افسر کے سامنے انکوائری بھگتنے کو تیار ہے تو کسی کو بھی اس سے استثنا نہیں !کیا وزیراعظم میاں نوازشریف یوسف رضا گیلانی کی طرح سے استثنیٰ کلیم نہیں کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نہیں کیا کیونکہ وہ بھی اس فلٹرسسٹم سے ہو کر نکلنا چاہتے ہیں تا کہ انکو کلین چٹ مل جا ئے !اور میں سمجھتا ہوں کہ ہو گا بھی ایسا ہی !کیونکہ پانامہ ون سے پانامہ ٹو کی تحقیقا ت کیلئے فورم بدلا ہے

حقا ئق اور سوالات وہی ہیں !اس لئے اگر 270دن کی تحقیقات اور سما عت میں کچھ نہ نکل سکا تو 60دن کی تفتیش میں کیا نکلے گا ؟اگر تو میاں شریف کی جا ئیداد اور منی ٹریل کی تحقیق ہوئی اور دوسری طرف جہا نگیر رتین اور عمران خاں کی آف شور کمپنیوں کیخلاف تحقیقات کا آغا ز ہوا تو پھر میاں شریف کا منی ٹریل اورکما ئی کے “کھا تے “تو مل جا ئیں گے !لیکن جہا نگیر ترین کو ایک 21ویں گریڈ کے آفیسر کا بیٹا ہو نے کے با وجوداور نوے کی دھا ئی کے بعد اچانک ارب پتی بننے کا ثبوت دینے میں بہت تکلیف ہوگی !اسی طرح عمران خان کو اپنے لائف سٹائل اور شوکت خانم کا حساب دینا پڑا تو نہ انکو کو ئی پھٹیچڑ بینک منی ٹریل بناکر دے گا نہ کوئی جما ئما انکو بچا سکے گی !

اب دیکھتے ہیں کہ یہ فیصلہ درست ہے ، عوامی امنگوں کے مطابق ہے یا پھر نیا ہیر پھیر ہے ؟اس حوالے سے میں نے ایک سینئر آفیسرز اورحالات پر نظر رکھنے والے دوست زیڈ عباسی سے با ت کی تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک عاقلانہ ، متواز ن اور منطقی فیصلہ ہے ۔ کو ئی بھی فیصلہ شوا ہد کو دیکھ کر کیا جا تا ہے ،ججز کو ئی بھی فیصلہ آئین اور قانون کے دا ئرے میں رہ کر کرتے ہیں نہ کہ عام آدمی کی خواہش ، سوچ یا کسی ایک خاص جتھے کی چیخ و پکا ر کو دیکھ کر !عوام کے جذبا ت کسی جذبا تی وا بستگی کی بنیا د پر ہو سکتے ہیں لیکن ججز فیصلہ کرتے ہیں تا کہ انصا ف ہو سکے اور اس کے تقاضے پورے کئے جا سکیں !

وزیراعظم کے خلاف معزز عدا لت کے سامنے کو ئی بھی شہا دت نہیں پیش کی جا سکی ۔ وزیراعظم اور انکی فیملی کیخلاف جو کچھ بھی عدالت میں پیش ہوا وہ صرف اور صرف الزامات تھے !اور اس پر وزیر اعظم میاں نواز شریف اور انکی فیملی کا رسپانس ایک زمہ دا رپاکستانی شہری کی طرح کا رہا !اگر دیکھا جا ئے تو فیصلہ وزیراعظم کی اس لا ئن کے مطابق آیا ہے جس میں انہوں نے غیر جانبدار کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی تھی ،انہوںنے اپنے مخالفین کی طر ح کبھی بھی با زا ری
زبا ن استعمال نہیں کی !یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس فیصلے سے جمہوریت کو نہ صرف بچالیا گیا

بلکہ اسکی صحیح معنوں میں آبیا ری بھی کی گئی آج کے دن جمہوریت کے خلاف ایک منظم سازش کاناکام ہو ئی اور اخلاقیات اور اقدار کی سیاست جیت گئی !یہاں یہ لکھنا بھی ضروری تھا کہ اگر یہ فیصلہ وزیراعظم کے خلاف آتا تو پھر یہ سمجھ لینا چا ہئے تھا کہ اصل میں یہ فیصلہ پاکستان اور اسکی عوام کے خلاف آتا !کیونکہ اس فیصلے کے بعد ملک میں قیادت کا فقدان پیدا ہوجاتا !پاکستان پیپلز پا رٹی سمیت اس وقت کسی جما عت کے پاس نوازشریف جیسا towering leaderلیڈر نہیں تھا ، دوسرا سی پیک کو بریکیں لگ جا نی تھی !اور اب تک ہو نے والی سرما یہ کاری پاکستان پر قرض میں بدل جا تی جس سے تعمیر وترقی کے خواب چکنا چور ہو جا تے !میں سمجھتا ہوں کہ اس فیصلے کو کرنیوالوںنے یقینا انصاف کے ساتھ ساتھ ملک کی سلامتی کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا ہو گا !پاکستان زندہ با د!جمہوریت زندہ باد