میاں شہبا ز شریف اور مریم نواز کیلئے ایک چیلنج

کسی بھی معاشرے میں استا د کی عزت اور اسکی سوشل سیکیورٹی کو اہمیت حاصل ہے !یہ قصہ میںکہیں پڑ ھ رہا تھا کہ” ایک سفرنامہ لکھنے والے دانشور جا پان کی کسی درسگاہ میں ایک پروفیسر سے محو گفتگو تھے کہ اچا نک انہوں نے محسوس کیا کہ پروفیسر کے پیچھے سے گزرنے والے طلباء و طا لبات اچھل اچھل کر گز ر رہے ہیں !میں اس پر حیران ہوں ا!کہ شا ید یہ طلبااپنے پروفیسر کا انکی پیٹھ پیچھے مذا ق اڑا رہے ہیں !

آخر مجھ سے رہ نہ ہوا تو میں نے انکو بتا یا کہ آپکے پیچھے سے گز رنے والے طلبا ء اچھل اچھل کر گزر رہے ہیں!وجہ کیا ہے ؟تو انہوں نے نہا یت متاثر کن جواب دیا کہ اصل میں میرا سا یہ کیونکہ پیچھے پڑ رہا ہے تو طلبا ء و طالبات یہ نہیں چا ہتے کہ انکا پا ئوں انکے استاد محترم کے سائے پر بھی پڑے “اسی طرح ہم اکثر یہ پڑھتے ہیں کہ جاپان میں ہی کسی بھی عدالت میں کرسی صرف استاد کو پیش کی جا تی ہے ،امریکہ کو دیکھا جائے تو وہاں تین قسم کے لوگوں کو عزت دی جا تی ہے اور وہ وی آئی پی کا درجہ رکھتے ہیں ا ن میں معذور ،سا ئنسدان اور ٹیچر شامل ہیں ، اسی طرح فرانس کی عدالت میں ٹیچر کو وی آئی پی پرٹوکول دیا جا تا ہے ،کوریا میں استاد کو ہر وہ سہولت ملتی ہے جو وزیراعظم ، وزراء کو ملتی ہیں ،دنیا میں ترقی کرنے والی اقوام کی عادات کو دیکھا جا ئے تو ان میں انصاف اور بنیاد ی حقوق کی فراہمی کے ساتھ سا تھ استاد کی عزت و تکریم بڑی وجہ نکلتی ہے جو انکوترقی کے زینے پر لے گئی !استا د کی عزت پر احادیث مبا رکہ،صحابہ کرام کے اقوال ،
حکایا ت جا بجا موجو د ہیں !لیکن ان سب کے با وجود وطن عزیز میں اگر کوئی طبقہ محرومیوں کا شکا ر ہے تو وہ تعلیمی
نظا م سے جڑے سرکا ری اسا تذہ کرام ہیں !

پاکستان کے نامور ما ہر اقتصا دیا ت ڈاکٹر سلیم جو اعلی ترین عہدوں پر کام کر چکے ہیں ، پاکستان کیلئے انکی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں!وہ اور نا چیز دونوں ایک اعلیٰ تھنک ٹینک میں ساتھی ہیں ، وہ پاکستان میں دکھی انسا نیت کیلئے کام بھی کرتے ہیں ، انہوں نے اس فورم پر پنجاب میں ریٹا ئرڈ اسا تذہ کے مسا ئل کے حوالے سے ایک پوسٹ کی جس پر میں نے ان سے درخو ست کی کہ اگر وہ اس پر بریف کریں تو میں اس قلم اٹھاکر اپنے حصے کو کام ضرور کرونگا !یہاں میں یہ لکھتا چلوں کہ مجھے یقین ہے کہ یہ سطور پڑھتے ہی چا رشخصیا ت میں سے کو ئی نہ کو ئی اس معا ملے کو حل کر دینگی اور اس
پراگرس سے بھی آگا ہ کر دینگی ، ان میں سے ایک تو جناب وز یرا علیٰ پنجا ب جنا ب میا ں شہبا ز شریف ہیں دوسری محترمہ مریم نواز صا حبہ ، تیسرے جناب کرنل سیف الدین قریشی اور چوتھے میرے بڑے بھا ئی اور سرپرست محترم معظم انور چو ہدری صاحب جو کہ محترمہ کے رائٹ ہینڈ ہیں اور ن لیگ کے قابل ترین افراد میں سے ایک ہیں !

قارئین کرام !
ڈاکٹرسلیم بتا تے ہیں کہ پنجا ب میں جن اساتذہ کرام نے اپنی جوانیاں اور قیمتی وقت اس قوم اور صوبے کی کردار ساز کو دیا آج وہ نہا یت کسمپرسی اور حکومت کی عدم توجہی کا شکا ر ہیں ، وہ بتا تے ہیں کہ وہ راولپنڈی میں ہزاروں کی تعداد میں استاد اور استانیاں پینشن اور گریجویٹی سے عرصہ دراز سے محروم ہیں ، کئی ایک تو بڑھا پے میں بینکوں کے چکر لگانے پر مجبو ر ہیں ، اکثر کے گھروں میں نوبت فا قوں تک آگئی ہے ، کئی ایک کی بچیوں کی پینشن اور گریجویٹی نہ ملنے کے با عث شادیاں ٹوٹ چکی ہیں ۔ کئی ایک کی جمع پو نجی موذی امراض کے علا ج اور آپریشن پر لگ گئی اور اب انکا کل سہارا یہ پینشن ہی ہے !ڈاکٹر سلیم جو NDFکے فعال ممبر ہیں کے پاس ایسے بہت سار ے ضرورت مندوں مگر سفید پوش اسا تذہ کا ڈیٹا ہے جن پر توجہ نہ دی گئی تووہ بھیک مانگ کر گز ارہ کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں !وہ بڑے افسردہ لہجے میں شکوہ کرتے ہیں کہ جن اساتذہ کرام کی بدولت ہم سب اچھی پوسٹوں پر ہیں وہ آج عدم تحفظ کا شکا ر ہیں ۔

ان کی آواز بلند کرنا ہم سب کی زمہ داری ہے ، اور یہاں تو خادم اعلیٰ وزیر اعلی ٰ پنجا ب میا ں شہبا ز شریف کی تو اساتذہ کرام کے عزت و تکریم کے حوالے سے کئی سنہری با تیں موجود ہیں اس کے با وجود نجا نے کیوں پنجا ب میں ان اسا تذہ کو تکلیف اور مسائل کا سامنا کیوں ہے ؟جس طرح سے کسی بھی ملک میں ترقی کیلئے انفرا سٹرکچر ضروری ہے اسی طرح ہیو من ریسورس کی ڈویلپمنٹ بھی نہایت ضروری ہے !محترمہ مریم نواز شریف تو پاکستا ن میں تعلیم کی غیر اعلانیہ سفیر ہیں ، انکی اسلام آباد کے سکولوں کی اپ گریڈیشن ، انمیں سہولیات کی فراہمی اور سکول کے نونہالوں کے سفری تقاضوں کیلئے اربوں روپے مختص کئے ہیں ، یقینا مریم بی بی بھی پنجا ب اور اگر پنجا ب سے با ہر کسی اور صوبے میں بھی اساتذہ کرام کسی مسئلے کا شکا ر ہیں تو وہ اس کے حل کیلئے وزیراعظم کو حرکت میں لا ئینگی !

اسی طرح ڈاکٹر سلیم نے ایک او ر مسئلے کی طرف نشاندھی کی اور کہا کہ اسلام آبا دکے سرکا ری ہسپتالوں میں ٹیسٹوں کی سہولیا ت نہیں ہیں ، جب کو ئی خیراتی ہسپتال کسی مریض کو دا خل کرتا ہے تو اسکو ہزاروں روپے مالیت کے طبی ٹیسٹ کرانا پڑھتے ہیں ، انہوں نے اس پر کہا کہ انکے پاس ایسے لوگ موجود ہیں جو ہسپتال کے اندر مشینیں لگا کر سستے ٹیسٹ نو پرافٹ نو لاس پر کر سکتے ہیں ، اس پر میں نے پروپو زل بھی دی لیکن کسی نے اس پر دھیان نہیں دھرے ، میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے ہما ری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے درمیان اسلا م آبا دکے سرکاری ہسپتالوں کے وفاق کی طرف سے دیکھ بھا ل کرنے والے خواجہ ظہیر موجود ہیں جو اس اہم ترین ایشو پر یقینا گہری نگا ہ بھی رکھتے ہو نگے ، یہ سچ ہے کہ سرکا ری ہسپتالوں میں جو حشر غریب مریضوں کا ہو تا ہے وہ کسی مذبحہ خانے میں کسی جا نور کا بھی نہیں ہو تا ہوگا۔ یہ حکومت کا بنیا دی فرض ہے کہ وہ تعلیم اور صحت کی سہولیا ت عوام کو فراہم کرے ۔ اگر چہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے پو رے ملک میں معیاری ہسپتالوں کی تعمیرکا اعلان کیا ہے اور اس پر عمل بھی ہورہا ہے لیکن وفاق ااور صوبوں کو سرکا ری ہسپتالوں کو فو کس کرنا ہو گا !