21

بدل دو

میرے دماغ کے کسی گوشے میں اس وقت یوم مزدور کاخیال آیا جب میں سوچ رہا تھا کہ کیوں نہ دو چھٹیوں کی وجہ سے میں اپنے گھر کا کچھ کام کرا لوں چھٹیوں کی وجہ کا تعین ہوا تو ایک چھٹی تو ان لوگوں کے لیے مختص تھی جن سے میں کام لینا چاہتا تھا میں نے فوراً اپنافیصلہ بدلتے ہوئے ایک نیا فیصلہ کر لیا تھا کہ کیوں گھر سے باہر نکلا جا ہے کسی دوست کے ساتھ کھانے کا اہتمام ہو جائے گھر سے نکلا قریبی مصروف چوک میں پہنچا تو گینتی، بیلچے ایک ترتیب سے زمیں پر رکھے ہوئے تھے.

ان کے بالکل سامنے کچھ لوگ ایسے زمین پر بیٹھے تھے جیسے ان کے سامنے کھانا رکھا ہو لیکن کسی انتظار کی وجہ سے کھا نہ پا رہے ہوں گاڑی پر بیٹھ کر کچھ آگے گیا تو اسلام آباد کے معروف شاپنگ سنٹر سنٹوریس پر کچھ لوگ لٹک رہے تھے کسی کام میں مصروف تھے کوئی پوسٹر لگایا جا رہا تھا.

ڈیو کی بوتل کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا جس سے اندازہ ہو رہا تھا کے معروف کولڈ ڈرنک ڈیو کا پوسٹر چسپا کیا جا رہا ہے سوچا کہ دن میں یہ ایک آدمی کتنی بوتلیں پیتا ہو گا.

اسی اثنا میں مجھے یاد آیا جب مجھے ایک سیمنٹ فیکٹری کے پری ہیٹر پر کام کرنے کا اتفاق ہوا تھا مجھے تو اتنی اونچائی پر جا کر چکر آرہے تھے معذرت کرتے ہوئے چاروں طرف جنگلے ہونے کےباوجود بھی پیٹ کہ بل پیچھے ہٹتے ہوئے لفٹ تک پہنچا تھا لیکن یہ کون لوگ تھے جو ڈیوکااشتہارچسپاں کرر ہے تھے.

ان کو ملتا کیا ہو گا بس دو وقت کی روٹی وہ بھی سوکھی ،وہاں سے ان کو کیا ملا جس بلڈنگ کی بیسمنٹ میں ان کا خون اور چھت پر پسینہ ایسے بہہ گیا جیسے کسی نالے میں پانی ۔۔

اس کے بدلے میں نے پورے شہر کا جائزہ لینے کی کوشش کی کہ کہیں مجھے کوئی لیبر سوسائٹی ملے ،کہیں لیبر ہاسپٹل ملے کہیں کوئی ایسا سکول ملے جہاں مزدور کا بچہ اچھی تعلیم حاصل کر سکے کوئی کوشش کوئی نیت ،کوئی عزت یا کوئی قدر ملےلیکن ہر زاویے سے مایوسی ہوئی ۔

مجھے ملی تو مزدور کی محنت،مشقت کوشش نیت اور وفاداری ملی ۔مجھے دنیا کے ہر مشکل کام میں مزدور کا سب سے اہم کردارنظر آیا اس کردار کے ساتھ محنت اور وفاداری کو دیکھ کہ یوں محسوس ہوا کہ کیوں نہیں کھول دی جاتی تجوریاں ان کے لیےجب گرتے ہیں تھکن سے جب روتے ہیں بے بسی سے جب سوتے ہیں خوف سے جب صبع اٹھتے ہیں گھبراہٹ سے۔جب یہ کھاتے ہیں حساب سے جب پرانا پھٹا پہنتے ہیں فخر سے سنتا دیکھتا اور پہچانتاکیوں نہیں کوئی۔۔

مجھےاحساس ہوگیا تھا کہ لوگ چھٹی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں شاہد شام کو کھانا نہ پک پائے، شاید ان میں سے کتنے صبع اپنے بچے کو اس لیے روتا چھوڑ آئے ہوں کہ اس کے پاس کچی پنسل نہ ہو اور استاد محترم کا ڈر بھی ہو۔شاہد یوم مزدور پر کسی نے بچوں کو گوشت کھلانے کا وعد ہ کر دیا ہو حالانکہ گھر سے نکلتے وقت یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کام ملے گا بھی کہ نہیں ۔

اب میں نے سرکاری دفاتر، افسران، ساستدان اورسرمایاداروں کو بھی دیھکنا چاہا رہا تھاسوچا شاہد آج کے دن کسی دفتر میں مزدور کے لیے کوئی پالیسی بن رہی ہو گی تمام دفاترکو بند پایا سرمایہ د اروں کے ہاں لوگ کام میں مصروف نظر آئےجبکہ سیاستدانوں کی تقاریر سنیں تو ایک سے ایک بڑا دعوی تھا.

پتہ نہیں کیوں میں ایسی امید لگابیٹھا کہ شاہد شام تک تمام سرکاری افسران کی آج کے دن کی تنخواہ مزدور کو دینے کا حکومتی فیصلہ سامنے آ جائے.شاید شام کے وقت شہر کے کسی مشہور ریسٹورنٹ کو مزدور اور ان کے بچوں کے کھانے کے لیے بک کر دیا جائے شاید کوہی ایسا بازار لگا دیا جائے کہ جہاں سے مفت شاپنگ ہو جائے شاید کسی ایسے فیسٹول کا بندوبست کیا جا ہے کہ ان کے بچے بھی کچھ نئی چیزیں دیکھ پائیں،

لیکن ماسواہے چھٹی انجوائے کرنے کے کچھ نہ تھا موسم اچھا اور ریسٹورنٹس پر رش اور خوش گپیاں تھیں ۔

کوئی امریکہ پاکستان کے تعلقات کی بات کر رہا تھا تو کوئی انڈیا روس کی، کوئی نواز شریف کا دفاع کر رہا تھاتو کوئی عمران خان کا ۔کوئی زرداری کی دولت کا تذکرہ تو کوئی سراج الحق کی سادگی، کوئی مشرف کی وفاداری اور کوئی الطاف حسین کی غدداری۔۔
مگر کسی کو خیال نہ آیا تو مزدور کا.