Syed Hamad Gilani copy

چائلڈ لیبر

اوائل گرمیوں کی اداس اونگھتی سی صبح درختوں پر چڑیوں اور کوؤں کا شور ۔لان کا سبزہ ابھی پورے جوبن پر نہیں تھا۔۔۔کہیں کہیں پیلی مرجھائی گھاس پر چمکتی دھوپ۔ بڑے عرصے بعد گھر میں صبح کا یہ منظر میں دیکھ رہا تھا۔ورنہ تو دفتر جانے کی جلدی ناشتے کی جلدی تیاری کی جلدی میں فرصت ہی نہ ملتی تھی کہ صبح کبھی تسلی سے اٹھوں۔۔۔

دروازے کی گھنٹی بجنے کی آواز پر میں چونک گیا اور خیالات کی دنیا سے باہر نکلتے ہی ذرا آگے ہو کر جھانکا۔۔ایک جانی پہچانی صورت دروازے کے باہر کھڑی نظر آئی۔میں نے بغور دیکھا۔۔وہی تھی ہاں بالکل وہی تھی۔۔وہی چال۔۔اسی طرح سر کو ہلکا سا ٹیڑھا کر کہ چلنے کا انداز۔۔چھوٹے چھوٹے تیز قدم۔۔جن کی دھمک جھاڑوں کی آواز کے ساتھ مل کر ایک ناقابل برداشت شور کی سی کیفیت پیدا کر دیتی تھی۔۔اسے ہمارے ہاں کام کرتے کئی سال ہو گئے تھے۔۔مگر دو ماہ پہلے وہ کسے دوسرے علاقے میں شفٹ ہونے کی وجہ سے کام چھوڑ کر جا چکی تھی۔۔
میں نے جا کر دروازہ کھولا ۔۔مہرو نے لب بھینچ کر اپنے آنسو چھپانے کی کوشش کی اور مجھے سلام کیا۔۔اگلے چند لمحے میں وہ گھر کے اندر بیٹھ کر اس انداز سے رو تی چلی جا رہی تھی جیسے زندگی کے سارے آنسو اس نے آج کی صبح کے لیے ہی بچا کر رکھے تھے۔۔صاحب۔!میں نے اس دن صبح ہی کرم دین سے کہا تھا کہ پتر آج اپنی تنخواہ ضرور لے آنا۔۔۔کرمو کا ابا بھی یہ سن کر زور سے پکارا۔۔۔کام لیتے وقت تو تھکتا نہیں ہوٹل والا اور تنخوا ہ دیتے وقت ہاتھ ٹوٹتے نہیں مرن جوگے کے۔۔دس دن اوپر ہو گئے ہیں مجال ہے جو تنخوا کے پیسے نکالتا ہو۔۔

کرمو جانتا تھا کہ گھر میں راشن ختم ہوئے کئی روز گزر چکے ہیں۔۔۔باپ کی دوائیوں کے لئے ادھار لیے پیسے بھی چکانے ہیں۔۔مگر وہ بے چارہ مجبور تھا۔وہ سارا دن خاموشی سے ہوٹل پر کام کیے جاتا تھا۔۔مالک دو وقت کی روٹی گالیوں کی چٹنی کے ساتھ اسے دے دیتا تھا۔۔اور پچھلے مہینے کے آخر میں تین ہزار روپے بھی دیے تھے۔۔کرموکا ہر روز ایسا ہی گزرتا تھا۔۔ہاں جب کبھی مالک کہیں دور جانے کی تیاری کرتا تو اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ضرور آتی تھی۔۔چپ چاپ۔۔وہ اسے جاتے دیکھتا رہتا۔۔اور پھر اچانک اٹھ کر بچ جانے والا سالن اور گوشت کے چند ٹکڑے شاپنگ بیگ میں ڈال کر گھر کی راہ لیتا۔۔۔اس روز سب خوش ہوتے اورگھر میں رونق سی لگ جاتی۔۔

صاحب ۔!اس دن بارش زوروں پر تھی۔۔آخر کو وہ بھی بچہ ہی ہے نا۔۔کیا ہوتا اگر وہ آج نہ جاتا۔۔مگر اسے گھر کے حالات کا پتہ تھا ۔۔وہ چلا گیا۔۔شام گزری،رات نے بستی پر اپنا چولا پھیلا دیا مگر کرمو نہ آیا۔۔میں ماں کی مامتا کی ماری بار بار دروازے کی طرف دیکھتی رہی مگر وہ آنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔انتظار کی اس کالی،برستی رات میں کرمو نہ جانا کہاں ہو گا۔۔صاحب۔!ماں ہوں ۔رہا نہ گیا۔۔کرمو کے ابا تم پریشان نہ ہونا میں ہوٹل تک دیکھ آتی ہوں۔۔

اللہ خیر کرے۔۔کرمو کا ابا بولا۔۔میں بھاگم بھاگ ہوٹل پر پہنچی تو ایک قیامت منتظر تھی۔۔ہوٹل کے مالک کو چند لوگوں نے پکڑ رکھا تھا جبکہ کرم دین کا کوئی پتا نہ تھا۔۔مجھے لگا سارا شہر سنسان ہو گیا ہے۔۔میں لڑکھڑا کر بیٹھ گئی۔۔جانے کس نے سہارا دے کر پاس ہی دکان کے برآمدے تک پہنچایا۔۔وہاں موجود لوگوں تک خبر شاید پہنچ چکی تھی۔۔کسی نے پکارا کرمو کی ماں۔۔یہ سنتے ہی سب اسے ڈھیر تسلیاں دینے لگے۔۔میں ان کے چہروں کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے کرمو ان ہی میں سے کوئی ایک ہے اور ابھی ماں کہہ کر گلے سے لپٹ جائے گا۔۔

وقت گزرتا جا رہا تھا۔۔مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے زمانے گزر گئے ہیں۔۔میں کرمو کے انتظار میں بیٹھی ہوں جانے کتنی صدیوں سے۔۔پھر اچانک ہی جیسے پتھر میں جان پڑ گئی۔۔میں نے کسی کی آواز سنی۔۔ کرمو آ گیا۔۔میں پلٹ کر اس طرف دیکھنے لگی۔۔مگر یہ کیا ؟کرم دین تو پاؤں پر چل کر گیا تھا۔یہ چارپائی پر کیوں لیٹا آ رہا ہے۔۔اس کے کپڑے میلے تو ضرور تھے مگر اتنے بڑے سرخ دھبے تو نہ پڑے تھے۔۔۔

ماں۔۔!آ گیا تو پتر۔۔۔کرمو آ گیا۔۔؟ہاں ماں آ گیا۔تو ٹھیک ہے نا۔۔؟میں شادی مرگ کی سی کیفیت میں اس سے لپٹ گئی۔۔ماں ۔۔!مالک نے آج بھی تنخوا دینے سے انکار کر دیا تھا۔۔مجھے ابا کی دوائی اور راشن لانا تھا۔۔میں اس کے غلے سے پیسے لے کر بھاگا۔۔اس نے بھاگتے بھاگتے میری ٹانگوں پر بندوق چلا دی ۔۔
میرے آنسو دھیرے دھیرے پلکوں کا ساتھ چھوڑ کر نیچے گر رہے تھے۔کرمو کی ماں بولی۔۔صاحب ۔!بارش رکے آج ایک ہفتہ ہو گیا۔کرم دین کا علاج تین چار دن تو آس پاس کے لوگ چندے سے کراتے رہے مگر اب تین دن سے اس کے زخم صاف کر کہ دھونے اور پٹی تبدیل کرنے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں۔۔ڈاکٹر نے کرمو کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے اپریشن بتا یا ہے ۔۔جس پر پانچ لاکھ کا خرچہ آئے گا۔۔۔
یہ صرف ایک کرم دین کی کہانی نہیں۔ایسے بے شمار کردار ہمارے آس پاس موجود ہیں۔فاقہ کشی کی اذیت سے بچنے کے لئے معصوم بچے ہر گلی محلے میں کام کرتے نظر آئیں گے۔اجرت کے طور پر ملنے والے چند روپوں کی خاطر یہ بچے طرح طرح کے مسائل کا سامنے کرتے ہیں۔جہاں غربت ،بھوک اور وسائل کی عدم دستیابی ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے وہاں کرمو کی طرح کے لاکھوں بچے انتقام اور شدت کا جذبہ لے کر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ان بچوں کے نصیب میں کرم دین کی طرح بے اعتنائیاں ہیں،نظر اندازیاں ہیں۔
کسی کو فرصت نہیں ہے کہ وہ ان کے غموں میں شریک ہو سکے۔کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے معاشرے کی تمام ہمدردیاں زہر آلود بجلی اچک کر لے گئی ہے۔۔کیسے منظر ہوں گے جب ماں کی ممتا کی ماری مہرو بھوک کے بلبلاتے وحشی قہقوں کے ساتھ ساتھ معزور بیٹے اور اس کے لاچار باپ کر تڑپتا،سسکتا اور آئیں لیتا ہوا دیکھتی ہو گی۔یقیناً اس کے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھتے ہوں گے اور وہ بے اختیار پکارتی ہو گی کہ اب کوئی عمر جیسا بھی حکمران نہیں جو اندھیر ی رات میں بھوک سے تڑپتے بچوں کی فریاد سن سکے۔

ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا ناسور اس وقت وہ بچے ہیں جو چوک چوراہوں میں،گلی محلوں میں،گاڑیوں کے اڈوں پر اور منڈیوں میں ٹھیلوں پر مزدوری کرتے ہیں یا بھیگ مانگتے ہیں۔یہ بچے ہمارے سماج مین مظلومیت کی سب سے بڑی تصویر ہیں۔یہ بچے گھر کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے بد نیت نظروں کا سامنا کر کہ جنسی درندگی کا شکار ہو جاتے ہیں مگر خاموش رہتے ہیں۔یہ معصوم روٹی کے چند ٹکڑوں کی خاطر اپنی عصمتوں کی قربانی دے دیتے ہیں مگر لب نہیں کھولتے۔سماج کے چہرے پر کلنک کے یہ ٹیکے اور ضمیر جھنجھوڑنے والے کرمو کے جیسے واقعات ایک لمحے کو ہمار ی توجہ تو ضرور حاصل کرتے ہیں مگر اگلے ہی لمحے بھول بھلیوں میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں۔

سماج کے یہ زخم خوردہ پھول جب جوانی کی دہلیز کو پار کر جائیں گے تو ان کے انتقام کو کون ٹھنڈا کرے گا۔۔؟یہ معاشرے ان کے انتقام کا شکار ہو کر کئی اور ان جیسے ہی کردار پیدا کر دے گا۔اور یہ سب اس قدر تیزی سے ہوتا چلا جا رہا ہے کہ جرم کی درجنوں داستانوں کے مرکزی کردار معاشرے کے ہاتھوں پسے ایسے لوگ ہی ہوتے ہیں۔

ترقی کے اس دور میں انسانی دانش و شعور سیاروں و ستاروں کو مسخر کرتے کہیں آگے جانے کی جستجو میں ہے لیکن ہمارے ملک میں چائلڈ لیبر تک کے بنیادی قوانین فائلوں سے نکلنے کو تیار نہیں ہیں۔یوں معصوم زندگیوں کے آخری سانس تک اپنی سنگینیوں کا احساس دلائے چلے جانے والے واقعات آج کے ترقی یافتہ دور کا المیہ کیوں ہیں۔؟اس خون آشام مسئلے کے حل کی طرف توجہ نہ دی گئی تو اس کی آگ کی لپیٹ سے کوئی نہیں بچ سکے گا۔حکومت اور سول سوسائٹی کو مل کر چائلڈ لیبر کو ختم کرنے کی طرف پیش قدمی کرنی ہو گی ورنہ مہرو کہ طرح کی ہزاروں ماؤں کے دکھ سمیٹنے کو کندھے کم ہو جائیں گے۔آخر میں میں یہ سوال آپ کے لئے چھوڑے جا رہا ہوں کہ کرم دین کی معذوری اور غربت کا ذمہ دار کون ہے؟یہ معاشرہ،حکومت یا اس کے والدین؟